Chitral Times

Jul 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انجمن ترقی کھوارحلقہ ایون اور انجمن شمع فروزان ایون کے زیراہتمام محفل مشاعرہ

Posted on
شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) انجمن ترقی کھوار حلقہ ایون اور انجمن شمع فروزان ایون کا مشترکہ محفل مشاعرہ گورنمنٹ مڈل سکول ایون مولدہ کے امتحانی ہال میں منعقد ہو ا ۔ جس میں ممتاز ادبی و سماجی شخصیت عنایت اللہ اسیر صدر محفل اور سنئیر صحافی محکم الدین ایونی مہمان خصوصی تھے ۔ بارش کے باوجود مشاعرے میں بڑی تعداد میں مقامی شعرا کے علاوہ تورکہو،دروش، چمرکن ،بریر و دیگر مقامات سے تعلق رکھنے والے شعرا نے بھی شرکت کی ۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض خالد ظفر ظفر اور عبدالصمد صابر نے انجام دیں۔ مشاعرہ دو نشستوں پر مشتمل تھا ۔ پہلی نشست طرحی تھی۔ جس میں طرح مصرعہ ( دونیان اشناریان قیمت کیچہ نون اسمانو سوم لو)تھا۔ جبکہ دوسری نشست غیر طرحی تھی ۔ طرح مصرعہ میں ١٣شعرا نے اپنے کلام پیش کئے ۔ جس میں مہنگائی، بے روزگاری ،کاروباری کساد بازاری،وعدوں کی عدم پاسداری،اشیاء خودونوش اور اشیاء صرف کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے کی وجہ سے عوام کی زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات اور مشکلات کااحاطہ کرکے کلام پیش کئے گئے ۔ اور خوب داد وصول کی ۔خصوصا صدر انجمن ترقی کھوار حلقہ ایون حافظ خوشولی نے طرح مصرع میں ایک شاہکار کلام پیش کی ۔ جس پر تالیوں کی آواز سے ہال مسلسل گونجتا رہا ۔شعرا نے وزیر اعظم عمران خان کے ایک کروڑ ملازمتوں کا خواب دیکھاکر مزید بیس لاکھ لوگوں کو بیروزگار کرنے اور پچاس لاکھ گھروں کو لنگر خانوں اور شیلٹر میں تبدیل کرنے نیز یوٹرن میں سینچری بنانے پر ان کی گوشمالی کی اور اشعار کے ذریعے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ۔ تاہم کچھ شعرا نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر موجودہ حکومت کے اقدامات کادفاع کرنے کی کوشش کی ۔ طرحی مشاعرے میں خالد ظفر ظفر ،عبدالحسیب حسیب، نجیب الدین نجیب، نواب خان دلکش ،عبدالصمد صابر ، محمد اصغر خان شیدائی، رحمت آیاز فراق،شمس العارفین عارف،طاہرالدین شادان ،محمد صفی اللہ آصفی ،عنایت اللہ اسیر ، ظفرالدین سرور، مظفرالدین مظفر اور حافظ خوشولی خان ولی نے اپنے کلام پیش کئے ۔ حافظ خوشولی خان نے اپنے اشعار میں مسلم ممبران اسمبلی کی کارکردگی پر عدم اطمینان اور اقلیتی ممبر کی خدمات کی تعریف کی ۔ بعد آزان غیر طرحی مشاعرے میں بڑی تعداد میں نوجوان شعرا نے اپنے کلام پیش کئے ۔ جس میں غزل ،نظم اور دیگر صنف شامل تھے ۔ پروگرام کے اختتام پر صدر محفل اور مہمان خصوصی نے اپنے تاثرات بیان کرتے یوئے کہا ۔ کہ شعرا معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں ۔ جو کچھ معاشرے میں وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ شاعر کا ذہن اس کے منفی یا مثبت اثرات کو اپنے اشعار کا موضوع بناتا ہے ۔ یہ کسی کی طرفداری یا کسی کے خلاف بے بنیاد باتیں نہیں ہوتیں ۔ بلکہ اصلاح احوال کیلئے اشعار کے قالب میں حالات و واقعات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ انہوں دونوں ادبی تنظیمات کی مشترکہ طور پر ادبی محفل سجانے اور ادب کی خدمت کرنے کی تعریف کی ۔ مشاعرے کی یہ محفل رات گئے تک جاری رہا ۔ واضح رہے اس قسم کا ایک طرحی مشاعرہ( ای نوجوان ہنون روزگار مشکیران ) کے طرح مصرعہ پر شہید بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں گورنمنٹ ہائی سکول ایون میں منعقد ہوا تھا ۔ اس مشاعرے کے ایک ہفتے بعد بینظیر کی حکومت ختم کی گئی تھی ۔


شیئر کریں: