Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسلام علیکم …………..تحریر:تقدیرہ خان

Posted on
شیئر کریں:

اسلام علیکم ایک سادہ، عام فہم اور پرتا ثیر کلمہ اور دعائیں ہی نہیں بلکہ انسانی تعلق ورشتے کی بنیاد بھی ہے۔ اسلام علیکم میں اپنائیت کا جذبہ ہے۔ آپ راہ چلتے کسی کو سلام کریں تو اُس کے دل میں اچھا احساس جا گزیں ہوتا ہے کہ سلام کہنے والا شخص اچھی نیت کا حامل اور صلح جو ہے۔
ہماری نبی ﷺ کا فرمان ہے ایک دوسرے کو سلام کرو تا کہ تمہارے دل صاف رہیں۔ یہاں تک فرمایا کہ جو مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام نہیں کرتا وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہمیں اس سے غرض نہیں۔ اسلامو فوبیا کا سب سے بہترین جواب اسلام علیکم ہی ہے۔ کسی بھی شخص کے چہرے پر اُسکا مذہب یا مسلک نہیں لکھا ہوتا اور نہ ہی اس کی شائستگی، اعلیٰ ظرفی، انسانی ہمدردی، اخلاقی یا علمی معیار کی کوئی تختی اُس کے گلے میں لٹکی ہوتی ہے۔
.
ہر انسان کے اعلیٰ اوصاف کی پہلی نشانی اُسکی زبان اور دوسری نظر ہے۔ جب بھی آپ کسی پر سلام پڑھتے ہیں اُس کا نفسیاتی اثر دونوں جانب یکساں ہوتا ہے۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ سلام کہنے میں پہل کرو۔ دین اسلام میں اسلام وعلیکم کی بڑی اہمیت ہے۔
اسلام وعلیکم، ھیلو، ہائے، ہاؤ ڈو، گڈ مارننگ، گڈ آفٹر نون، گڈ ایونگ، گڈن نائیٹ یا ھیواے گڈڈے کا متبادل نہیں اور نہ ہی ان الفاظ میں کوئی چاشنی، اپنائیت یا دعا کا عنصرموجود ہے۔ نمستے یا نمشکار، پخیر یا دیگر کلمات جن میں بیان کردہ انگریزی الفاظ بھی شامل ہیں صرف اُن لوگوں کے لیے ادا کیے جاتے ہیں جنہیں ہم جانتے ہوں۔ انجان اور اجنبی کے لیے کسی بھی مذہب، زبان یا معاشرے میں کوئی خیر کا کلمہ نہیں۔ اسلام وعلیکم میں بہت سی خوبیاں اور فوائد ہیں جن پر علمأنے بہت کچھ لکھااور کہا ہے۔
.
مگربدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس قد زنگ آلودہوچکا ہے کہ اب اسلام وعلیکم کہنا اور سننا گوارہ نہیں ہوتا۔ آپ کسی کو راہ چلتے سلام کریں تو اوّل وہ جوا ب نہیں دیگا یا پھر غصے سے دیکھے گا۔ اکثر لوگ خاص کر پڑھے لکھے لوگ سر سے ہلکی جنبش کر کے نا گواری کا اظہار کرتے ہیں۔ امیر لوگ، افسر اور بڑے عہدوں پر فائز لوگ اسلام وعلیکم کہنا اور سننا پسند نہیں کرتے۔
یہی حال بچوں اور عورتوں کا ہے۔ اجنبی مرد کا اجنبی عورت کو راہ چلتے سلام کہنا جرم تصور کیا جاتا ہے اوراجنبی عورت کا اجنبی مرد کو اسلام وعلیکم کہنا بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے۔
.
اگر آپ صبح کی نماز کے بعد کسی سٹرک پریا پارک میں سیر کے لیے چلے جائیں تو راستے میں ایسی ماڈرن مخلوق دیکھیں گے جن کے کانوں پر ٹیلی فون چڑھے ہوتے ہیں۔ قریب سے گزریں تو آپ کو ڈم ڈم کی آواز آتی ہے۔ پتہ چلا کہ یہ لوگ چلتے ہوئے ردم برقرار رکھنے کے لیے میوزک کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ صبح سویرے وہ کسی کام سے نکلا تو آگے سے ایک صاحب کانوں پر کن ٹوپ چڑھائے آرہے تھے۔ ہاتھ میں کُتے کی زنجیر اور ایک بڑے سائز کے جانگے میں ملبوس خراماں خراماں چلے آرہے تھے۔ قریب سے گزرے تو میں نے اسلام وعلیکم کہا۔ کُتے سمیت یکدم رُک گئے اور فرمایا وٹ از پرابلم۔ عرض کیا پرابلم کچھ نہیں،میں نے اسلام وعلیکم کہا ہے۔ غصے سے بولے وٹ ربش اور کتا انہیں لے کر چلا گیا۔ مرحبا اور مونہ اُولیول کر رہی ہیں اور ساتھ والی گلی میں سنگل مدر کی ڈبل بیٹیاں ہیں۔ قریبی پارک میں اُن کے دوست پچھلے پہر آتے ہیں اور خوب گپ شپ ہوتی ہے۔ دونوں بہنیں برمودہ پہنچی ہیں اور دوستوں کو عربی سٹائل کا بوسہ دینا نہیں بھولیتں۔ والدہ ملٹی نیشنل کمپنی میں سیکریٹری ہیں اور یہ فیملی تازہ تازہ کویت سے آئی ہے۔ پچھلے دنوں ایک لڑکا جوا س گروپ کا ممبر نہیں نے قریب سے گزرتے ہوئے اسلام وعلیکم کہہ دیا۔ مومنہ اور مرحبا نے والدہ سے شکایت کی تو اگلے روز پولیس رفیق کو پڑ کر تھانے لے گئی۔ رفیق پروومن ہراسمنٹ کا چارج لگا اوراُسکی بڑی مشکل سے ضمانت ہوئی۔
چاچا شکیل عرصہ سے ہمارا محلے دار ہے۔ خاموشی اُسکا اوڑھنا بچھونا ہے جبکہ آنٹی مریم گل انتہائی باخبر سیاسی ورکر ہیں۔ چاچا شکیل کا تعلق مانسہرہ سے ہے مگر کبھی مانسہر نہیں گیا۔ پچھلے سال وہ بس پر بیٹھ کر کراچی گیا تھا اور ایک ماہ بعد واپس آگیا۔ چاچا شکیل ریل گاڑی کے شور اور ہوائی جہاز کی بلند پروازی سے گھبراتا ہے۔ زندگی میں ایک بار جہاز کا سفر کیا جب پندرہ سال پہلے و ہ حج پر گیا تھا۔ آنٹی مریم کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور چاچا شکیل کا پسندیدہ لیڈر فیلڈ مارشل ایوب خا ن ہے۔ دھرنے کے دروان آنٹی مریم نے سارا وقت ڈی چوک میں گزارا اور ان کی سہیلی عاصمہ خان طاہر القادر ی کے دونوں دھرنوں میں شریک رہیں۔
.
چاچا جی نے پچھے دنوں قریبی فٹ بال گراؤنڈ میں بیٹھی آئی فون پر گپ لگاتی عورت کو اسلام وعلیکم کہہ دیا۔ چاچاشکیل حسب عادت اخبار لیکر اپنے پسندیدہ بینچ پر جابیٹھا اور خبریں پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد پولیس آگئی اور چاچا جی سے پوچھ کچھ ہونے لگی۔ چاچا نے فوراً بیگم کو فون کر کے موقع پر طلب کر لیا تو پولیس کچھ نرم ہوگئی۔ پتہ چلا کہ چچا بھی وومن ہراسمنٹ کا مرتکب ہواہے۔شکایت کنندہ خاتون قریبی پرائیویٹ کلینک کے وزٹنگ ڈاکٹر کی کنیڈا پلٹ بہن نکلی جو تازہ تازہ طاق لیکر واپس آئی ہے۔ آنٹی مریم نے ڈاکٹر، پولیس اور کنیڈا پلٹ مطلقہ کی خبر لینے کے بعد چاچا شکیل کا فٹ بال گراؤنڈ میں داخلہ بند کر دیا ہے۔ پولیس، ڈاکٹر اور اُس کی نیم گوری بہن تو غلطی مان گئے ہیں مگر اب آنٹی مریم نہیں مان رہی۔ بار بار کہتی ہیں کہ شکیل تم پہلے تو ایسے نہ تھے۔
حالانکہ شکیل پہلے بھی ایسا ہی تھا اورہر کسی کو اسلام وعلیکم کہتا تھا۔ یہ تحریر پڑھنے والوں کو میری طرف سے اسلام وعلیکم۔ اللہ ہم سب کو سلامت رکھے۔ (آمین)


شیئر کریں: