Chitral Times

Feb 22, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گلگت : پروفیسروں کا ایک بھی مسئلہ حل نہ ہونا افسوسناک ہے…..پروفیسرایسوسی ایشن

    February 12, 2020 at 6:38 pm

    گلگت(چترال ٹائمزرپورٹ) گلگت بلتستان پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر ارشاد احمد شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعلی، وزیر قانون اور سیکریٹروں کا متفقہ وعدہ اور معاہدہ کے باجود پروفیسروں کا ایک بھی مسئلہ حل نہ ہونا افسوسناک ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے پروفیسر ایسوسی ایشن چیف سیکریٹری، سیکریٹری تعلیم سمیت متعلقہ اداروں کو تحریری طور پر بار بار گزارش کررہی ہے کہ پروفیسروں کے جائز اور بنیادی مطالبات حل کریں لیکن کسی نے کان نہیں دھرے۔ کابینہ کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں‌نے کہا کہ نومبر 2019 کو ایسوسی ایشن نے مجبورا ہڑتال کی کال دی جس میں ٹوکن اسٹرائک کے بعد پورے جی بی کے کالجز میں تدریسی عمل معطل ہوا،وزیراعلی گلگت بلتستان نے پروفیسروں کے وفد کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔وزیراعلی کیساتھ وزیرقانون،سیکریٹری ثناء اللہ، ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر شاہد حسین اور ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ کے چار ڈپٹی ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔ پروفیسروں اور وزیراعلی صاحب کے درمیان طویل بات چیت ہوئی۔وزیراعلی نے ہائرٹائم سیکیل اور سروس اسٹرکچر کی فوری منظوری کا وعدہ کیا اور دیگر مطالبات کے حل کے لیے وفاق سمیت ہر فورم پر کوشش کرنے کی یقین دھانی کروائی۔وزیرقانون اورنگزیب کی سربراہی میں ان مطالبات کے فوری حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینا طے ہوا۔سیکریٹری ثناء اللہ اور ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر شاہد حسین نے گارنٹی دی۔ مگر تین مہینے گزرنے کے باوجود بھی پروفیسروں کا ایک بھی مطالبہ حل نہ ہوسکا۔ بیوروکریسی نے وزیراعلیٰ کی ڈائریکشن کو پس و پشت ڈالا۔ ٹائم سکیل کی فائل تین ماہ سے تین سیکریٹریوں کے درمیان فٹ بال بنی ہوئی ہے۔جو انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔
    .
    باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعلی نے سیکریٹریوں کو تنبیہ بھی کی ہے کہ دوبارہ پروفیسروں کی شکایت نہیں آنی چاہیے لیکن بیورکریسی نے تنبیہ کو بھی خاطر میں نہیں لایا اور ہائرٹائم سکیل پروموشن کی فائل کو دبائے رکھا۔مردوہ معاشروں اور ناکام نظام حکومتوں میں استادوں کے لیے ایسی رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔ زندہ معاشرے اور قومیں، اپنے معماران قوم کے ساتھ ایسا نہیں کرتیں۔ارشاد احمد نے مزید کہا کہ کالجز کے فیکلٹی ممبران میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔بہت جلد سخت قسم کا لائحہ عمل اور جداگانہ طرِز کوشش شروع کرنے والے ہیں۔اب وہ اپنے مطالبات کے لیے کسی کی نہیں سنیں گے بلکہ خود میدان میں آئیں گے تب ان کو روکنا ایسوسی ایشن سمیت کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔یقینا ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے گاتو وہ مشتعل ہونگے جس کی تمام ترذمہ داری انتظامیہ اور بیوروکریسی پر ہوگی۔صدر نے یہ بھی کہا کہ بروز پیر 17فروری کو پروفیسر ایسوسی ایشن گھڑی باغ سے وزیراعلی ہاوس تک احتجاجی ریلی نکالے گی جس میں پروفیسرپلے کارڈ تھامے ہونگے اور وزیراعلی ہاوس کے سامنے سینئر پروفیسر خطاب کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔صدر ارشاد احمد نے مزید کہا کہ پروفیسرایسوسی ایشن اپنے مطالبات کے حوالے سے سول سوسائٹی، صحافی براداری اور سوشل ایکٹوسٹ باخبر کرکے انہیں بھی ایکٹیو کرے گی اور اپنی محروموں کے ازالے کے لیے معاونت کی درخواست کرے گی۔صحافی براداری اور تمام اخبارات نے ہمیشہ سے پروفیسروں کے مطالبات اور مسائل کو اعلی حکام تک پہنچایا ہے جس پر پوری برادری ان کا ممنون و مشکور ہے۔وزیراعلی، وزیرتعلیم اور بیوروکریسی نے کالجز اور ان کے اساتذہ کو مسلسل محروم اور نظرانداز کیا ہوا ہے۔اس کی کیا وجوہات ہیں سمجھ سے بالا تر ہیں لیکن یہ طرز عمل انتہائی مایوس کن، غیرذمہ دارانہ اور سوتیلی ماں والا ہے جو قابل مذمت ہے۔

  • error: Content is protected !!