Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میری والدہ اے.کے.ایچ.ایس.پی انتظامیہ کی ظلم اورناانصافی کاشکارہوئی،انصاف دلایاجائے..جواد

شیئر کریں:

پشاور (علی مراد) آغا خان فیمیلی ہیلتھ سنٹر پشاور کی دائی اے کے ایچ ایس پی مینجمنٹ اور لوکل کونسل پشاوراینڈ مردان کے تین عہدیداروں کی ذاتی عناد، دھوکہ دہی، طالمانہ رویئے سے تنگ آکر برین ہیمرج کے باعث جاں بحق ہو گئی، میری والدہ انصاف کے لئے لڑتی رہی آخر کار انصاف نہ ملنے پر ذہنی دباو کے باعث دماغ کی رگیں پھٹنے سے دنیا چھوڑ گئی. میرا اس دنیا میں اب کوئی نہیں میرا مستقبل تاریک ہو گیا فیس نہ دینے کی وجہ سے مجھے اسکول سے بھی نکال دیا گیا وزیر اعلی خیبر پختون خوا ،حلقے کے ایم پی اے اور وزیر اعلی کے معاون خصوصی کامران بنگش واقعے کا نوٹس لیکر ملازمین کو انکی ملازمت پر بحال کرواٗئیں اور تین سالوں سے تنخواہ اور معاوضے سے محروم ملازمین کو انکی تنخواہ دلوانے میں کردار ادا کریں تنخواہ اور معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے سولہ ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے.
.
ان خیالات کا اظہار آغا خان فیمیلی ہیلتھ سنٹر پشاور کی مرحومہ دائی حمیدہ بانو کے اکلوتے بیٹے جواد، انکی بیٹی رابعہ ، نرگس اور روبی نے میڈیا کو اپنی دکھ بھری دستاں سناتے ہوئے کیا جواد نے بتایا کہ میری ماں ہی واحد سہارا تھی جو ناانصافی میری ماں کے ساتھ ہوئی اور اب دیگر ملازمین کے ساتھ بھی ہو رہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے وزیر اعلی اور حلقے کے ایم پی اے و معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش ملازمین کی مشکلات کا نوٹس لیں،
اس موقع پر اغا خان فیمیلی ہیلتھ سنٹر کے ملازمین نے بھی ظلم اور نا انصافی کا شکار دائی حمیدہ کے انتقال پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حمیدہ تین سالوں سے تنخواہ اور معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے مسلسل دباو کا شکار تھی مکان کا کرایہ دے سکتی تھی نہ ہی بیٹے کی فیس، یہاں تک کہ کھانے کے لئے بھی پیسے نہیں تھے. اغا خان ہیلتھ سروسز پاکستان کی نا اہل انتظامیہ کو اپنی عیاشیوں سے فرصت ملے تو ملازمین کو انصاف ملے گا ان ملازمین کی دن رات کی محنت کی بدولت ہی ادارہ آئی ایس او سرٹیفائڈ ہو گیا آج ان ملازمین کو ذلیل و خوار کیا جا رہاہے انہوں نے کہا کہ ادارے میں موجود بھیڑیوں کے کالے کرتوتوں کو اب عوام کے سامنے اور خصو صا اسماعیلی کمیونیٹی کے سامنے لانے کا وقت آگیا ہے. اے کے ایچ ایس پی کے سی ای او، ایچ آر ہیڈ ،جی ایم ،ایچ پی ایم مینجر ماہانہ فی کس لاکھوں میں تنخواہ لے رہے ہیں اور اب وہ پرانے باصلاحیت، تجربہ کار ملازمین کو ہٹا کر اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے چترال اور پنجاب میں اپنے رشتہ داروں کو نواز رہے ہیں.انھوں‌نے کہا کہ ادارہ کے اندر نیچلے طبقے کیلئے الگ پالیسی اورقانون ہے جبکہ اونچے طبقے کیلئے سب کچھ الگ ہے. جسکی وجہ سے غریب طبقہ کسمپرسی کا شکار ہے.
.
ملازمین اور مرحوم دائی کے بچوں کا کہنا تھا کہ تین سالوں میں ڈونرز کے پیسوں سے مقدمہ بازی ، کراچی سے پشاور تک بذریعہ جہاز سفر، فائیو اسٹارز ہوٹلوں میں قیام و طعام پر اب تک کروڑوں روپے اڑا چکے ہیں لیکن اپنے قابل، با صلاحیت تجربہ کار ڈٓاکٹرز ،سنیئر لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اور دیگر مخلص ملازمین کو ملازمت ، معاوضہ اور تنخواہ دینے کے لئے ان کے پاس پیسہ نہیں ہے جسکی وجہ سے دائی حمیدہ جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں ہیزہائنس کے اداوروں میں ملازمین کو عزت دی جاتی ہے لیکن نااہل انتظٓا میہ ادارے کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے .
.
رہی سہی کسرغیر متعلقہ، نااہل اوران پڑھ افراد کی بلاوجہ مداخلت نے پوری کی۔ ملازمین مسلسل مینٹل ٹاچر کرنے کے باعث ذہنی کوفت اور ڈپریشن کا شکار ہیں تنخواہ اور معاوضہ نہ ملنے کے باعث انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں گھر کا کرایہ دے سکتے ہیں نہ ہی یوٹیلیٹی بلز ، بچوں کی فیسیں نہ دینے کے باعث بچوں کو بھی اسکولوں سے نکالا جا چکا ہے جسکی وجہ سے ان کے بچوں کا مستقبل بھی تاریک ہو گیا ہے حالانکہ اسماعیلی کمیونیٹی میں کہیں بھی یہ ظلم نہیں اور یہ نا انصافی امام کے وژن کے برعکس ہے اس موقع پر ہیلتھ سنٹر پشاور کے متاثرہ ملازمین دائی حمیدہ بانو کے گھر گئے اور انکے اکلوتے بیٹے اور بیٹیوں سے انکی ماں کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اورانہیں تسلی دی ملازمین نے یقین دلایا کہ ہرممکن انصاف کی فراہمی تک وہ انکے ساتھ ہیں اور حقوق کے لئے لڑتے رہیں گے.
.
اس سلسلے میں جب اے.کے.ایچ.ایس.پی کے ایک ذمہ دار سے ان کی ورژن لینے کیلئے رابطہ کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملازمین کوادارہ کی پالیسی اورقانون کے دائرے میں‌رہتے ہوئے فارغ کیا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ جب ان میں‌سے بعض نے عدالت سےرجوع کیا توعدالت نے بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے.


شیئر کریں: