Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرکاری نوکری اور وزیراعظم کا مشورہ ………..محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی نوجوانوں کومشورہ دیا ہے کہ وہ بھاری تنخواہوں اور پنشن والی سرکاری نوکری کے پیچھے نہ بھاگیں، ایسی نوکری کا مطلب اپنی صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔وزیراعظم کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سرکاری اداروں کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔اگر سرکار کے اداروں میں جانے والے لوگوں کی صلاحیتیں ضائع ہوتی ہیں توصلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا متبادل فورم کیا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملک کے بیشتر وفاقی اور صوبائی محکمے اور ادارے اس غریب ملک کے وسائل پر بلاوجہ کے بوجھ ہیں۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں مختلف سرکاری محکموں کے گریڈ ایک سے بائیس تک کے ملازمین کی تعداد پچیس تیس لاکھ سے زیادہ نہیں ہے۔ قومی بجٹ کا کم از کم 70فیصد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، مراعات، الاونسز، ٹی اے، ڈی اے، گاڑیوں کی خریداری، فیول، مرمت کے اخراجات، سرکاری رہائش گاہوں کی تعمیر، تزین و آرائش اور دیکھ بھال اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن پر خرچ ہوتا ہے۔ جسے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا نام دیا جاتاہے۔ باقی ماندہ تیس فیصد بجٹ میں سے بھی دس فیصد ترقیاتی منصوبوں میں وصول کئے جانے والے کمیشن کی نذر ہوتا ہے۔ باقی ماندہ بجٹ کا دس فیصد محکموں کی نام نہاد کفایت شعاری یا نااہلی کی وجہ سے استعمال ہی نہیں ہوپاتا۔ 21کروڑ70لاکھ کی آبادی کی فلاح و بہبود اور ترقی پر صرف دس فیصد بجٹ ہی خرچ ہوتا ہے۔دوسری جانب مختلف پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ جبکہ دیہاڑی دار مزدوروں کی تعداد بھی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جن کے لئے حکومت نے کم سے کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ مقرر توکررکھی ہے جبکہ ننانوے فیصد پرائیویٹ ادارے اپنے ملازمین کو پندرہ ہزار روپے تنخواہ بھی نہیں دیتے۔اور حکومت کے پاس اپنے وضع کردہ قوانین پر عمل درآمد کرانے کا بھی کوئی میکینزم بھی موجود نہیں ہے۔سرکاری محکموں کے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ اس میں داخل ہونا مشکل ہے ایک بار بندہ سرکاری محکمے میں گھس جائے پھر موجیں ہی موجیں ہیں۔کام نہ کرنے کی تنخواہ ملتی ہے اور کسی کاکام کرنے سے اوپر کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔یہی وہ آمدن ہے جس سے کوٹھیاں تعمیر کی جاتی ہیں اور ان کے داخلی مقام پر ہذا من فضل ربی کا بورڈ بھی لگایا جاتا ہے۔ کام چوری، فرائض سے غفلت برتنے یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے،کچھ دنوں کے لئے معطل کیا جاسکتا ہے یا افسر بکار خاص بنایا جاسکتا ہے وہ بھی کوئی خطرے والی بات نہیں۔گھر بیٹھے تنخواہیں اور مراعات ملتی رہتی ہیں۔ایک پی ٹی سی ٹیچر کی تنخواہ پچاس سے ساٹھ ہزار، سی ٹی کی ستر اسی ہزار، ایس ای ٹی کی ایک لاکھ کی لگ بھگ ہوتی ہے۔ پھر بھی میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں کسی سکول کا ایک طالب علم بھی ٹاپ ففٹی میں بھی جگہ نہیں بناپاتا۔ ساری پوزیشنیں دس، پندرہ اور بیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے اساتذہ کے شاگرد لے اڑتے ہیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ہر بجٹ میں کم از کم دس فیصد اضافہ کیا جاتا ہے۔پھر بھی وہ خوش نہیں ہوتے اور قلم چھوڑ ہڑتال شروع کرتے ہیں، جلسے، جلوس اور دھرنوں تک بھی بات پہنچتی ہے۔ اگر وزیراعظم واقعی سرکاری اداروں کی کارکردگی سے مایوس ہیں تو ان کی نجکاری کے لئے کمر کس لیں۔قوم کو بھی مفت کی روٹی توڑنے والوں سے نجات مل جائے گی۔ قومی خزانے پر بھی بوجھ کم ہوگا اور وسائل عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے دستیاب ہوں گے۔اگر حکومت اپنے لئے یہ نیا محاذ کھولنے سے ڈرتی ہے تو کم از کم یہ قانون تو وضع کرسکتی ہے کہ پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے کروڑوں افراد کے لئے اتنی تنخواہیں مقرر کرے جس سے وہ اپنی سفید پوشی برقرار رکھ سکیں اور اپنے بچوں کو معیاری تعلیم، مناسب علاج کے علاوہ دو وقت کا کھانا کھلا
سکیں۔قومی وسائل کی اس غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے معاشرے میں عدم توازن پایا جاتا ہے۔ اس ملک کے غیر سرکاری ادارے، ان کے ملازمین، محنت کش، مزدور، کسان اور تاجر اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر قومی خزانے کو ٹیکسوں سے بھرتے ہیں عوام کے ٹیکسوں سے حکمران اور سرکاری ملازمین عیاشیاں کرتے ہیں۔اور مزید عیاشیوں کے لئے بینکوں اور غیر ملکی اداروں سے بھاری شرح سود پر قرضے لئے جاتے ہیں اور یہ قرضے سے بھاری ٹیکسوں کی صورت میں عوام سے ہی وصول کئے جاتے ہیں۔غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذارنے والے ملک کے 50فیصد لوگوں میں سرکاری افسران اور ملازمین شامل نہیں ہیں۔آج حکمران خود قومی وسائل کی تقسیم میں اس سنگین ناانصافی کا ادراک کرنے لگے ہیں جو خوش آئند ہے۔ مگر صرف ادراک کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ مسئلے کے منصفانہ حل کے لئے عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔


شیئر کریں: