Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قصوروار نہ مرد نہ عورت………..محمد اقبال شاکر

Posted on
شیئر کریں:

یہ بات صحیح ہے کہ کسی بھی قوم کی تقدیر افرادی قوت کے بغیر نہ سنور سکتی ہے۔ اور نہ بگڑ سکتی ہےیقیناً افراد ہی ہیں جو اقوام کی تقدیر بناتی اور بگاڑتی ہیں۔لیکن افراد مرد اور عورت کی مشترک جنس کا نام ہے ان دونوں یعنی مرد اور عوت یا دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ افراد کے بغیر اقوام نہیں بن سکتیں۔افراد ہی ہیں جو اقوام بناتے ہیں پھران کے تقدیر کا رخ بدلنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے ۔کہ افراد کو مرد اور عورت میں تقسیم کرنے کے بعد اگر یہ موازنہ کیا جائےکہ تقدیر کو بنانے میں مرد کا کردارزیادہ ہے ؟ یا عورت کا؟ تو بار بار کوشش کے باوجود بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ قوم کی تقدیر انفرادی طور کسی ایک جنس کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اگر کامیاب مرد قوم بناتے ہیں تو ان کے پیچھے یقیناًکسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے جو ماں،بیٹی،بہن اور بیوی یا کسی بھی رشتے کی صورت میں ہردم ان کے ساتھ دیتی ہے جیسا کہ ایک انگریز فلاسفر الیگزنڈر پاپ کا قول ہے۔
I will give you a Successful nation If you give me best supporting mothers.

یعنی اس طرح بانی پاکستان کی زندگی کا ہم مطالعہ کریں تو قدم قدم پر مادر ملت کی بھر پور رہنمائی ہمیں دیکھائی دے گی۔قائد ملت قوم کی تقدیر کا کایا پلٹ دیا ۔شاید ایسا نہ کرسکتے ۔ اگر آپ کے ساتھ مادر ملت کی رہنمائی نہ ہوتی۔لیکن دوسری جانب ہم دیکھیں کہ عورت مرد مل کر تو اقوام کی تقدیریں بدل دیتے ہیں۔لیکن مرد کا ہاتھ تو بہت اگے ہوتا ہے ہم مانتے ہیں کہ عورت مرد کے ہر کامیابی میں ساتھ ہوتی ہے لیکن عورت مرد جیسے کارنامے سرانجام نہیں دے سکتی۔اگر ہم مذہبی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو دو عورتین ایک مرد کے برابرقرار دیئے گئے ہیں۔سائنسی نقطہ نگاہ سے بھی مرد کا شعور عورت سے زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ طبعی قوت اور طاقت کے اعتبار سے بھی مرد عورت سے زیادہ طاقتور ہے۔اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ قصوروار نہ مرد ہے نہ عورت ۔مرد اگر کمزور ہوں تو اقوام کھوکھلی بنتی ہیں وہ کس طرح اقوا م بناسکتے ہیں ۔لیکن اگر مرد طاقتور ،جفاکش اور محنتی ہوں تو یقیناً قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہیں ۔لہذا ایک بیدار عورت اور بیدار مرد قوموں کی تقدیر بدلنے کے ذمہ دار ہیں اور قصور وار نہ مرد ہے نہ عورت۔ بیدار مرد اور بیدار عورت شرم وحیا کی عزت وعظمت کو ہمیشہ مضبوطی سےتھامنا ہے۔ اور اقوام کی تقدیر کا رخ بدلنا ہے۔مرد اور عورت کی لڑائی سے بچیئےاور اپنی توجہ اپنی صلاحیتوں پر دیجئے تاکہ ہم ترقی یافتہ قوم بن سکیں۔


شیئر کریں: