Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پولیو کا خاتمہ ہر شہری پر فرض ہے…………تحریر۔ ثنا ء اللہ

Posted on
شیئر کریں:

پولیو ایک موذی مرض ہے اس مرض کا شکار انسان تمام عمر کیلئے معذور ہوجاتا ہے اور یہی مرض انسان باالخصوص معصوم بچوں کی زندگی کا چراغ گُل کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ایک بار کوئی بچہ اس مرض کا شکار ہو جائے تو بعد میں اس کا علاج ممکن نہیں ہاں البتہ پولیو کے مرض سے ہم حفاظتی قطروں (ویکسین)کے ذریعے اپنے بچوں کا تحفظ یقینی بنا سکتے ہیں۔ اس مرض سے نجات اور اس کا مکمل خاتمہ ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ عوام پولیو کی ٹیموں کے ساتھ تعاؤن کریں اور اپنے بچوں کو انسداد پولیوویکسین پلوائیں۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مختلف چھوٹے چھوٹے علاقائی مسائل حل کروانے اور حکومت کو دباوٗمیں لانے کے لیے پولیو ویکسین پلوانے سے بائیکاٹ کا اعلان کردیتے ہیں اوربچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلواتے۔ایسا کرنے سے درحقیقت ہم اپنے بچوں کے ساتھ ہی ظلم کرتے ہیں کیونکہ پولیوکے حفاظتی قطرے نہ پلوانے کے سبب پولیو وائرس کوہمارے بچوں پر بھرپور وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
.
بعض والدین ایسے ہوتے ہیں جو جھوٹی اور بے بنیاد افواہوں کی وجہ سے اپنے بچوں کو پولیو مٹاوٗ ویکسین نہیں پلاتے جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہمارے خطے کے بچے پولیو وائرس سے متاثر ہوتے ہیں اور پولیو کیسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ موجودہ وقت میں پولیو وائرس کے حوالے سے پاکستان پہلے نمبر پر ہے اورساری دنیا کی نظریں اس وقت ہم پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں خیبر پختونخوا کے بنوں ڈویژن میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
.
سال 2019سے لے کر اب تک بنوں ڈویژن میں 66کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 32کیسز ضلع لکی مروت،8کیسز شمالی وزیرستان،جبکہ ضلع بنوں میں 26کیسز سامنے آئے ہیں۔یوں بنوں ڈویژن کا ضلع لکی مروت پولیو کیسز کے لحاظ سے پہلے نمبر پرہے۔پولیوکے تدراک کیلئے پولیو کے افسران اور ٹیمیں،ضلعی انتظامیہ اور تمام حکومتی مشینری اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ جس وقت بابر بن عطاء وزیر اعظم کے فوکل پرسن تھے تو اس وقت اُنہوں نے کئی بار بنوں,شمالی وزیرستان اور لکی مروت کے دور ے کیے اور پولیو مہم کی خود نگرانی کی۔
.
اس وقت پولیو کیسزکے لحاظ سے ضلع بنوں پہلے نمبر پر تھا اب لکی مروت میں کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بابر بن عطاء نے بنوں کے عوام کو پولیو کے قطرے پلوانے کے حوالے سے اس خطے کو خصوصی توجہ دی،جس کی وجہ سے پولیو ویکسین پلوانے سے انکاری والدین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔عوام میں پولیو سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں بنوں کے صحافی حضرات نے پہلے بھی مثبت کردار ادا کیاتھااور اب بھی اس حوالے سے مثبت رپورٹنگ میں مصروف ہیں اسی طرح محکمہ اطلاعات بنوں نے شروع دن سے اس طرف خصوصی توجہ دی ہے اور ہر مہم میں پولیو منتظمین کا بھر پور ساتھ دیاہے۔ اور ہر پلیٹ فارم خواہ الیکٹرانک میڈیا ہو، پرنٹ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا عوام کو ٓآگاہی اور مثبت پیغام پہنچانے میں
.
اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب لوگوں میں پولیو سے متعلق شعور بیدار ہوا ہے اور پولیو کیسز میں کمی آرہی ہے۔
ضلعی انتطامیہ بنوں،محکمہ اطلاعات بنوں اور پولیو افسران نے عوام سے اپیل کی ہے اس اچھے کام میں ہمارا ساتھ دیں کیونکہ اسی صورت بنوں ڈویژن سے پولیو وائرس کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ بچے سب کو پیارے ہوتے ہیں اور انھیں معذور اور بیمار دیکھنا کسی کو بھی گوارہ نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم اپنے بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے نجات دلانا چاہتے ہیں توہمیں اپنے بچوں کو پولیو مٹاوٗ ویکسین ضرور پلوانی چاہیے۔


شیئر کریں: