Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے ہیں..بریفنگ

Posted on
شیئر کریں:

عوام اطمینان رکھیں صوبائی حکومت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیا رہے۔ وزیراعلیٰ
.
صوبے میں ابھی تک کوئی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا ، احتیاطی تدابیر کے طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، وزیراعلیٰ کو بریفینگ
.
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے تمام تر حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے ہیں جبکہ کورونا کا کوئی کیس سامنے آنے کی صورت میں تمام طبی مراکز اور دیگر متعلقہ اداروں کو سٹینڈرڈ پروٹوکولز جاری کردیئے گئے ہیں ، صوبے میں ابھی تک کورونا کا کوئی بھی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا تاہم حفاظتی تدابیر کے طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ یہ بات منگل کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کے متوقع پھیلاﺅ کے موثر تدارک کیلئے محکمہ صحت کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بتائی گئی ۔ صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب، شوکت یوسفزئی اور وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ سیکرٹری صحت نے اجلاس کے شرکاءکو کورونا وائرس کے تدارک کے حوالے سے انتظامات اور تیاریوں کے بارے میں شرکاءکو تفصیلی بریفینگ دی ۔ بریفینگ میں بتایا گیا کہ پشاور ایئر پورٹ میں مسافروں کی سکریننگ کا مکمل انتظام کرلیا گیا ہے جبکہ تورخم بارڈر پر مسافروں کی اسکریننگ کیلئے سکیورٹی اداروں کے اشتراک سے سروے مکمل کرلیا گیا ہے ۔ صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں فوری نوعیت کے انتظامات کیلئے محکمہ صحت کو100 ملین روپے کا فنڈ جاری کر دیاہے۔ مزید بتایا گیا کہ ڈی جی ہیلتھ کے دفتر میں ایک مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔ اضلاع کی سطح پر تمام مراکز صحت میں آئسو لیشن وارڈز قائم کئے گئے ہیں مجموعی طور پر صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں 596 جبکہ نجی ہسپتالوں میں 387 بستر کورونا کے متوقع مریضوں کیلئے مختص کرد یئے گئے ہیں ۔ اسی طرح اضلاع کی سطح پر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریپڈ ریسپانس یونٹس قائم کئے گئے ہیں ۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ کورونا کے کسی بھی مشتبہ شخص کی ٹیسٹنگ کیلئے قائم مخصوص لیبارٹری مکمل طور پر فعال ہوگئی ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے محکمہ صحت کی تیاریوں اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے ان انتظامات کو مزید بہتر اور موثر بنانے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اﷲ کے فضل سے صوبے میں ابھی تک کوئی کیس سامنے نہیں آیالیکن صوبائی حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے ہر گز غافل نہیں چونکہ یہ معاملہ ایمرجنسی نوعیت کا ہے اور اس کا براہ راست تعلق عوام کی صحت اور زندگی سے ہے اسلئے ہمیں ہر لحاظ سے تیار اور مستعد رہنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوںنے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے خوف و ہراس کا شکار نہ ہوں بلکہ احتیاطی تدابیر پر زیادہ سے زیادہ عمل کریں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ فی الحال صورتحال تسلی بخش ہے لیکن ضرورت پڑنے پر صوبائی حکومت ہر قسم کے اقدامات اُٹھانے اور تمام تر وسائل بروئے کار لانے کیلئے تیار ہے ۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی اسکریننگ ، ٹیسٹنگ اور علاج کیلئے تمام تر ضروری ادویات اور آلات کی خریداری کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے طورخم بارڈر پر لوگوں کی آمدورفت کے انتظام و انصرام کیلئے تمام شراکت داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کوروناوائرس سے بچاﺅ کیلئے عوام کو زیادہ سے زیادہ معلومات دینے کیلئے وسیع پیمانے پر آگہی مہم شروع کریں۔
<><><><><>
.
صوبے میں‌کروناوائرس کی روک تھام کیلئے چیف سیکریٹری کے زیرصدارت اعلیٰ‌سطح اجلاس
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں کرونا وائرس کی روک تھام اور پیش بندی کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔کرونا مرض کی روک تھام بارے سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اہم غیر معمولی اجلاس ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے کی۔اجلاس میں پاک فوج،فرنٹیئر کور،فرنٹیر کانسٹیبلری،محکمہ ہائے داخلہ، خزانہ، صحت اور ریلیف کے صوبائی سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں اندرون اور بیرون ملک سے خیبرپختونخوا آنے والے لوگوں اور سیاحوں کی آمد کے پیش نظرصوبے کے تمام داخلی راستوں پر مزید طبی عملہ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ محکمہ صحت صوبے کے ہر ضلع میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کے لئے الگ ہسپتال مختص کرے گا جبکہ کرونا وائرس کے کیسز کے لیے مختص آئسولیشن ہسپتال میں تمام طبی سہولیات ہنگامی بنیادوں پر مہیا کی جائیں گی۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق ہوا کہ صوبائی سطح پر کرونا وبا سے نمٹنے بارے اقدامات اور فیصلوں کے لئے محکمہ صحت باضابطہ طور پر کابینہ اجلاس بلانے کی استدعا کرے گا۔اجلاس میں محکمہ صحت کو کرونا کے حوالے سے ہیلپ لائن کے قیام کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی۔اسی طرح کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی سامان اور آلات کے لئے محکمہ صحت اپنی ڈیمانڈ حکومت کو بھیجے گاجس پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں ضلع خیبر میں ریپڈ ریسپانس ٹیم کے لیے مزید طبی عملہ اور آلات فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ مسافروں اور سیاحوں کی سکریننگ اور مشتبہ مریضوں کی چیکنگ کے لیے غلام خان بارڈرپر بھی طورخم طرز کے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح محکمہ صحت کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اراکین پارلیمنٹ اور میڈیا کے نمائندوں کیلئے آگاہی سیشن کا انعقاد کریں تا کہ صوبے کے کونے کونے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس نے محکمہ صحت سے کہا کہ اس مقصد کیلئے تحصیل، ضلع اور صوبائی سطح پر ممبران اور ذمہ داریوں کا تعین قواعد و ضوابط کیساتھ کریں۔ محکمہ صحت کو مزید کہاگیا کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر ریپڈریسپانس یونٹس بنائیں۔


شیئر کریں: