Chitral Times

Nov 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انسانی کورونا وائرس‎…………اجمل الدیں

Posted on
شیئر کریں:

ملک کے مختلف شہروں سے اردو اور انگریزی میں چھپنے والے اخبارات کا جب آپ روزانہ کی بنیاد پر مطالعہ کرینگے تو ہر شہر میں آئے روز ایکسیڈنٹ اور فوتگی کی دو یا تین خبرین ضرور ہوتی ہیں۔ ایکسیڈنٹ سے مراد یہ نہیں کہ گاڑی دشوار گزار راستوں کی وجہ سے گہری کھائی میں جا گری ہو یا زیادہ لوڈ کی وجہ سے موڑ کھاتے ہؤے الٹ گئی ہو یا زیادہ سپیڈ کی وجہ سے بریک فیل ہوکر حادثے کا شکار ہو گئی ہو بلکہ یہاں ایکسیڈنٹ سے میری مراد وہ غلطی ہے جسے ڈرائیور یا پیدل چلنے والے حضرات بذات خود معمولی غفلت کی وجہ سے کرتے ہیں اور بڑے سانحے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کبھی ٹرک کی ٹکر سے نوجوان شہری جانبحق ہوتا ہے تو کبھی ٹریکٹر ٹرالی موٹرسائیکل سوارون پر چل دوڑتی ہے اور کبھی کبھار سائیکل کے ٹکرانے کی وجہ سے بوڑھے شہری کی جان چلی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر اوسطا حساب لگایا جائے تو صرف پشاور شہر اور گردونواح میں 1000 اور پورے پاکستان میں کم از کم 20000 بے گناہ شہری اس غلطی کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جو ہمارے معاشرے کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

کوروناوائرس (کوؤڈ-19) جو چائینہ کے وؤہان سٹی سے پھیل کر دنیا کے25 ممالک تک پہنچ چکا ہے اور قریبا ابتک 2600 سے زیادہ ہلاکتین اور 80000 سے زیادہ متاثر بھی ہؤے ہیں اور جس کے پھیلاؤ پر، بروقت کاروائی اور احتیاط کی وجہ سے کافی حد تک کنٹرول بھی کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بھی مارس (MARS) اور سارس (SARS) جیسے وائریسس پر بھی قابو پایا گیا تھا۔ جنکی وجہ سے ہزارون کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔ لیکن ڈرائور یا عام شہریوں کے غلط سڑک پار کرنے یا بے احتیاط چلنے کی وجہ سے جو ہلاکتیں ہو رہی ہیں ان پر کیسے قابو پایا جائے۔ کورونا وائرس (COVID-19)، مارس (MARS) اور سارس (SARS) جیسے مہلک وائرل بیماریوں کا ذکر اسلئے کیا کہ دنیا کے سائنسدان کسی بھی مہلک بیماری کا علاج نکال سکتے ہیں لیکن اس بے احتیاطی کا نہ تو کوئی ہومیوپیتھک علاج ہے، نہ یونانی اور نہ انگریزی۔

فرض کرین اگر ہم ٹریفک والون کو ذمہ دار ٹھرائیں تو وہ بے چارے کس کس گلی میں پوسٹ بنائیں یہان تو ہر گلی میں گاڑیان چل دوڑتی ہیں۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اور لگن سے کام کرنے کے باؤجود انکو ہر گلی کا ذمہ دار ٹھرانا بھی زیادتی ہے۔ اسطرح کے حادثون کی ساری ذمہ داری خود ڈرائور اور پیدل چلنے والوں پہ عائد ہوتی ہے جو اپنے مخصوص کردہ اطراف اور حدود میں نہیں چلتے۔ اول تو ڈرائونگ اس بندے کو کرنی چاہئے جسے گاڑی چلانا آتا ہو اور لائسنس بھی موجود ہو۔ باؤجود اسکے وہ انتہائی احتیاط، کنٹرول اور ذمہ داری کے ساتھ گاڑی چلائے۔ دوسری بات سڑک پر پیدل مٹر گشت کرنے والے شہریون کو بھی چاہئے کہ وہ احتیاط کا مظاہرہ کریں اور اپنی قیمتی جانوں کا خیال خود رکھیں۔ یہی دو چیزین ان حادثاتی ہلاکتون سے بچنے کے لئے دوا کا کام دے سکتی ہیں۔ ورنہ صرف ٹریفک پولیس پر اکتفا کرنا اسکے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ دو چیزین باآسانی ہر شہری کو میئسر ہوں، اسکے لئے ہر ڈسٹرکٹ لیول پہ ایک منظم تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، سرکاری اور نجی ادارون اور این جی اوز کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر مکمل قابو نہیں کرسکتے تو کم از کم اسکے پھیلاؤ اور زیادتی کو تو روک سکتے ہیں۔ ورنہ یاد رکھیں یہ تمام مہلک وائرل اور بیکٹیرئل بیماریون سے بھی خطرناک انسانی کورونا وائرس ثابت ہوسکتا ہے۔

اجمل الدیں
لیکچرر
زرعی یونیورسٹی پشاور


شیئر کریں: