Chitral Times

Jul 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت تمام صوبائی حکومتوں ویڈیو کانفرنس

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت تمام صوبائی حکومتوں کا اجلاس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں تمام صوبوں میں خود ساختہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزوں اور اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کے خلاف کئے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکرٹری سندھ ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نہ صرف مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ بچوں کی نشوونما پر بھی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اُنہوںنے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کی روک تھام کیلئے تفصیلی حکمت عملی مرتب کریں جس کے بعد مسئلے سے نمٹنے کیلئے ملکی سطح پر حکمت عملی وضع کی جائے گی ۔ وزیراعظم کو بریفینگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا کہ وہ از خود ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبے بھر میں قیمتوں ، ذخیرہ اندوزی ، ملاوٹ، تجاوزات ،کھلی کچہری اور دیگر انتظامی اُمور کی مانیٹرنگ کر رہے ہیںجس میں تمام تر تفصیلات اور معلومات آزادانہ اور تھر ڈ پارٹی کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں، جس کے بعد ملوث عناصر کے خلاف ٹارگیٹڈ کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی مدد سے خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران پر قابو پا لیا گیا ہے۔وزیراعظم کو بریفینگ دیتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ نومبر2019 ءاورجنوری2020 کے بیچ میں صوبائی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے 16,000 سے زائد فیلڈ انسپکشنز اور 10,000 سے زائد فالو اپ انسپکشنز کی ہیں ، جن میں 512 اشیائے خوردونوش کے گودام سیل کئے گئے ہیں جبکہ 8.3 ملین روپے جرمانوں کی مد میں عائدکئے گئے ۔ اسی طرح 2 لاکھ77 ہزار لیٹر / کلوگرام ملاوٹ زدہ دودھ اور مشروبات تلف کی گئی جبکہ 04 ڈیٹا کوڈنگ مشینیں بھی تلف کی گئی ہیں۔ آگاہی کے حوالے سے فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے49 ٹریننگز بھی منعقد کی ہیں ۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دسمبر2019 اور جنوری2020 کے مہینوں میں 10,000 سے زائد یونٹس کا معائنہ کیا گیا جن میں 354 سیل کردیئے گئے ہیںجبکہ 7 ملین روپے جرمانوں کی مد میں عائد کئے ۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 35 ایف آئی آر زجسٹرڈ کی گئیں جبکہ تمام اضلاع میں ملاوٹ کے حوالے سے پروفائل بھی مرتب کی گئی ہیں، جس کی بنیاد پر ٹارگیٹڈ ایکشن لئے جاتے ہیں۔ خود ساختہ مہنگائی پر بریفینگ دیتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کہاکہ جنوری2020 میں 1853 معائنے کئے گئے جن میں 48 یونٹس کو سیل کرنے کے ساتھ ساتھ 65 ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ جرمانوں کی مد میں 4.3 ملین روپے عائد کئے گئے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں نان پریشیبل اشیائے جن میں دالیں اور چاول وغیرہ شامل ہیں کی قیمتوں کا تعین پرائس کنٹرول کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے جبکہ پریشیبل آئٹمز جن میں پھل اور سبزی وغیرہ شامل ہیں کی قیمتوں کا تعین پرائس مجسٹریٹ اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر زکی زیر نگرانی نیلامی میںکیا جاتا ہے ۔ تعین شدہ نرخوں کی مسلسل مانیٹرنگ آزادانہ اور تھرڈ پارٹی کے ذریعے کی جاتی ہے ۔ صوبے میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف کئے گئے اقدامات کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ جنوری2020 میں 352 یونٹس کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 23 یونٹس سیل کئے گئے جبکہ 3 لاکھ 47 ہزار روپے جرمانے بھی عائد کئے گئے اور ملوث عناصر کے خلاف 11 ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں ۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ ضلع پشاور ، ایبٹ آباد اور مردان میں موبائل اپلیکشن کے ذریعے پھلوںاور سبزیوں کی ڈیلیوری گھروں میں کی جارہی ہے جبکہ صوبے بھر میں 65 کسان مارکیٹس بھی فعال ہیں، جن کے ذریعے کسان براہ راست مقامی پیداوار سستے داموں فروخت کر رہے ہیں ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہاکہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے احکامات اور اُن کے وژن پر من و عن عمل پیرا ہے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام ممکن اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں ۔

<><><><><><><><>

وزیراعلیٰ‌کے زیر صدارت ٹیوٹا بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ‌)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پندرھویں اجلاس میں ارمڑ بالا ضلع پشاور میںگورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ ، جبکہ ادیزئی اور مدین میں ٹیکنیکل ٹریننگ اور ووکیشنل سنٹرز کے قیام سمیت دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے منظور شدہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، اور کہا ہے کہ فنی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم اور پریکٹیکل ٹریننگ کا خاطر خوا ہ نظام موجود ہونا چاہئیے تاکہ اداروں کے قیام کے مقاصد پورے ہو سکیں۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ، جس میں ٹیوٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین سمیت متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم منصوبوں اور امور کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں پشاور کے مضافاتی علاقے ارمڑ بالا میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اور ادیزئی میں گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ ووکیشنل سنٹر کے قیام کی منظوری دی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان منصوبوں کا قیام عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا ، جو صوبائی حکومت پورا کر رہی ہے ۔ اجلاس میں سکل ڈویلپمنٹ سنٹر بٹگرام کی اپگریڈیشن ، کے پی ٹیوٹا کے لئے چارٹرڈ اکاو ¿نٹنسی فرم کی ہائرنگ ، مدین سوات میں گورنمنٹ ووکیشنل سنٹر کے قیام ، مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن کمیٹی کی تشکیل ، کے پی ٹیوٹا اور ہاشو ہنرایسوسی ایشن کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور کے پی ٹیوٹا پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی کی منظوری دی گئی۔ علاوہ ازیں ٹیوٹا کے زیر نگرانی 66کلاس فور آسامیوں کی تخلیق ، ©ٹیوٹا اور کے پی بی ٹی ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ سکل ڈویلپمنٹ کوکے پی ٹیوٹاکے حوالے کرنے کی بھی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنے کےلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی، اور واضح کیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع اس سلسلے میں خصوصی توجہ اور کاوشوں کے متقاضی ہےں ۔ قبائلی نوجوانوں کو ہنرمندی کی سہولیات دینے سے ان کی معاشی صورتحال بہتر ہو سکے گی اور نوجوان اپنا روزگار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ انہوں نے ایف ڈی اے ملازمین کی زیر التواءتنخواہیں تمام تر ویریفیکیشن کے بعد ریلیز کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ اضلاع میں ٹیکنیکل آسامیاں پُر کرنے کے لئے کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر کہا کہ صوبہ بھر میں ٹیکنیکل تعلیم کے اداروں کا معیارمزید بہتر کیا جائے اور سلیبس میں ایسے کورسز شامل کیے جائے جن سے فارغ التحصیل طلباءکے لئے روزگار کا حصول یقینی ہو سکے۔ محمود خان نے ٹیکنیکل تعلیمی اداروں میں داخلہ کی شرح مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے ، جن کے نتائج نظر آنے چاہئیے۔
<><><><><>


شیئر کریں: