Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد میں حسن قرآت مقابلےاورچترال کے مسائل حوالے پروگرام

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد (چترال ٹائمز رپورٹ ) اکیڈمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے کانفرنس ہال میں مولانا عمران احمد چترالی اینکر پرسن ڈی ٹی ایچ نیوز کے زیر اہتمام ایک پروگرام منعقد ہوا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی انعام میمن تھے۔ پروگرام میں چترال سے تعلق رکھنے والے ممتاذ دینی ، علمی ، سیاسی و کاروباری اشخاص، طلباء اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ پروگرام تین نشستوں پر مشتمل تھا۔ پہلی نشست پاکستان بھر کے دینی و عصری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم چترالی طلباء کے مابین مسابقہ حسن قرآت کے آخری مرحلہ (فائینل راؤنڈ) کی تھی جس کے لیے کراچی ، لاہور، پشاور اور چترال سے مجموعی طور پر سات طلباء کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گیے تھے۔ ججز کے فرائض قاری وقار احمد چترالی، قاری سلطان ولی اور قاری ضیاءالدین انجام دے رہے تھے۔ مسابقہ حسن قرآت میں دروش پبلک سکول دروش کے ہونہار طالبعلم صبغت اللہ نے پہلی پوزیش ، دارلعلوم سرحد پشاور کے طالبعلم احتشام الحق اور جامعہ دالعلوم کراچی کے طالبعلم ہدایت الرحمن نے برابر نمبر حاصل کر کے دوسری پوزیشن جبکہ منظور اسلامیہ لاہور کے طالب علم شعیب الرحمن نے تیسری پوزیش حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیے جن کے لیے انتظامیہ کی جانب سے بالترتیب پچاس ہزار روپے، تیس ہزار روپے اور بیس ہزار روپے کے نقد انعامات کا اعلان کیا گیا۔
.
دوسری نشست چترال کےمعاشی اور معاشرتی مسائل اور ان کے حل کے متعلق چترال کے صاحب الرائے اشخاص کی تقاریر و تجاویز پر مشتمل تھی۔ معاشی مسائل میں ان عوامل کو زیر بحث لانے کی کوشش کی گئی تھی جو چترال کی ترقی و حوشحالی کی راہ میں حائل ہوں جیسا کہ حصول تعلیم میں دشواری ، غربت، بیروزگاری ، کاروبار کے مواقع اور نوجوانوں کی عدم دلچسپی وغیرہ۔ جبکہ معاشرتی مسائل میں چترال کی امن و آشتی ، بھائی چارگی اور مثالی اقدار پر ممکنہ طور پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا احاطہ کیا گیا تھا جن میں سوشل میڈیا کا منفی استعمال، سیاسی ہم آہنگی کا فقدان ، بین المسالک و لمذاہب عدم ہم آہنگی کا خدشہ اور منشیات کی بہتات جیسے عنوانات پر سیر حاصل بحث کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔
.
مقررین میں شیر زاد علی حیدر، عبدالطیف ، رضیت باللہ ، مولانا حسین احمد ، قاضی نسیم ، احمداللہ ، قاضی عنایت جلیل اور حافظ انعام میمن وغیرہ نے نہایت خوشگوار ماحول میں اپنے زرین خیالات کا اظہار کیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ چترال کی ترقی و حوشحالی کے لیے نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں کے قدرتی وسائل سے بھرپور فائیدہ اٹھانے کے لیے کاروبار کی طرف توجہ دینا ہوگا اور مقامی پروڈکٹ کو غیر چترالیوں کے ہاتھوں سستے داموں فروخت کرنے کی بجائے خود ہی چترال سے باہر مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے کمر بستہ ہونا پڑیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کی امن و آشتی ، بھائی چارگی اور عظیم اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے نسلی و علاقائی تعصبات ، سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک چترالی کی حیثیت سے اتحاد و اتفاق سے ترقی و حوشحالی کی طرف بڑھنا ہوگا۔
.
مقررین نے مزید کہا کہ آجکل ثقافت کے نام پرروایتی اقداروحدود کا خیال رکھے بغیر ڈھول کلچر کو پروموٹ کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوششیں دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ تہذیب و حیا کے حدود کے اندر رہتے ہوئے منفرد طرز کا فن موسیقی ہماری ثقافت کا ایک چھوٹا سا حصہ ضرور ہے لیکن کل ثقافت ہر گز نہیں ہے۔ اس کے برعکس پیار محبت ، ہمدردی و رواداری ، خیر خواہی و بھائی چارگی ، ایثار و مہمان نوازی اور سب سے بڑھ کر امن و آشتی اور حب الوطنی نہ صرف ہمارے عظیم اقدار کا حصہ ہیں بلکہ پورے پاکستان میں ہماری پہچان بھی ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جیسے پروگرامات کے زریعے اہالیان چترال کی حقیقی ثقافت اور بے مثال اقدار کو دنیا بھر میں پروموٹ کرنے کی کوشش کیجائے۔ شرکا نے پروگرام کو اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام قرار دے کر پروگرام کے روح رواں مولانا عمران احمد چترالی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیے۔
.
پروگرام کی تیسری نشست محفل مشاعرہ کے لیے مختص تھی۔ شعرا میں شیر ذاد حیدر ، قاضی عنایت جلیل ، سیدالابرار ، صفدر شاہ ساجد و دیگر شامل تھے۔ شعرا نے حمد ، نعت ، اصلاحی کلمات اور درد بھری غزلیں سنا کر شرکاء سے خوب داد وصول کیے۔ نوجوان شاعر امین الاسلام نے “پاکستان سے متعلق کرونا وائرس کے تاثرات ” کے عنوان سے معاشرے کی خامیوں کو بھرپور طنز و مزاح کے ساتھ بیان کرکے محفل کو خوب زعفران زار کیا۔
.
پروگرام میں چترال کے قابل فخر فرزند قاضی عنایت جلیل کی تصنیف “جانان چینی ” کی رونمائی بھی کی گئی۔ جانان چینی میں چترال اور ہمسایہ ملک چین کی قدیم روایاتی و ثقافتی یکسانیت کو نہایت خوبصورت انداز میں تحریر میں لائی گئی ہے۔ مصنف نے اپنی تحقیق میں چترالی زبان میں مستعمل الفاظ ششنگ ، قلمقی یا علمقی ، نہنگ ،خطھائے اور دیگر قدیم الفاظ کا چین کی تاریخ کے ساتھ تعلق کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ کتاب کے آخری صفحات میں سی پیک روٹ کے لیے وادی چترال کی موزونیت کو مدلل اور جاندار انداز میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ شرکائے محفل نے “جانان چینی” کو قاضی عنایت جلیل کی جانب سے شاندار کاوش قرار دئیے۔
.
پروگرام کے آخر میں مہمان خصوصی حافظ انعام میمن دیگر مہمانان گرامی کے ساتھ حسن قرآت مسابقہ کے فائینل راونڈ تک پہنچنے والے قراء اور پوزیشن لینے والے طلباء و دیگر میں انعامات تقسیم کیے۔ سب سے آخر میں پروگرام کے مہتمم مولانا عمران احمد چترالی نے گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر تشریف لانے خصوصا دور دراز شہروں سے تشریف لانے والے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پروگرام کے لیے ہال مختص کرنے پر اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ خصوصی طور پر پروگرام کے کامیاب انعقاد کے لیے شب وروز انتھک محنت ، جدوجہد اور تکنیکی معاونت کرنے پر امین الاسلام کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور چترال کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر فورم پر اپنی کوششوں کو جاری و ساری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
husne qiraat isb3

husne qiraat isb2


شیئر کریں: