Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجور زیست………..اسلام میں عورت کا مقام………تحریر…… دلشاد پری بونی

Posted on
شیئر کریں:

دن کی روشنی خوابوں کو بنانے میں گزر گئی
رات کی نیند بچے کو سلانے میں گزرگئی
جس گھر میں میرے نام کی تختی بھی نہی
ساری عمر اس گھر کو سجانے میں گزر گئی
.
دین اسلام سے قبل عورت اس معاشرے کا کچلا طبقہ سمجھا جاتا تھا۔ دین اسلام وہ واحد اور مقدس مذہب ہے جس نے حیات انسانی کے کسی گوشے کو اکیلا نہی چھوڑا۔ دین اسلام نے عورت کو ماں،بہن،بیٹی اور بہو کی حیثیت سے معاشرے میں الگ الگ مقام عطا کیا۔آج کل جن حقوق نسواں کو لیکر مغرب شور مچا رہا ہے اور اس کی ابتداء کا سارا کریڈٹ تاریخ انگلستان کے میگنا کارٹا یا اقوام متحدہ کے چارٹر کودیا جا رہاہے مجھے اس پہ افسوس ہو رہا۔کیونکہ یہ تمام حقوق دین اسلام نے آج سے چودہ سو سا ل پہلے وضع کرکے عورت کو سر اٹھا کر جینے کا شرف بخشا۔
.
دین اسلام نے عورت کو اپنے رائے کی آزادی دی ہے۔عورت کا وراثت میں حصہ رکھا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اس معاملے میں اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھے ہوئے ہیں اور کوئی عمل کرنے کو تیار نہی۔دین اسلام نے مردوں کو عورت کے حقوق کی ادائیگی اور اسکے نان نفاقہ کا پابند کیا ہے۔اسلام سے پہلے دور جا ہلیت میں نوزائیدہ بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔حضرت محمدﷺ نے مرد و زن کے درمیان مساوات کا درس دیا۔رسولﷺ کا ارشاد ہے ,, کہ کوئی معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے مگر نا انصافی پہ نہی۔
.
تعلیم عورت کی بنیادی حق ہے۔عورت نہ صرف مرد بلکہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حقوق کے بعد جن حقوق پر قرآن پاک میں زور دیا ہے وہ والدین کے حقوق اور والدین میں پہلے نمبر پہ ماں کے حق کو رکھا ہے۔اسلام نے مرد کو عورت کا محافظ قرار دیا ہے نہ کہ حاکم۔مگر اج کل کے معاشرے میں عورت کا مقام تو مرد کی جوتیوں میں رکھا گیا ہے۔
.
ایک دفعہ حضرت موسی ؑ نے اللہ تعالی سے سوال کیا,, کہ یا پروردگار آپ اپنے بندے سے خوش ہوتے ہیں تو کیا عطا کرتے ہیں؟ میرے رب نے جواب دیا کہ,,,, میں اسے بیٹی عطا کرتا ہوں اور ذیادہ خوش ہونے پر ایک اور بیٹی عطا کروں گا اور ان کی صحیح پرورش کرنے پہ جنت عطا کروں گا،،۔
ایک عورت جب بیٹی بن کے آتی ہے تو اپنے ساتھ دنیا میں برکت لاتی ہے۔جب بیوی بن جاتی ہے تو مرد کی صورت اطاعت سے خود جنتی بن جاتی ہے۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ,, تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہوں،،۔ایک ماں کی حیثیت سے جنت عورت کے قدموں میں ڈالی جاتی ہے۔یہ عورت ہی ہے جو ایک مرد کو جنم دے کر اس کی صحیح تربیت کرکے اس کو معاشرے میں ایک اعلی مقام دلوا سکتی ہے۔
وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوذودروں
.
اگر عورت جسے اقبال نے شعلے سے تشبیہ نہ دی ہوتی تو اس کے بطن سے افلاطون کی چنگاری پیدا نہ ہوتی۔اگر عورت بحیثیت ماں اسکی رتبیت نہ کرتی تو وہ مکالمات جیسی کتاب لکھنے کے قابل نہ ہو تا۔ اگر عورت بگڑ جائے تو پورا معاشرہ بگڑ جا تا ہے۔اگر عورت سنوار جائے تو پورا معاشرہ سنوار جاتا ہے کیونکہ آنے والی نسل عورت کے ہاتھوں پرورش پاتی ہے۔ عورت کے لئے اس سے بڑھ کر فخر کی اور کیا بات ہوگی کہ حضرت محمد مصطفیﷺ کا نسل بھی ایک بیٹی سے چلی آرہی ہے۔ اسلام نے عورت کی عصمت کو ہر حالت میں واجب الاحترام ٹھہرایا ہے اسلئے آذادی نسواں کی آڑ میں عریانی کی سخت ممانعت ہے۔
.
ارشاد باری تعالی ہے کہ,,,اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیااور تمہیں گروہوں اور قبیلوں میں اسلئے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکوں؛؛۔اسی طرح سورہ البقرہ کے آیت نمبر ۸۲۲
میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ,,,,عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا ان پہ حق ہے؛۔

مگر موجودہ دور میں کیا ہو رہاہے۔۔کیا پاکستان میں خواتین کو ر ب العزت کے قانون کے مطابق مقام دیا جا رہا ہے ؟ہر گز نہیں۔جب کوئی عورت بھولے سے بھی اپنا وراثت میں حق مانگے تو سات پشتوں تک اس سے ناتا توڑا جاتا ہے۔گھر سے بے داخل کیا جاتا ہے۔ملک کے ایک حصے میں اگر بیٹی کی پیدائش پر ماں کو طلاق کی دھمکیاں ملتی ہے تو دوسرے حصے میں غیرت کے نام پہ قتل عام۔کسی کونے میں کبھی ننھی پری زینب کبھی فرشتہ کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بنتی ہے تو کبھی راہ چلتی مجبوری کے تحت گھر سے نکلی حوا کی بیٹی پہ فقرے اچھا لاجاتا ہے۔

ہوس پرستی میں مرد اس حد تک آگے نکل چکا کہ باپ جیسا استاد بھی درندہ بن جانے سے دریغ نہیں کرتا۔یہ ہمارے لئے لمحہء فکریہ ہے آئے روز ہمارا معاشرہ تباہی کی طرف جا رہا ہے۔عورت کے نوکری کرنے پہ تنقید۔ وہ مرد جو عورت کی نوکری کے خلاف ہے وہی پھر اپنی بیمار بیوی کا علاج ایک لیڈی ڈاکٹر سے کرانا چاہتا ہے جو اپنی بیٹی کو زنانہ استانی سے پڑھوانا چاہتا ہے۔آج کل ہر ایک پیشہ چاہے وہ وکالت ہو،شعبہ صحت ہو،پولیس ہو یا محکمہ تعلیم ودیگر عورت کی موجودگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تاریخ اسلام میں ایسی خواتین ہو گزری ہیں جن پر ہر ایک عورت کو فخر ہے اور اپنی عورت ہونے پہ خوشی بھی۔ حضرت خدیجہ (ر۔ض)جیسی تاجر،حضرت زینب جیسی بیوپاری،حضرت رفیدہ جیسی طبیبہ اور حضرت عائشہ (ر۔ض) جیسی معالمہ جن پہ پوری امت مسلمہ کو ٖفخر ہے۔جس طرح حضرت خدیجہ رض عورت کی عقل و دانش کی مثال ہے اس طرح حضرت زینب بنت علی رض انسانی ظلم و ستم اور مکرو فریب کے خلاف اٹھنے والی آواز کی مثال ہے۔

حضرت بی بی فاطمہ رض اور رابعہ بصری کی زندگیاں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو مذہبی لحاظ سے مرد کے برابر موقع دیا ہے۔اسی طرح سیدہ ملکہ حرہ رضیہ سلطانہ۔بیگم رعنا لیاقت علی خان اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتی ہے کہ عورت بحثیت حکمران اپنی سمجھ،دانائی اور حکمت سے سلظنت کی بھاگ دوڑ بھی سنبھال سکتی ہے۔اسلامی تاریخ کے علاوہ دوسرے معاشرے میں ایسی خواتین ملتی ہیں جن پر پوری دنیا ٖفخر کر رہی ہے۔

فرانس کی جون آف آرک نے حق کے لئے جان دی جس معاشرے نے اسے جلا ڈالا اس نے بعد میں اسے سینٹ یعنی پاکباز کا مرتبہ بھی دیا۔اس کے علاوہ دنیا کی پہلی نرس فلورنس ناٹنگل،عظیم سائینسدان میڈم کیوری جس نے ریڈیم اور پلاٹینم جیسے اہم اور قیمتی عنصر دریافت کئے۔اسلئے جب عورت ان خواتین کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھ کر اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے ثابت قدمی سے جو بھی کام کرے اس پہ نہ صرف وہ بلکہ پوری معاشرہ ٖفخر محسوس کرے گا۔
.
اپنی مٹی پہ چلنے کے ڈھنگ ہی سیکھ لو
سنگ مر مر پہ چلوں گے پھسل جاؤ گے۔
؁


شیئر کریں: