Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذخیرہ اندوزی…………. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی پراسیکوٹر جنرل نے ماسک کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اسے پھانسی دی جائے گی کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ایک دوسرے کا خیال کرنا ہے۔ایرانی پراسیکوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ماسک یا کسی بھی قسم کے طبی سامان کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے افراد کسی ہمدری کے لائق نہیں ہیں، اگر کوئی شخص اس میں ملوث ہوتا ہے تووہ پھانسی کا مستحق ہے۔اسے فوری طور پرسزائے موت دی جائے گی۔ایرانی حکومت کا یہ فیصلہ اگرچہ بہت سخت اور جارحانہ معلوم ہوتا ہے اور ایران پر اس حوالے سے عالمی دباو بھی پڑے گا لیکن ذخیرہ اندوزی، گرانفروشی، ملاوٹ، دھوکہ دہی اور بے ایمانی کا خاتمہ کرنا ہے تو سخت تعزیری قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔ ایران کی طرح ہمارے ہاں بھی حفاظتی ماسک کی قیمت میں ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔ کروناوائرس کی خبر پھیلتے ہی مارکیٹ میں ماسک کی قیمت بیس روپے سے اچانک ایک سو بیس روپے کردی گئی اور مارکیٹ سے سٹاک بھی اٹھاکر ذخیرہ کرلی گئی تاکہ بوقت ضرورت انہیں چار پانچ سو روپے میں فروخت کیا جاسکے۔ کسی کی مجبوری اور ضرورت کا ناجائز فائدہ اٹھانا ہم اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ مارکیٹ سے رمضان میں استعمال ہونے والی اشیائے ضروریہ کا شاٹ فال ابھی سے دیکھنے میں آرہا ہے۔ بات لہسن ادرک سے شروع ہوئی ہے۔ دو تین ہفتے بعد کھجور، دالیں، چاول، گھی، چینی، مشروبات وغیرہ بھی کم پڑنا شروع ہوں گی رسد میں کمی سے قیمتوں میں دو تین سو فیصد اضافہ ہوگا۔ رفتہ رفتہ ذخیرہ کی گئی اشیاء منڈی میں آنا شروع ہوں گی تاہم ان کی قیمتوں میں چار پانچ گنا اضافہ ہوگا۔حالانکہ رمضان جیسے مقدس اسلامی مہینے کے احترام میں یورپ اور غیر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کو اشیائے خوردونوش پر خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں رمضان کو کمائی کا مہینہ گردانا جاتا ہے۔ بات صرف ذخیرہ کرنے مصنوعی قلت پیدا کرنے اور پھر من مانے دام وصول کرنے تک محدود رہتی تو پھر بھی قابل برداشت تھی۔ لوگوں نے اصلی چیزوں میں اس قدر ملاوٹ شروع کی ہے کہ اصلی چیز مارکیٹ میں ناپید ہوگئی۔ ایک نمبر والی چیز اتفاق سے کہیں سے مل جائے تو اس کے دام قوت خرید سے باہر ہوتے ہیں۔ دو نمبر سے لے کر دس نمبر تک کی چیزیں کھلے عام فروخت ہورہی ہیں اور ان کے دام بھی اسی تناسب سے مقرر ہیں۔چائے میں ذبیحے کے جانوروں کا خون، لکڑی کا برادہ، پختہ چائے کی پتیاں سکھا کر ملانے اور چنا کے چھلکوں کی ملاوٹ اب پرانی بات ہوگئی ہے۔ لوگوں نے جان بچانے والی ادویات میں بھی ملاوٹ شروع کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادویات مریضوں پر اثر ہی نہیں کرتیں۔ادویہ ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو اپنی مصنوعات کے نسخے لکھنے کے لئے عمرہ ٹکٹ، ٹی وی، گاڑی اور بنگلے تک تحفے میں دیتی ہیں۔دکھی انسانیت کے مسیحا کہلانے والوں کی آنکھوں پر جب چاندی کی پٹی چڑھ جاتی ہے تو وہ مال و دولت کے لالچ میں جان بوجھ کر نقلی اور غیر معیاری ادویات مریضوں کو لکھتے ہیں۔ہم من حیث القوم انتہائی بے حس، مادہ پرست، مردہ ضمیراور سفاک ہوچکے ہیں۔ہم پر نصیحتوں کا کوئی اثر ہونے والا نہیں۔ روزہ داروں کا خون نچوڑ کر کروڑوں روپے کا ناجائز منافع کما نے کے بعد دوست احباب کو افطار پارٹی میں بلاکر ہم اس خوش فہمی میں مبتلاہوتے ہیں کہ ہم نے حرام کی کمائی کو حلال کردیا ہے۔ ہم سب بحیثیت قوم کرپشن کی دلدل میں ناک تک دھنسے ہوئے ہیں۔ نیب کے ذریعے چند لوگوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے، انہیں جیل میں ڈالنے یا پھر اربوں روپے لوٹنے والوں سے پلی بارگین کے نام پر چند کروڑروپے لے کر انہیں اپنا دھندہ جاری رکھنے کے لئے کھلاچھوڑنے سے کرپشن کی جڑیں ختم نہیں ہوسکتیں۔جرائم کے خاتمے کے لئے اسلام کے تعزیری قوانین کا نفاذ ناگزیر ہوچکا ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹ دیں، گرانفروشوں، ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ کرنے والوں کی جائیدادیں ضبط کریں اور ان کے لئے پھانسی کی سزا مقرر کریں، بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور انہیں قتل کرنے والوں کو سرعام لٹکا دیں تو لوگ عبرت پکڑیں گے اور ان انسانیت سوز جرائم کا خاتمہ ہوگا۔


شیئر کریں: