Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ………. بارودی سرنگیں ………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

خبر آئی ہے کہ دہشت گردی پر قا بو پا نے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے قبا ئلی علاقوں میں بارودی سرنگو ں کی صفا ئی کا کام جاری رکھا ہوا ہے پا ک فوج کے 80 ٹیمیں اس کام میں لگی ہوئی ہیں 32ٹیمیں جنو بی وزیرستان میں 18ٹیمیں شما لی وزیر ستان میں کام کر رہی ہیں 30ٹیموں کو خیبر،کرم، اورکزی با جوڑ اور مہمند میں اس کام پر لگا دیاگیا ہے گزشتہ ڈیڑ ھ سال کے دوران 39فیصد کام ہو چکا ہے 61فیصد بارودی سر نگیں اب بھی مو جود ہیں بارودی سرنگ چھپا ہوا دشمن ہے جو بھیڑ چرانے والے چرواہے کو بھی ماردیتا ہے چارہ لانے والی بڑھیا کو بھی اڑا دیتا ہے سکول جانے والے بچوں اور بچیوں کو بھی ماردیتا ہے اور گھر سے باہر نکل کر چہل قدمی کرنے والے عام شہری کو بھی نہیں بخشتا الغرض یہ ایسی بلا ہے جو گاوں کی زندگی کو عذاب بنا دیتی ہے اس عذاب سے گاوں میں کسی کی جان بھی محفوظ نہیں دشمن نے انتہائی مکاری کے ساتھ زمین کو کھود کر اس میں بموں کی پوری فضل کاشت کر رکھی ہے یہ ایسے بم ہیں جن کے اوپر پاوں پڑتے ہی پھٹ جا تے ہیں یہ وہ بم ہیں جو زائد المیعاد نہیں ہوتے 10سال بعد آج کی طرح ترو تازہ رہتے ہیں خود کش جیکٹ کی طرح ان کا کوئی بٹن نہیں ہو تا آئی ای ڈی کی طرح پیچیدہ عمل کے متقاضی نہیں ہوتے دشمن ایک بار مکا ری کے ساتھ ان کو زمین کے نیچے چھپا تا ہے اور خود چلا جا تا ہے اس کو معلوم ہے کہ یہ بم کسی بھی وقت اپنا کام دکھا ئینگے افغا نستان کے اندر سویت افواج کی طرف سے امریکیوں کے لئے بچھا ئی ہوئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں 7سال لگے تھے وہ بھی امریکہ کی جدید ٹیکنا لو جی کی مدد سے صاف ہوئے ویت نا م کی جنگ ختم ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے ما ہرین کی ٹیموں نے 5سال لگا کر بارودی سرنگوں کو صاف کیا تھا پا کستان کے قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگیں بچھاتے وقت عالمی برادری کی جو دلچسپی تھی اب وہ دلچسپی ختم ہوگئی ان سرنگوں کو صاف کرنے میں ہماری مسلح افواج کو نہ امریکہ کا تعاون حا صل ہے نہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی خد مات حا صل ہیں پرانی فلم کی کہانی میں ایک گیت کے بول یوں تھے ”نہ گاڑی ہے نہ گھوڑا ہے وہاں پیدل ہی جا نا ہے“ بارودی سرنگیں بچھا تے وقت سب لوگ دشمنوں کا ساتھ دے رہے تھے اب ان سرنگوں کو صاف کرنے کا مر حلہ آیا ہے تو پاک فوج کو اکیلے ہی اس عفریت سے نبر د آزما ہونا پڑ رہاہے اگر بغور جا ئزہ لیا جائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں نے اب تک چار اہم مرا حل سر کئے پہلا مر حلہ قبا ئلی علا قوں میں چھپے ہوئے دشمنوں کو باہر نکا لنے کا تھا دوسرا مر حلہ دشمن کے ساتھ مل کر لڑ نے والے قبا ئلی نو جوا نوں کو وطن کی حفا ظت پر اما دہ کرنے کا تھا تیسرا مر حلہ افغا نستان کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنا تھا، چوتھا مرحلہ پا ک افغا ن سرحد پر مستقل باڑ لگا کر سر حد کو دراندازوں سے محفوظ کرنے کا تھا اس کے ساتھ ساتھ پانچواں مر حلہ شروع ہوا ہے جو بارودی سرنگوں کی صفا ئی اور ان میں چھپے ہوئے بموں کو نا کارہ بنا نے کا مر حلہ ہے اور یہ انتہائی نا زک مر حلہ شما ر کیا جا تا ہے پا ک فوج اس پر مستعد ی کے ساتھ کا م کر رہی ہے 2006سے اب تک 3بار جنو بی اور شما لی وزیر ستان میں مختلف نو عیت کے کا موں پر متعین ہونے والے ایک افیسر نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے قرآن پا ک کی ایک آیت کا مفہوم اس علاقے میں جس طرح سمجھ آگیا اس طرح پہلے سمجھ نہیں آیا تھا پارہ 7سورہ انعام آیت نمبر 65کا ترجمہ ہے اللہ پاک اس پر قدرت رکھتا ہے کہ ”تمہارے سروں کے اوپر عذاب بھیجے یا تمہارے پاؤ ں کے نیچے سے عذاب بھیجے“ ڈرون حملہ اور جہازوں کے ذریعے بمباری سروں کے اوپر سے آنے والے عذاب الٰہی کی صورتیں تھی یہ عذاب افغا نستان پر اور پا کستان کے قبائلی علا قوں پر نا زل ہوئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا بارودی سرنگوں کے دھما کے پاوں کے نیچے سے آنے والے عذاب کی مثا لیں ہیں ان دھما کوں سے افغا نستان میں بے شمار بے گنا ہ شہری شہید یا معذور ہوئے ہمارے قبائلی علا قوں میں بھی کئی بے گناہ بچے، بوڑھے اور عورتیں ان دھما کوں کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے قبا ئلی علا قوں کا 39فیصد حصہ بارودی سرنگوں سے صاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نصف سے زیا دہ علا قہ اب بھی دشمن کی بچھا ئی ہوئی بارودی سرنگوں کی زد میں ہے پا ک فوج کو آنے والے وقتوں میں مزید جانفشانی کیساتھ محنت کر کے ان سرنگوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہو گی اس کا م میں جدید ترین اوزار کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھنے والے جو انوں کی ضرورت پڑتی ہے اور پا ک فوج اس کام میں خصو صی مہارت کا مظا ہرہ کر رہی ہے وہ دن دور نہیں جب قبائلی علاقوں کو بارودی سرنگوں سے پا ک کیا جائے گا اور قبائلی عوام بلا خوف خطر اپنے گھروں سے باہر نکل کر گھوم پھر سکینگے ؎
سفینہ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مُور نا تواں کا
ہزار مو جو ں کی ہو کشا کش مگر یہ دریا سے پار ہوگا


شیئر کریں: