Chitral Times

Jan 22, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مدارس اصلاحات مسترد، جے یو ائی…………پروفیسر رحمت کریم بیگ چترال

Posted on
شیئر کریں:

اوپر والا شہ سرخی روزنامہ آج میں شائع ہوئی ہے جس میں حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر مدارس کے ملک گیر نظام میں شاید کچھ اصلاحات یا ترامیم یا کچھ اور تبدیلی کی بات کی گئی ہو یا جے یو آئی اپنی سیاست کی رفتار کو رواں دواں رکھنے کے لئے کوئی خود ساختہ بیاں گھڑ کر عوام کے مذہبی جذبات کو ابحارنے کی اپنی سعی کر رہی ہو، چونکہ جے یو ؤئی کو حکومت وقت سے خدا واسطے کا بیر ہے اور ہار کی تلخ یاد ابھی زبان پر موجود ہے اس لئے عوام کو اشتعال میں لانے کے لئے کوئی د لکش منشور سامنے لانے کی بجائے مذہب کی آڑ میں پیٹ بھرنے کی کوشش کو زندہ رکھنا ایک مقصد ہے۔
.
دینی مدارس تقریبا گیارہ سو سالوں سے دینی تعلیم کی ترویج کا فریضہ انجام دیتے چلے ائے ہیں اور ان باقاعدہ مدارس کے ساتھ ساتھ جید علمائے دین نے اپنی اپنی وژن پر مبنی دینی درسی نظام بھی قائم کرکے دین کی بھر پور خدمت کی ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری و ساری ہے اس زمانے میں بغداد کے بعد قاہرہ، بلخ و بخارا ، دمشق کے علاوہ ایران میں بھی فرقہ جعفریہ کے مبلغین کام کرتے آئے ہیں اور اس دور میں جبکہ بجلی کی نعمت، کاغذ، سیاہی وغیرہ سہولیات کا شدید فقدان تھا اور ان کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا یا ان کو بنانے کی باقاعدہ ایک تربیت حاصل کی جاتی تھی ان سب مشکلات کے باوجود علمائے دین نے تعلیم و تعلم کے ساتھ تصنیفات کا مشکل کام بھی جاری رکھا اور کئی ایسے علماء کے نام ملتے ہیں جنہوں نے تین سو تک کتابیں لکھی ہیں جن میں سے آج کل چند ہی دستیاب ہیں البتہ عرب ممالک میں ذیاادہ تعداد دستیاب ہونے کی امید کی جاسکتی ہے ان بزرگان دین نے اس طرح دین کی جو خدمت کی اور جنہوں نے تعلم کا سلسلہ جاری رکھا آج ہم ان کی ان خدمات کا کوئی حق ادا نہیں کرسکتے اور ہمارے پاس آج وسائل کی کیا کمی ہے؟
.
اب سوال یہ ہے کہ کیا دینی نظام تعلیم میں جدید دود کے تقاضوں کے مطابق نصاب کو چھونا گناہ ہے؟ کیا جدید دور کے تقاضے قدیم سے مختلف نہیں ہیں؟ دینی مدارس کے طریقہء کار کو جدید ضروریات کی روشنی میں مزید ھنر مند بنانے سے روکنا ہی بنیادی اسلام ہے؟ کیا دینی مدارس کے طلباء کو کئی زبانیں جاننا ضروری نہیں؟ کیا اسے جدید ٹکنالوجی سے آشنا نہیں ہونا چاہئے؟ بلکہ اس میں تو مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہود و ہنود کی ریشہ دوانیوں کا جواب انہی کی ٹکنالوجی میں دیا جائے ورنہ وہ ہر طرح سے اسلام پر حملہ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے اس لئے میری رائے میں ہمارے تمام مدارس کو رجسٹر کرنا، ان کی نصاب میں اکابر علماء کی رہنمائی میں مناسب اضافہ اور ترمیم کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس کو روکنے کی کوشش یا اسے ایک سیاسی ایشو بناکر اپنے زاتی مقاصد کے حصول کی کوشش قوم کے ساتھ نا انصافی ہوگی،۔
آج ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بناکر چندہ کشی کی مہم کا ایک یلغار کر رکھا ہے، یہ ایک گداگری ہے، ایسے مشروم قسم کے مدرسے بچوں کو ایک محدود مکان یا ایک ہی کمرے میں جمع کرکے دین کی خدمت کے نام پر جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ان میں ان معصوم بچوں کے رہائش کی جگہ بھی نہیں،سہولیات بھی نہیں، صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہے، ان کے بارے میں میرا ذ اتی تجربہ ہے کہ وہاں جلدی بیماریاں پھیل کر بچوں اور بچیوں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہیں ، ایک محدود جگہ میں over crowded تعداد علم کی روشنی لیکر نکلنے کی بجائے مرض لیکر نکلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اس لئے ان تمام مدارس کو جن کے پاس نا کافی عمارت ہے بند کردیا جائے اور جن کے پاس وسیع عمارت کے ساتھ اعلی علمی قابلیت کے حامل اساتذہ ہوں ان کو رجسٹر کرکے ان کی نصاب میں مناسب اضافہ کرکے جدید دور کے لئے علماء تیار کرنا از حد ضروری ہے اور ان کی موجودہ آٹھ سالہ مختصر دور کو بڑھاکر تیئس سال کرنا بھی بنیادی ضرورت ہے کہ قران کریم تئیس سال میں نازل کیا گیا ورنہ اللہ تعالی اس کو آٹھ سال میں یا اس سے بھی کم وقت میں یا ایک ہی وقت میں نازل فرما سکتا تھا مگر ایسا کرنا انسانی نفسیات کے مطابق نہ تھا اس لئے تئیس سال کی مدت میں اسے خوب زہین نشین کرایا گیا اب بھی اسی مدت کو ان مدارس میں لاگو کیا جانا چاہئے۔ وسلام


شیئر کریں: