Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ………..بند گلی سے واپسی………. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

اُس نے بند گلی سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سارے جا نی دشمن اورخون کے پیا سے اُس کو دبوچنے کے لئے تیا ر کھڑے تھے اور سب آپس میں بھی دست بہ گریبان تھے آگے گلی بند ہو چکی تھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں تھا اُس نے دشمن کے کے ہاتھوں لقمہ اجل بننے پر خود کشی کو تر جیح دی یہ ہٹلر کے انجام کا اقتباس نہیں ٹا لسٹائی کے نا ول کی عبارت بھی نہیں بلکہ پا کستان کی سیا سی جماعتوں کا نو حہ ہے نو حہ گری کی نو بت یوں آگئی کہ اس وقت ملک کو چاروں طرف سے مصائب و مشکلات نے گھیر رکھا ہے قوم کا ہر فرد اس غم میں مبتلا ہے اگر کسی کو فکر نہیں تو وہ سیا سی جما عتوں کے لیڈر، اکا برین اور زعماء ہیں ساری سیا سی جما عتیں با قاعدہ با جماعت بند گلی میں داخل ہو چکی ہیں آگے دیوار ہے اور پیچھے دشمن 1980ء کی دہا ئی میں ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب شائع ہوئی اُس میں پا کستان کی سیا سی جما عتوں کا تجزیہ کرکے لکھا گیا ہے کہ ان میں سے صرف ایک جماعت ایسی ہے جس میں جمہوری انتخا بات اور جمہوری فیصلے ہوتے ہیں مگر اس کا بھی مستقبل روشن نہیں انتخا بی عمل اُس کی پذیر ائی نہیں کر تی اُس وقت متحدہ قو می مو منٹ اور پا کستان تحریک انصاف کے نا م سے دو جما عتیں نہیں بنی تھیں پا کستان تحریک استقلال کے بارے میں مصنف نے لکھا تھا کہ اس میں ایئر مارشل اصغر خان کے نام کے سوا کوئی طا قت نہیں اس لئے یہ پارٹی استقلال کی منزل نہیں پا سکتی آج کے اخبارات میں امیر جما عت اسلامی محترم سینیٹر سراج الحق کی تقریر کا اقتباس آیا ہے کہ آئیندہ ہماری جماعت کسی کے ساتھ انتخا بی اتحا د نہیں کریگی حا لانکہ مو جودہ پارلیمنٹ میں جماعت کی چار نشستیں ہیں اور چاروں کسی نہ کسی پارٹی کے ساتھ اتحا د کی مر ہون منت ہیں اگر اتحا د نہ ہو تا تو جما عت کی پوزیشن طاہر القادری کی عوامی تحریک سے مختلف نہ ہوتی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلا ول بھٹو کا بیان آیا ہے کہ مسلم لیگ کے وزیر اعظم بھی سلیکٹڈ تھے جو اب میں مسلم لیگی حلقوں نے بیان داغ دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو بھی سیلکٹڈ تھے اور سیلیکٹر کو ”ڈیڈی“کہا کرتے تھے جمعیتہ العلماء اسلام کے امیر مو لانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ میری جما عت کسی دوسری پارٹی کی منت نہیں کریگی مدارس کے دفاع اور ختم نبوت کے لئے جان دینے کی جدو جہد میں اکیلے ہی معرکہ سر کرے گی الغرض پاکستان کو بچانے کا نغرہ لیکر میدان میں آنے والوں میں ہر ایک کی الگ پارٹی ہے نفاذ شریعت اوراعلائے کلمتہ الحق کے لئے جدو جہد کرنے والوں میں ہر ایک کی الگ جما عت ہے پختون قوم پرستی کا نغرہ بلند کرنے والے 4پارٹیوں میں بٹے ہوئے ہیں سندھی قوم پر ستوں کی 3الگ الگ جماعتیں ہیں بلوچ قوم پرستوں کی 5الگ الگ پارٹیوں کے جھنڈے ہیں جنو بی پنجاب کا نغرہ لگانے والے 2متحارب دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اردو بولنے والوں کو مہا جر یا متحدہ کے نام سے الگ پلیٹ فارم دینے والے اب 4الگ الگ پارٹیوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ہر پارٹی، ہر جماعت اور ہر دھڑا بند گلی میں ہے مخلوط حکومت میں شامل 5جما عتیں ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے میں لگی ہوئی ہیں حزب مخا لف سے تعلق رکھنے والی 10جما عتوں میں سے ہر جماعت دوسری پارٹی کو بلیک میل کرنے میں لگی ہوئی ہے جہاں 1949ء میں قرار داد مقاصد لانے والی دینی اور مذہبی طاقتوں کی صفوں میں انتشار آیا ہواہے وہاں 1960ء کے عشرے میں تیسری دنیا کی تحریک، سامراج کے خلاف فیڈرل کاسترو، چی گویرا، ہوچی مِنہ اور دوسرے انقلابیوں کی جدو جہد سے اثر قبول کرنے والی مزدورکسان پارٹی کاشیرازہ بھی بری طرح بکھر چکا ہے پیپلز پبلشنگ ہاوس بند ہو چکا ہے سوید یونین سے آنے والے لٹریچر کو سندھی، بلوچی، پشتو،پنجا بی،سرائیکی اور اردو میں ترجمہ کرنے والے مصنفین کے قلم کی سیا ہی خشک ہو چکی ہے آج پتہ لگ گیا ہے کہ دینی جما عتوں کو متحد کرنے میں کمیو نسٹ یلغا ر کا بڑا ہاتھ تھا یہ خطرہ ٹل گیا تو وہ منتشر ہو گئے اور دوسری طرف مزدور کسان تحریک کو ہوا دینے میں سامراج دشمن طاقتوں کی اشیر باد کا عمل دخل تھا سویت یو نین ٹوٹنے یا دیوار بر لن گرنے کے بعد مزدور وں اور کسانوں کی تحریک دم توڑ گئی سیا ست میں نظر یات کا فقدان ہے شخصیات کا ٹکراؤ ہے سیا سی مخا لفت کو ذاتی دشمنی کا رنگ دیا گیا ہے اورذاتی رنجشوں نے سب کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے آگے دیوار ہے پیچھے دشمن ہے مختار مسعود نے 1975ء میں آٹو گراف بک کو بن کردیا اور لکھا تھا کہ زمین بانجھ ہو گئی ہے زمین کا بانجھ ہونا اب ثا بت ہوچکا ہے۔


شیئر کریں: