Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی سطح کی سائنسی نمائش، سردارعبدالرحمن کی تیسری پوزیشن

Posted on
شیئر کریں:

دروش(جہانزیب ) ڈائریکٹریٹ آف سائنس اینڈٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کے زیراہتمام صوبائی سطح پرہونے والے تخلیقی سائنس میلہ(Creative Fest)منعقدہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی گراؤنڈ جس میں صوبہ بھرکے سکولوز،کالجز،یونیورسٹیزسے تقریباً نوسوافرادنے تین سوپچاس سٹالزلگاکراپنے آئیڈیاز،نظریات تخلیق کردہ مصنوعات نمائش کیلئے پیش کئے۔دوروزہ فیسٹیول کے اختتامی سیش کے مہمان خصوصی وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فوادچوہدری نے پرائزونرزمیں انعامات تقسیم کی۔چترال سے اس فیسٹیول میں شریک سردارعبدالرحمن کے سائنسی دریافت بابت گلوبل وارمنگ اینڈکلائمٹ چینج”مصنوعی دھاتی سطح”نے بھی ونرزکیٹگری میں تھرڈپرائزجیت گیااس سے قبل ضلعی سطح پرسیکنڈپرائزجیتاتھا۔انعام جیت کر دروش پہنچنے پر دروش ایریا ڈولپمنٹ پروگرام (DADP)نے سردارعبدالرحمن کے اعزاز میں ایک تقریب منعقدکیاجس میں علاقے کے معززین نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرادرعبدالرحمن نے کہاکہ صنعتی انقلاب نے جہاں دنیامیں آسانیاں پیداکی وہاں اب اس ترقی کے منفی پہلوبھی اجاگرہونے لگاہے۔صنعقی انقلاب نے لوہے کو انسانی ہاتھ میں کھلونابنادیاجسے بے تحاشہ نکال کرغیردانشمندہ استعمال سے آج دنیا عالمی تپش اور موسمیاتی تغیرات کا شکار ہے۔کیونکہ کوئی بھی دھات سورج کی تپش پاکر شدیدگرم ہوتاہے اور سردیوں میں شدیدسردہوجاتاہے۔ لوہے کے بنے مصنوعات آج زمین کی قدرتی سطح پر مختلف مصنوعات کی صورت میں پھیل کر دنیاکی درجہ حرارت میں دوڈگری اضافے کا باعث بن گیا ہے۔جس سے دنیا گرمیوں میں شدیدگرمی اور سردیوں میں شدید سردی سے دوچارہوکر زمین پرموجودحیات کی بقاء)انسانوں،حیوانات،نباتات،حشررات) کیلئے چیلنج بن گیاہے۔یہ مصنوعی دھاتی سطح آج اس قدربڑھ گئی ہے کہ اس سے خارج ہونے والی حرارت سے گلیشئیرزاور برف زار تیزی کے ساتھ شدیدپگھلاؤ کا شکار ہیں۔انہوں نے چترال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چترال ہندوکش کے دامن میں واقع ایک پسماندہ علاقہ ہے یہان کوئی صنعتی کارخانے نہیں بلکہ صنعتی شہریہاں سے ہزاروں کلومیٹر دور واقع ہیں۔ہمارا آسمان صاف شفاف نیلا اور ستارے پورے آب وتاب کے ساتھ چمکتے دمکتے نظرآتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ یہان کوئی کاربن ڈائی اکسائیڈ یاگرین ہاؤس گیسز ایفیکٹ یالئیرنہیں۔پھراس کے باوجودہمارے برف زار اور ان میں محفوظ گلیشئیرزجومیٹھے پانی کے قیمتی ذخائرتیزی کے ساتھ کیون پگھلاؤ کاشکار ہیں۔اس کی واھد وجہ ہمارے پھیلائے ہوئے دھاتی سطح ہی ہے جوہم نے80% گھروں اورسرکاری املاک کی چھتوں کوٹین یعنی جستی چادروں سے تعمیرکرکے عذاب کودعوت دی ہے۔یہ جستی چادریں انتہائی پتلایعنی پوائنٹ تھری تا فائیو ایم ایم ہوتے ہیں جو سورج کی تمازت پاکرچندمنٹوں میں ہی انتہائی گرم ہوکرسولرہیٹربن جاتے ہیں۔گرمیوں کے سات آٹھ مہینوں میں یہ فضاء میں موجود نمی اور اکسیجن کوجلاکر کاربن ڈائی اکسائیڈمیں بدل دیتاہے۔جس سے مستقبل میں موسمیاتی تغیرکے ساتھ ساتھ اکسیجن کی کمی کاہم شکارہوسکتے ہیں۔انہوں نے شرکاء کوبتایاکہ صوبائی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے میرے مفروضے کوباقاعدہ سائنسی تحقیق کیلئے شہیدبے نظیربھٹویونیورسٹی شرینگل کوبھیجاہواہے۔مزیدعالمی سائنسی جریدوں میں آرٹیکل کی اشاعت کیلئے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پروفیسرڈاکٹر شمس علی بیگ اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر رضااللہ نے بھی پیشکش کرچکے ہیں۔آخرمیں DADPکے عرفان اللہ جان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا.


شیئر کریں: