Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چکدرہ تا چترال ایکسپر یس وے کا منصوبہ عنقریب وزیراعظم افتتاح کریں گے..وزیراعلیٰ

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے چکدرہ لوئر دیر کا دورہ کیا ہے ، جہاں پر انہوں نے چکدرہ لوئر دیر کے مقام پر نئے تعمیر ہونے والے 6کلومیٹر چکدرہ بائی پاس کا باضابطہ افتتاح کیاہے۔ منصوبے پر 450ملین روپے لاگت آئے گی جبکہ منصوبہ دو سالوں میں مکمل کیا جائیگاجس سے دیر پائیں ، دیر بالا ، باجوڑ اور چترال کے تقریباً 33لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ مذکورہ بائی پاس روڈ کی تعمیر علاقے کے چار اضلاع کے عوام کا مشترکہ اور دیرینہ مطالبہ تھاجسے موجودہ حکومت نے پورا کر دیا ہے۔ چکدرہ بائی پاس روڈ کی تعمیر سے چکدرہ کے مقام پر بے ہنگم ٹریفک کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو سکے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ادنیزئی دیر پائیں میں مجوزہ سانام ڈیم کی تعمیر کیلئے 50 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں اور اس منصوبے کا افتتاح بھی وہ خود کریں گے ۔ اُنہوںنے چکدرہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو کیٹگری بی کا درجہ دینے جبکہ مذکورہ ہسپتال میں ڈائیلاسز یونٹ کی عملے کی فراہمی ممکن بنائی جائیگی۔ وزیراعلیٰ نے تیمر گرہ میں واکنگ ٹریک کیلئے 5 کروڑ روپے فراہم کرنے کا بھی اعلان کیاہے۔ انہوں نے گل آباد سربالا روڈ اور چکدرہ بازار کی بیوٹیفکیشن کابھی اعلان کیا ہے۔ اُنہوںنے کہا ہے کہ دیر بالا میں کیڈٹ کالج کا قیام آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا جبکہ 40 میگاواٹ کی استعداد رکھنے والی کوٹو ہائیڈل پراجیکٹ کی پیداواری بجلی ویلنگ کے ذریعے مقامی صنعتوں کو فراہم کی جائیگی تاکہ یہا ں پر صنعتی شعبہ تیز تر ترقی کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ چکدرہ تا چترال ایکسپر یس وے کا منصوبہ بھی منظور ہو چکا ہے اور عنقریب وزیراعظم پاکستان عمران خان خود آکر اس میگا پراجیکٹ کا افتتاح کریں گے ۔ یہ اعلانات وزیراعلیٰ نے جمعرات کے روز چکدرہ دیر پائیں میں چکدرہ بائی پاس کے سنگ بنیاد کی افتتاح کے بعد ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیاہے۔جلسہ عام میں دیر پائیں اور باجوڑ سے منتخب ایم این اے محمد بشیر خان، گل داد خان اور محبوب شاہ ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی شفیع اﷲ خان، پی ٹی آئی ملاکنڈ کے صدر و ڈیڈک چیئرمین فضل حکیم خان، ایم پی ایز محمد اعظم خان، ملک لیاقت، ہمایون خان و دیگر اراکین اسمبلی، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود، ڈپٹی کمشنر لوئر دیر سعادت حسن، ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ ریحان خٹک سمیت تمام سرکاری محکمہ جات کے افسران ، پی ٹی آئی کے کارکنان اور علاقہ کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تختے کی نقاب کشائی کرکے باقاعدہ طور پر چکدرہ بائی پاس کے مواصلاتی منصوبے کا افتتاح کیاہے۔ دریں اثناءانہوںنے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کو ہدف تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ دیر پائیں پر 70 سال برسر اقتدار روہنے والے لوگوں نے یہاں کے عوام کی بھلائی کیلئے کچھ نہیں کیاہے۔ اُنہوںنے کہا کہ دیر کے عوام کو گزشتہ ادوار میں ترقی سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ موجودہ صوبائی حکومت اس علاقے کو ترقی کے سفر میں برابر حصہ دے گی ۔ اُنہوںنے کہاکہ وہ باجوڑ اور دیر بار بار آتے رہیں گے تاکہ یہاں کے عوام کو محرومی کا احساس نہ ہو۔ اُنہوںنے دیر کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا اور کہاہے کہ یہاں کہ عوام سے ان کی گہر ی محبت ہے اور الیکشن میں یہاں کے لوگوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولیں گے ۔ اُنہوںنے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی کو گزشتہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت ایک بدحال پاکستان ملا تھا اور ہماری قیادت نے بیرونی سطح پر ملک کی مثبت تصویر کشی پیش کرکے خارجہ پالیسی بہتر بنائی جبکہ معاشی استحکام کیلئے وقتی طور پر سخت فیصلے کئے تاہم ترقی کا سورج طلوع ہونے والا ہے اور ملک کی معیشت جلد بہتر ہو جائے گی ۔ اُنہوںنے کہاکہ صوبے میں بہتر کارکردگی اور عوام دوست پالیسیوں کے بدولت خیبرپختونخوا میں مسلسل دوسری بار اقتدار ملنا تحریک انصاف پر عوام کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاکستان تحریک انصاف مخالفین کے منفی پروپیگنڈوں سے مرغوب نہیں ہو گی اور 5 سال کیلئے صوبے کے عوام کی خدمت کرے گی۔ اُنہوںنے کہاکہ وہ اس صوبے کے خوش قسمت وزیراعلیٰ ہیں جن کے دور میں 70 سالوں سے محروم نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کو صوبے میں ضم کیا گیا اور اب وہ علاقے ترقی کے دہارے میں شامل ہو گئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے احساس پروگرام شروع کیا ہے جبکہ بہت جلد صوبے میں احساس آمدن پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت جو بھی ترقیاتی کام کرے گی وہ پوری دنیا دیکھیں گی جبکہ پچھلے دورے حکومتوں میں حکمرانوں نے عوام کیساتھ دھوکے کے سواءکچھ نہیں کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں بیروزگاری کا خاتمہ صنعت کاری کے ذریعے ممکن بنائےں گے۔ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جوبچوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی و دیگر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دلائی جائیں گی۔ جلسےسے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، ملاکنڈ ریجن پی ٹی آئی کے صدر و ڈیڈک چیئرمین فضل حکیم خان ، ایم پی اے ہمایون خان ، ایم این ایز بشیر خان اور محبوب شاہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
…………….
cm mehmood khan lower dir visit1 scaled

cm mehmood khan lower dir visit
……………….
.
20 منزلہ ڈیجیٹل کمپلیکس پشاورکا قیام ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے ایک تحفہ ہے..وزیراعلیٰ
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ 20 منزلہ ڈیجیٹل کمپلیکس پشاورکا قیام ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے ایک تحفہ ہے جبکہ کمپلیکس کا قیام وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کی طرف صوبائی حکومت کا ایک عملی اور ٹھوس اقدام ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ڈیجیٹل کمپلیکس پشاور کے پی آئی ٹی بورڈ اور وفاقی حکومت کے ادارے پی سی ایس آئی آر کے باہمی اشتراک سے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ ڈیجیٹل کمپلیکس پشاور کے قیام کیلئے پی سی ایس آئی آر 16 کنال اراضی فراہم کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پشاور ڈیجیٹل کمپلیکس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انویشن پارک، اینکوبیشن اینڈ کو ورکنگ فسلٹیز ، ڈیٹا سنٹر ، بزنس پراسس آﺅٹ سورسنگ ریڈی فسلٹیز ، آئی ٹی اینڈ آئی سی ٹی کمپنیز سرکاری دفاتر ، نمائش گاہ، آڈیٹوریم اور دیگر سہولیات موجود ہوں گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی موجودگی میں کے پی آئی ٹی بورڈ اور پی سی ایس آئی آر کے مابین وزیر اعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ڈیجیٹل کمپلیکس پشاور کے قیام کیلئے جوائنٹ وینچرپر دستخط کی تقریب کے دوران کیا ہے۔ تقریب میں وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے آئی ٹی ضیاءاﷲ بنگش، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ ، سیکرٹری آئی ٹی،ایم ڈی کے پی آئی ٹی بورڈ و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے گفتگو بھی کی ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہڈیجیٹل کمپلیکس ضلع پشاور میں بلند ترین عمارت ہو گی جس کا قیام خیبرپختونخوا ایک شناختی علامت ثابت ہو گا۔ ڈیجیٹل کمپلیکس میں نوجوانوں کو تکنیکی ہنر سکھانے کیلئے تمام سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت ڈیجیٹل کمپلیکس کے ذریعے صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دے گی ۔ انہوںنے کہا کہ ڈیجیٹل کمپلیکس سے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ بین الاقوامی آئی ٹی سیکٹر سے وابستہ سرمایہ کار ، صنعتکاراور خصوصاًنوجوان مستفید ہوں گے جبکہ ڈیجیٹل کمپلیکس پشاور میں نوجوانوں کو روزگار کے وسیع مواقع بھی فراہم کئے جائیں گے ۔ ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام سے تعلیمی اداروں اور انڈسٹریز کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ڈیجیٹل کمپلیکس سے صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خاطر خواہ ترقی ملے گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ڈیجیٹل کمپلیکس پشاور کا قیام صوبے کا سب سے پہلا اور بڑا آئی ٹی منصوبہ ہے ۔ اس موقع پروفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ آج صوبہ خیبرپختونخوا اور خصوصی طور پر پشاور کیلئے تاریخی دن ہے ۔ ڈیجیٹل کمپلیکس یقینا شعبہ آئی ٹی کے فروغ میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ اُنہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت آئی ٹی کے فروغ اور ڈیجیٹل پاکستان کیلئے پر عزم ہے ۔ ڈیجیٹل کمپلیکس منصوبے کا مقصد صوبے میں نالج بیسڈ اکنامی کو فروغ دینا ہے جس میں کاروبار ی صلاحیتوں کی ترقی کیلئے سہولیات کی فراہمی بلاواسطہ اور بلا واسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ، انڈسٹری اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ تنظیموں کے مابین فاصلوں کو ختم کرنا ہے ۔ ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام سے انٹر پرینورشپ کو فروغ دیا جائے گا جبکہ پورے ملک میں سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ڈیجیٹل کمپلیکس پشاور کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں امن لوٹ آیا ہے جبکہ پورے خطے میں امن سے پشاور سنٹرل ایشیاءممالک کیلئے گیٹ وے ثابت ہو گا۔ ڈیجیٹل کمپلیکس خیبرپختونخوا کو آئی ٹی کی دُنیا میں مزید ترقی دے گا۔ اُنہوںنے کہاکہ پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہی آگے جا سکتا ہے ۔ خیبرپختونخوا میں سیاحت ، ہائیر ایجوکیشن میں خاطرخواہ اضافہ ہو ا ہے ۔ ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام سے پشاور شہرایک سنٹرلائز سٹی بنے گاجس سے صوبے سمیت پورے ملک کو فائدہ ہو گا۔ انہوںنے عندیہ دیا کہ خیبرپختونخوا حکومت سے مل کر آئی ٹی شعبہ میں مزید منصوبے بروئے کار لائیں گے ۔ وفاقی وزیر نے یقین دلایا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں آئی ٹی کے فروغ کیلئے وفاقی حکومت تما م تر تعاون فراہم کرے گی ۔
<>
…………….
.
صوبائی حکومت کا عوامی مسائل براہ راست حل کرنے کیلئے ایک اور انقلابی اقدام ۔ وزیراعلیٰ
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں “خپل وزیراعلیٰ شکایات سیل ” کے نام سے کمپلینٹ سیل کا قیام۔ محمود خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ” خپل وزیراعلیٰ شکایات سیل ” کے نام سے کمپلینٹ سیل کے قیام کا باضابطہ افتتاح کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبے بھربشمول نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام اب “خپل وزیراعلیٰ شکایات سیل ” کے لینڈ لائن نمبر1800 پر براہ راست اپنے شکایات درج کر سکیں گے جس کا ازالہ فوری طور پر ممکن بنایا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے شکایات سیل میں براہ راست عوامی مسائل سن کر کمپلینٹ سیل کا باقاعدہ افتتاح کیا اور کہا کہ عوام کے مسائل اور شکایات فوری طور پر حل کرنے کےلئے کمپلینٹ سیل کی مسلسل نگرانی کی جائیگی۔تفصیلات کے مطابق شکایات سیل میں خیبرپختونخوا کے بندوبستی اضلاع کیلئے تین کاونٹرز قائم کئے گئے ہیں جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے شکایات کی ازالہ کیلئے علیحدہ دو کاو ¿نٹرز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر وزیرعلیٰ شکایات سیل میں وزیراعلیٰ نے بذات خود عوام کی شکایات ٹیلیفون کے ذریعے سنی اور موقع پراُن کے حل کیلئے احکامات بھی جاری کئے۔ اس دوران متعلقہ حکام نے وزیراعلیٰ کو شکایات سیل میں عوامی مسائل کے حل کے لئے مجوزہ طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ شکایات سیل کے قیام کے پہلے دن ہی 22 شکایات سنی گئی ، جن میں سے وزیراعلیٰ نے ایک شکایت کے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے جبکہ باقی ماندہ شکایات کے فوری حل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس دوران وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر ، ایم پی اے محمد آصف ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ ، وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کے انچارج دلروز خان و دیگر بھی موجودتھے۔
<><><><><><>

صوبائی حکومت کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاو کو روکنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ وزیراعلیٰ
عوام اس وائرس سے خود کو محفوظ کرنے کے لئے حفاظتی تدابیر اپنائیں۔محمود خان
صوبائی حکومت لوگوں کو اس وبا سے محفوط بنانے کے لئے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گی، محمود خان
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کرونا وائرس کے متوقع پھیلاو ¿ کو روکنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ اس سلسلے میں ہسپتالوں سمیت اور انٹری پوائنٹس پر تمام ضروری انتظامات پہلے ہی سے مکمل کر لئے گئے ہےں۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہر قسم کے مشکل اور سخت فیصلے کیے جائیں گے۔ اور اس وائرس کے ممکنہ پھیلاو ¿ کو روکنے کے لئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں کیونکہ حکومت کے لیے عوام کی صحت اور ان کی زندگی سب سے مقدم ہے۔ عالمی سطح پر کرونا وائرس سے اموات کی شرح کو دیگر بیماریوں کے مقابلے میں انتہائی کم قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس وائرس سے بچنے کے لئے حفاظتی تدابیر پر زیادہ سے زیادہ عمل کریں اور کسی بھی قسم کے خوف ہراس کا شکار نہ ہوں کیونکہ حکومت ایسی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہر لحاظ سے تیار ہے۔ دریں اثناءوزیر اعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایات پر صوبے میں کرونا وائرس کے متوقع پھیلاو ¿ کو روکنے کے سلسلے میں تیاریوں اور انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کے علاوہ، سیکرٹری ریلیف ، محکمہ صحت کے اعلی حکام اور دیکر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی اور اسلام آباد میں کرونا وائرس کے دو کیسز سامنے آنے کے بعد صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور اس تناظر میں صوبائی حکومت کی تیاریوں اور حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا ءنے اس حوالے سے محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کو مزید فول پروف بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔


شیئر کریں: