Chitral Times

Nov 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسامہ احمد وڑائچ شہید کی والدہ کے نام ………… تحریر: نسرین چیمہ

Posted on
شیئر کریں:

سات دسمبر 2016 کی شام کو ایک روح فرسا حادثہ پیش آیا۔ چترال سے اسلام آباد آنے والا طیارہ ایبٹ آباد کے قریب مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ خبر سنتے ہی سب کے اوسان خطا ہو گئے۔ ایک بم تھا جو پھٹ گیا۔ لواحقین پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ یہ حادثہ ہنستی مسکراتی زندگیوں کو غم و الم میں مبتلا کر گیا۔ تمام لوگوں کے دل غمناک ہو گئے۔ ہر عضو کانپ اٹھا۔ کتنے گھر اجڑ گئے؟ کتنے بچے یتیم ہو گئے؟ کتنی بہنوں بیٹیوں کے سہاگ اجڑ گئے؟ ممتا تڑپ اٹھی۔ ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے۔اس حادثے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ قصور وار کون ہے؟
.
جب بھی ایسا سانحہ ہوتا ہے تو اللہ کا حکم کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ اللہ کا نام سن کر مسلمانوں کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں۔ لیکن لوگوں کی آہ و زاری کیسے بند ہو؟ بے چین دلوں کو چین کہاں سے آئے؟ اس کے لیے تو چند دن نہیں، مہینے بھی نہیں بلکہ بہت سارے سال چاہییں۔
.
اسامہ احمد وڑائچ گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ وہ بچپن سے ہی انتہائی سوشل تھا۔ ماں باپ کی آنکھوں کا نور تھا۔ دوستوں کا گرویدہ اور محفلوں کی جان تھا۔ انتہائی سلجھی ہوئی اور نفاست پسند طبیعت کا مالک تھا۔ اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ وہ فطرتًا ایک اچھا انسان تھا۔ خوش مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ذہین اور فطین بھی تھا۔ شروع ہی سے کلاس میں امتیازی پوزیشن حاصل کرتا رہا۔ اس کا ہر قدم کامیابی و کامرانی کی طرف اٹھتا رہا۔ ہر امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ستائیس برس کی عمر میں وہ ڈی سی کے عہدے پر فائز ہوگیا۔ پہلے پشاور، پھر ایبٹ آباد، اور پھر چترال میں پوسٹنگ ہوئی۔ ڈی سی چترال اس کا خواب تھا جو پورا ہوگیا۔ وہ انتہائی ایماندار، مخلص اور دیانتدار افسر تھا۔ انسانوں سے محبت کرنا، ان کے بگڑے، الجھے کاموں کو سلجھانا، عوام کے مسائل کو حل کرنا، غریب عوام کی صعوبتوں اور پریشانیوں کو دور کرنا اس کی زندگی کا مقصد تھا۔ وہ ملک کی ترقی اور فلاح کے راستے پر گامزن تھا۔ لُوٹ مار اور چور بازاری کو ختم کرنے کے لیے وہ ہر وقت کوشاں تھا۔
.
اسامہ احمد وڑائچ جس علاقے میں افسر لگ کر گیا جلد ہی وہاں کا ہیرو بن گیا۔ اپنی سروس کی محدود مدت میں وہ عوام کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ پھر نجانے کس کی نظر لگ گئی کہ یہ روشن ستارہ جس کی قوم کو ضرورت تھی، اپنی جگمگاہٹ سمیٹتے ہوئے صفحہ ہستی سے غروب ہوگیا۔ اس نے اپنے اوپر رات کی کالی چادر تان لی۔ سورج اوٹ میں چھپ گیا کہ کہیں اس کو موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔ ستارے نمودار ہوتے ہوئے شرمانے لگے۔ چاند کی روشنی پھیکی پڑ گئی۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس دکھ کو شدت سے محسوس کر رہا تھا۔ ایسے میں ماں جو دنیا کا سب سے عظیم رشتہ ہے اس کا کلیجہ کیسے نہ پھٹ جائے۔ اسامہ احمد کی والدہ جبین جو بظاہر صبر و ضبط کا پیکر بنی ہوئی ہیں، اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لیے انھوں نے اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روک دیا ہے۔ اپنے درد کو چھپا کر وہ ایک جہاد میں مصروف ہیں۔
.
مگر ان کی دکھ بھری ویران آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں تو وہ ہر پل ہر سانس کے ساتھ اپنے اندر کے طوفانوں کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ ایک خاموش پکار ہے جو ان کے چہرے سے عیاں ہے. اسامہ! میرے بچے کہاں ہو تم؟ آ جاؤ میرے بچے، آ جاؤ، میں تمھارے بغیر کیسے جیوں گی؟ یہ زمین تو بڑے بڑوں کو کھا گئی مگر میرا بیٹا تو فضاؤں میں تھا۔ وہ کدھر گیا؟ اے فلک بوس پہاڑو !تم نے میرے بچے کو روپوش ہوتے دیکھا ہے؟ اے فضاؤں میں اڑنے والے پرندو! تم سب نے میرے بچے کو دبوچ لیا ہوتا۔ میری مہ رخ اور آمنہ کو سہارا دینے کی بجائے تم سب اپنے گھونسلوں میں چھپ گئے۔ اے اندھی فضاؤ! میرا اسامہ کہاں ہے؟
.
اس کے ماں باپ کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ بہن ملیحہ، بھائی سعد کی متلاشی نگاہیں اپنے بھائی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ وہ بظاہر خاموش ہیں مگر ان کے چہروں سے امڈنے والی خاموش آہ و فغاں اور دل سے اٹھنے والی سنگ ریز آوازیں میرے سینے کو چیرتے ہوئے گزر جاتی ہیں۔ میرے بچو! تمھارا بھائی میں کہاں سے لاؤں ؟ اپنا جگر گوشہ کہاں سے تلاش کروں؟میرے بچے! ابھی تو تیرے سہرے کے پھول بھی نہیں مرجھائے تھے۔ ابھی تو مہندی کے جوڑے سے مہندی کی خوشبو آ رہی تھی۔ میرے شیر! میرے شہزادے! تمھاری شادی کا جوڑا ابھی میلا نہیں ہوا۔ ابھی تو میرے سارے خواب بھی ادھورے تھے۔ یہ تو تمھاری جوانی کے دن تھے۔ ابھی تمھیں اپنی امنگیں پوری کرنا تھیں۔ صفحہ ہستی پر ابھی تم نے اپنے نام کو مزید روشن کرنا تھا۔یہ کیا ہوگیا؟ تم کہاں چلے گئے؟ میری پکار سن لو میرے بچے۔ میں پورے گھر میں تمھیں تلاش کرتی ہوں۔ در و دیوار سے میری نظریں خالی لوٹ آتی ہیں۔ تم نظر نہیں آتے تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ روشنیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ دنیا کی رونقیں بجھ گئی ہیں۔ یہ دھرتی مجھے اچھی نہیں لگتی۔ اس کے ہر ذرے سے مجھے آہ و زاری کی آوازیں آتی ہیں۔ ایسے میں سب مجھے تسلی دیتے ہیں۔
.
تمھارا بیٹا! قابلِ فخر ہے جس کے لیے لوگوں کی اتنی نیک گواہیاں ہیں. چترال کے لوگ اس کی بہترین کارکردگی کو یاد کر کے زار و قطار رو رہے ہیں۔ پشاور اور ایبٹ آباد کے لوگ اس کے سنہری دور کو یاد کر کے غم و اندوہ میں مبتلا ہیں۔؟ میری بہن! تمھارا بیٹا شہید ہے۔ وہ جنت میں ہے۔ یہ سن کر وہ اپنے دل کو مطمئن کر لیتی ہیں اور ان کے دل سے دعا اٹھتی ہے۔
میرے بچے! اللہ تمھیں جنت کا اعلیٰ مقام نصیب کرے اور اللہ مجھے بھی وہ مقام نصیب کرے۔ آمین۔
اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کو شہادت کا رتبہ نصیب کرے۔ آمین


شیئر کریں: