Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پی ڈی کی نااہلی یا حکومتی ناکامی، چترال یونیورسٹی کیلئے لگائی گئی سیکشن فورختم کردیا گیا

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال یونیورسٹی کیلئے گرم چشمہ روڈ سے ملحق سین کے مقام پر زمین کی خریداری کیلئے لگائی گئی سیکشن فورکوختم کردیا گیاہے، زرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر/کلیکٹرلینڈایکوزیشن لوئرچترال نے ایک مراسلہ کے زریعے حکام بالاکو اگاہ کیا ہے کہ2اکتوبر2017 کو چترال یونیورسٹی کیلئے سین کے مقام پر چارسوکنال زمین کی خریدارای کیلئے سیکشن فورلگایا گیا تھامگردوسال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ زمین مالکان کو ادائیگی کیلئے مطلوبہ رقم مہیاکرنے سے قاصررہی۔ جبکہ ہائیرایجوکیشن کی طرف سے جاری ایک مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارہ کی طرف سے یونیورسٹی کیلئے سیدآباد کے مقام پر 166.02کنال زمین پہلے سے مہیا کی جاچکی ہے۔ لہذا مذکورہ سیکشن فورکو ڈی نوٹیفائی کیا گیا.
.
مختلف مکاتب فکرنے چترال ٹائمزڈاٹ کام سے گفتگوکرتے ہوئے سیکشن فور کی خاتمہ کو یونیورسٹی انتظامیہ خصوصی طور پر پراجیکٹ ڈائریکٹر کی ناکامی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ خطیررقم یونیورسٹی کیلئے ریلیز ہوچکے تھے مگرپی ڈی کی نااہلی کی بنا پر تاحال زمین کی خریداری ممکن نہ ہوسکی ۔ جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹرکا یہی کام تھا کہ وہ متعلقہ اداروں‌سے رابطہ کاری کرکے فنڈز کی دستیابی کو ممکن بناتے اورادائیگی کرکے زمینات اپنے قبضے میں‌لیتے مگروہ اس میں‌ناکام رہے .
.
اس سلسلے میں جب چترال کے منتخب ایم این اے مولانا عبد الاکبرچترالی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا توانھوں نے چترال ٹائمزڈاٹ کام کو بتایا کہ سیکشن فورکی ڈی نوٹفیکیشن یونیورسٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انھوں نےکہاکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی یہی ذمہ داری تھی کہ وہ مقررہ معیاد کے اندر لوگوں کو آدائیگی کا بندوبست کرکے زمین اپنے قبضے میں لیتے مگروہ ناکام رہے جس کی وجہ سے چترال کا ایک اہم منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔انھوں نے صوبائی حکومت سے چترال یونیورسٹی کیلئے اہل پی ڈی کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا۔
.
اس سلسلے میں جب چترال سے منتخب ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے سیکشن فور کی ڈی نوٹفیکشن کی تصدیق کرتے ہوئے پی ڈی کی نااہلی کے ساتھ صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے ان کے پاس نہ فنڈز ہیں اورنہ ویژن جس کیوجہ سے چترال کے بہت سے میگاپراجیکٹ تعطل کا شکار ہیں۔
.
وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے چترال ٹائمز ڈاٹ کام کو بتایا کہ فنڈز کیلئے انھوں نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرچکے ہیں بہت جلد یونیورسٹی کیلئے فنڈز کا بندوبست کیا جائیگا اوردوبارہ سیکشن فورلگاکر زمین ایکوائر کی جائیگی۔انھوں نے کہا کہ شروع میں یونیورسٹی کےپاس فنڈزموجودتھے مگرزمین مالکان عدالت سے رجوع کرنے کی وجہ سے ادائگی نہ ہوسکی تھی.مگربعد میں‌وہ کسی دوسرے مد میں‌استعمال ہوئے.
اس سلسلے میں پی ڈی چترال یونیورسٹی سے انکا موقف جاننے کیلئے باربارکوشش کے باوجود رابطہ نہ ہوسکا.
.
دریں اثنا چترال کے مختلف مکاتب فکر نے زمین کی خریداری میں ناکامی پر یونیورسٹی انتظامیہ اورصوبائی حکومت کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پی ٹی آئی حکومت تعلیم کو عام کرنے کی بلندوبالا دعویٰ کررہی ہے تودوسری طرف چترال جیسے پسماندہ علاقوں کے طلباو طالبات کے ساتھ یہ انتہائی ناانصافی ہے۔
uoch section 4 denotifed chitral


شیئر کریں: