Chitral Times

Dec 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جس کھیت سے دھقان کو۔۔۔۔۔پروفیسر رحمت کریم بیگ

Posted on
شیئر کریں:

(یہ ٹی وی پر آنے والی لڑکیوں میں اشتہاری ڈایئلاگ ہے)

پہلی لڑکی دوسرے سے: ۔ تمیز سے بیٹھو، لوگ کیا کہیں گے؟
دوسری جواب میں: چھوڑو! ہمارا لوگوں سے کیا کام۔ لوگوں سے کیا شرمانا؟، یہ جواب دیکر وہ بے حیا لڑکی سینہ ابھار ننگے بازووئں کو اچھال کر تماشہ پیش کرنے لگتی ہے۔
.
اوپر والے الفاظ ان لڑکیوں کی اشتہاری ڈائیلاگ ہیں جو اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اسلامی مملکت کے ا یک ٹی وی چینل کے اشتہار میں سینہ پھلا کر بول رہی ہے جس میں لڑکی سینہ تان کے اپنی بے حجابی کا اشتہار کرو ڑوں ناظرین کو دکھانے میں فخر محسوس کرتی ہے لوگوں کو للکار رہی ہے نوجوانوں کے لئے کھلی دعوت ہے یہ ایک اسلامی ملک کے چینل کا اشتہار ہے۔ یہ اور اس جیسے اشتہارات میڈیا کی بے لگامی اور دینی تعلیمات کا کھلم کھلا مذاق اڑانے کے علاوہ اور کیا ہے؟
.
جس قسم کی ضا بطء حیات اسلام نے سکھائی ہے میڈیا والے اس کا مذاق اڑارہے ہیں اور پیمرا والے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں کوئی سنسرشپ نہیں ہے، کوئی اخلاقی پابندی نہیں لگائی گئی یا لکھی گئی مگر اس پر عملدرآمد کو ضروری نہیں سمجھا گیا، ہمیں خواتین کے حقوق کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے اس میں ننگے سر، نگے بدن کا حق کسی جگہ نہیں دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ایک حد ہے مردوں کے حقوق کی بھی ایک حد ہے، ان حدود سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ معاشرہ اس کو برداشت کرسکتی ہے۔ یہ سب کچھ پیمرا والوں کی غفلت کا نتیجہ ہے ورنہ عورت نام کی چیز ہی ٹیڑھی پسلی ہے اس کو مناسب حدود میں رکھنے سے ہی معاشرتی زوال کو روکا جا سکتا ہے، معاشرتی آزادی ایک بے لگام ریوڑ کا نام نہیں ہے۔
.
عورت ماں بھی ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے، عورت بہن ہے، عورت بیٹی ہے جس کو رحمت کہا گیا ہے مگر اب یہ طبقہ رحمت سے آگے زحمت کی طرف بڑی تیزی سے نکل جانا چاہتی ہے، ولیم شکسپئیر سولہویں صدی کا نامور انگریز ڈرامہ نگار تھا اس نے سینتیس ڈرامے اور بہت سی نظمیں لکھی ہیں اور ان تمام ڈراموں میں معاشرتی اچھائیوں اور برائیوں یعنی نیکی اور بدی کا مقابلہ دکھایا گیا ہے اور انجام میں نیکی بدی پر غالب آتی ہے اور ناظرین سٹیج سے ایک سبق لیکر باہر آتے ہیں، اس زمانے میں عورت با پردہ ہوا کرتی تھی اور ڈرامے میں لڑکی کا کردار نوجوان لڑکے بناؤ سنگھار کی مدد سے ادا کرتے تھے، لڑکیا ں اس وقت بھی پردے کا پابند تھیں اور آج کی طرح بے لباس میدان میں نہیں اتری تھیں، شکسپئیر نے ایک منظر میں روم کے بادشاہ انٹونی اور مصر کی ملکہ قلو پطرہ کی شادی کے بعد ایک جنگ کے منظر میں کچھ یوں لکھا ہے جب ملکہ بھی جنگ میں حصہ لینے کے لئے اپنے شوہر نامدار کے ساتھ میدان میں آئی تھی اور اس مرحلے پر انٹونی کی ساری توجہ جنگ سے ہٹ کر ملکہ کی طرف چلی گئی اور جنگ پر مرکوز نہ رہ سکی اور جیت ہار میں بدلنے لگی تو ان کے وزیر نے اشارہ تا کہا: کہ گھوڑی کی موجودگی میں گھوڑے کی ساری مردانگی پسینے کی صورت میں جسم سے جانے لگتی ہے؛ ان کے آس پاس دوسرے وزراء میں سے چند نے ہی اس اشارے کا مطلب سمجھ لیا مگر ملکہ اور بادشاہ کو پھر بھی سمجھ نہیں آئی۔
.
PEMRA کے ارباب بست و کشاد اور حکومت وقت سے گذارش ہے کہ اشتہارات میں اخلاقیات کا خصوصی خیال رکھیں ورنہ مسلمان اور ہندو، عیسائی، یہودی معاشرے کا روایتی فرق مٹنے کے قریب تر ہے۔


شیئر کریں: