Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موجودہ حکومت چترال میں آربوں‌روپے خرچ کررہی ہے..وزیرزادہ کامہرکہ میں اظہارخیال

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ نے کہا ہے کہ چترال کی ترقی کیلئے انٹر نیشنل ٹورزم کا فروغ انتہائی ضروری ہے ۔ چترال کا امن اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔ یہی چیز اسے تمام علاقوں سے ممتاز بناتی ہے ۔ کیونکہ قدرتی نظارے تو بہت جگہوں میں موجود ہیں ۔ لیکن وہ چترال کی متنوع کلچر ، اقلیت و اکثریت کی باہمی محبت ، مہمان نوازی اور امن کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال پریس کلب کے پروگرام مہرکہ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں بڑی تعداد میں دیگر مہمان موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں سماجی ہم آہنگی پر یقین رکھتا ہوں ۔ اور اسے مضبوط بنانے کی ہمیشہ کو شش کی ۔ اور آیندہ بھی بھائی چارے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کروں گا ۔ کیونکہ اسی میں چترال کی ترقی کا راز مضمر ہے ۔ وزیر زادہ نے کہا ۔ کہ تحریک انصاف کی حکومت کا سب سے بڑا کام ضلع اپر چترال کا قیام ہے ۔ یہ ایسا کام ہے ۔ جسے سابقہ حکومتیں 70سالوں میں بھی نہیں کر سکیں ۔ انتظامی آفیسران کی تقرری ہو چکی ہے ۔ دیگر کام بتدریج انجام پائیں گے ۔
.
انہوں نے کہا ۔ کہ قدرت نے اُنہیں خدمت کے جذبے سے نوازا ہے ۔ اُنہیں پیسہ بنانے کی خواہش نہیں ۔ اس لئے اُن کے آفس کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ کسی کے ساتھ بھی اختلاف رکھنے کے قائل نہیں ہیں ۔ شہزادہ افتخار الدین ، سلیم خان کے ساتھ برادارانہ تعلقات ہیں ۔ اپنے دیگر ممبران اسمبلی کی دل سے قدر کرتے ہیں ۔ وزیر زادہ نے چترال کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کہا ۔ کہ مڈکلشٹ میں پانچ ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ جس میں ایک ارب اسی کروڑ رو ڈ ی تعمیر پر خرچ ہوں گے ۔ ارندو روڈ پر دو ارب ، سوئر گول پُل ، سوئر روڈ اور ہرچین پُل پر دو ارب ، پولوگراءونڈز کی تعمیر پر بارہ کروڑ ، ٹاون بیوٹیفیکیشن سینتیس کروڑ ، ائر پورٹ روڈ تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ، گولین گول چالیس کروڑ ، سوسوم روڈ دس کروڑ ، اورغوچ روڈ کیلئے تین کروڑ فنڈز منظور ہو چکے ہیں ۔ ایک کروڑ روپے مساجد پر خرچ کئے جائیں گے ۔
.
اسی طرح گرم چشمہ دیدار گاہ کیلئے بھی فنڈ مختص کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش کمیونٹی کی تہوار کے لئے چھ کروڑ میں اٹھائیس کنال زمین خریدی گئی ہے ۔ اسی طرح اقلیتی فنڈ سے تین کروڑ پچاس لاکھ تہواروں کے مقامات کی تعمیر ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو سو گھروں کی رینویشن کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ سابق ایم این اے افتخار الدین نے گرم چشمہ روڈ اور کالاش ویلیز روڈ کیلئے بڑا کام کیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود فنڈ فیڈرلائز نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک زمین کی خریداری نہیں ہو سکی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ کلاس فور بھرتیوں کیلئے ایم پی اے نہیں بنے ۔ محکمہ ہیلتھ میں کلاس فور بھرتیوں میں اُن کا کوئی ہاتھ نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چھیاسی کروڑ کا ریشن بجلی گھر بحالی منصوبہ جولائی تک ہینڈ اور ہو گا ۔ جس سے اپر چترال کی بجلی کے مشکلات میں کافی کمی آئے گی ۔



شیئر کریں: