Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گردوں کا عالمی دن…….”گردوے کا جڑواں بھائی مردہ”………عاتکہ آفتاب

Posted on
شیئر کریں:

جب میں نے آنکھیں کھولی تو نیم تاریک سا ایک کمرہ تھا جہاں ہر طرف سے ایک ہی صدا بلند ہورہی تھی “گردہ گردہ” زرا ہوش سنبھالنے پر معلوم ہوا یہ اسم مبارک میرا تھا۔ میری جائے پیدائش کو پیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے میری اوپری منزل میں چچا “جگر” رہتے تھے ان سے زرا اوپر مقام حضرت دل کا تھا جنھیں ادب سے میں بھائی کہتا تھا میرے بائیں جانب معدہ ماموں اور ان کی پڑوس میں آنتیں رہتی تھیں جن سے میرا مستقل اور مسلسل رابطہ رہتا تھا مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ میرا ایک جڑواں بھائی بھی ہے جو پیٹ کے دوسری طرف رہتا ہے۔ میں اپنی دنیا میں مست تھا کیونکہ میری حفاظت کے لیے پسلی کی آخری دو ہڈیاں ہمہ وقت موجود رہتی تھیں۔جب دوسروں کے خدوخال پر نظر دوڑائی تو اپنا آپ یاد آیا نگاہ شوق نے اپنا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ میری جسمانی بناوٹ لوبیے کے دانے جیسی ہیمیرا قد اور وزن گھٹے ہیں اور نہ ہی بڑھے ہیں میری اونچائی وہی 10 سینٹی میٹر اور وزن وہی 120 گرام ہیمیں گہرے لال رنگ کا گردہ سب کا چہیتا تھا۔
.
سب عرق ریزی سے کام کرتے تھے میں سیاہ مست ادھر ادھر تکتا سوچ رہا تھا کہ مجھے کوئی زمہ داری کیوں نہیں سونپی جارہی ہے اتنے میں نیوران نامی ڈاکیہ دماغ بابا کا پیغام لے پہنچا میں چونک گیا کیونکہ دماغ بابا جسم نامی اس سلطنت کا اکیلا حاکم تھا۔ وہ خط میں نے جھٹ سے کھولا تحریر کچھ یوں تھی کہ؛
” پیارے گردے!
جیسا کہ تمھیں معلوم ہوا ہوگا کہ یہاں ایک خاص نظم و ضبط کے تحت کام ہوتے ہیں اور سب اسی قاعدے کے پابند ہیں اس لیے تمہارے ذمے بھی کچھ معاملات کیے جاتے ہیں؛ پہلا یہ کہ جسم میں ہر وقت خون گردش کرتا ہے اور جگہ جگہ سے فاسد مادے اور خطرناک اجزاء اٹھاتا ہے جب وہ تمہارے پاس پہنچے تو تم وہ فاسد مادے اپنے پاس رکھ لینا اور خون کو صاف کرکے چھوڑ دینا ۔ دوسرا یہ کہ اگر ان فاسد مادوں میں تمھیں معدنیات اور نمکیات مل جائیں تو اپنے پاس رکھ لینا برے وقتوں میں کام آئیں گی۔ اور ہاں سنو! میں اپنی ریاست کی سب سے اہم اور ضروری کام تمہیں سونپ رہا ہوں تمہاری زرا سی غفلت میری ریاست کو تباہ کرسکتی ہے۔ کوئی مشکل پیش آئے تو خط لکھنا”

میں اسی وقت سے کام پر لگ گیا اور بڑے ذوق و شوق سے اپنا کام نہایت ایمانداری کے ساتھ کرنے لگا۔ کام کرتے کرتے بہت سی چیزوں سے واقف ہوا اور کئی دوست میں نے بنائے اورکچھ عناصر خواہ مخواہ میرے دشمن بن گئے۔دوستوں میں سب سے اچھا پانی تھا وہ ہر روز مجھ سے ملنے آتا تھااور میری صحت کا بھرپور خیال رکھتا تھا۔ جو چیزیں میری صحت کے خلاف ہوتی تھیں یہ مسیحا ان کو دور لے جاتا تھا۔
.
ایک وقت بہت سخت تھا جب صاحب اعلی بھوک یا کسی اور وجہ سے مجھے اونے پونے بیچنے کی باتیں کررہا تھا یہ خبر بہت قریبی زرائع سے معلوم ہوا تھا اس لیے میں نے حاکمِ ریاست کو اس مذموم ارادے سے اگاہ کیا تو اس دربار سے بھی مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا کیونکہ وہ مشورہ بھی حاکم یعنی دماغ کا تھا مجھے خود کو بچانا تھا لہذا فورا اپنے بھائی “دل” سے رابطہ کیا انہوں نے صاحب اعلی کو سمجحایا کہ گردے بیچنے کے علاوہ بھی بہت کام ہیں جن کو انجام دینے سے مصیبت سے چھٹکارہ پایا جاسکتا ہے اس لیے میری جان بخشی گئی۔
.
وقت گزرتا گیا اور زندگی کی گاڑی چلتی رہی ایک دن اس عادیِ کفرانِ نعمت انسان نے کچھ جیزیں جسم میں داخل کی جنھیں میں پہلی بار دیکھ رہا تھا وہ چیزیں ہمارے درمیان کیا آئی کہ ہماری دنیا ہی لٹ گئی اس کے بعد سب کچھ بدلنے لگا پانی نے بھی مجھ سے ملنا کم کردیا۔میں روز بہ روز کمزور ہونے لگا اور اوپر سے جسم میں زرا سی گڑبڑ ہوتی نہیں تھی کہ انسان دوائی کھا لیتا تھا اور پانی کم پیتا تھا جس سے میری تکلیف میں اضافہ ہوتا جارہا تھا میری طبیعت بھی حضرت انسان کے کارناموں کی وجہ سے خراب رہنے لگی دواؤں، مضر صحت اشیا، شراب نوشی وغیرہ کی کثرت اور پانی کی قلت نے مجھے کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا بنا دیا تھا انسان نے میری کمزوری کو محسوس نہیں کیا اسی اثنا میرے اندر چھوٹی چھوٹی پتھریاں بھی پیدا ہوگئی تھیں اسی طرح تڑپتے تڑپتے میں شدید بیمار پڑ گیا حتٰی کہ میں بے ہوش ہوگیا میری بے ہوشی اس حضرت انسان کی بے ہوشی تھی تب کہیں جاکر میرے مالک کو معائنے کا خیال آیا پتہ چلا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ جب ہوش آیا تو ایک عجیب ماحول میں خود کو پایا یہ نہ میری جائے پیدائش تھی اور نہ ہی جائے وقوعہ بلکہ ایک سرد، سخت اور بے جان یعنی اسٹیل کی طشتری تھی اب مجھے پتہ چلا کہ مجھے اپنے منصب سے سبکدوش کیا گیا ہے ۔میں اپنے سارے دوستوں سے اوجھل ہوں اور آخری سانسیں گننے لگا ہوں۔
.
12 مارچ کو میرا عالمی دن ہے اس کو صرف دن نہ سمجھا جائے نہ لمبی لمبی تقریریں کرنے کی ضرورت ہے اگر کسی چیز کی ضرورت ہے وہ ہے اگاہی ہر طرف اگاہی پھیلائی جائے میرے دشمن اور دوستوں کے متعلق سب کو بتا دیا جائے تاکہ کوئی اور گردہ اسٹیل کی طشتری تک نہ پہنچے۔ کیونکہ جہاں انسان نے میری قدر کرنے میں ناکام ہوا وہاں میں زندگی کے امتحان میں۔
.
.تحریر: عاتکہ آفتاب
آغا خان ہائر سیکنڈری سکول کوراغ


شیئر کریں: