Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود ……… کتابوں کا بوجھ اور تعلیمی نظام……..شہزادی کوثر

Posted on
شیئر کریں:

کہتے ہیں کہ بچے بادشاہ ہوتے ہیں انہیں کوئی فکر دامن گیر نہیں ہوتی تمام پریشانیوں سے ٓازاد اپنے من کی سننے والے ہوتے ہیں،ہر طرف سے انہیں محبت ملتی ہے۔ماں باپ لاڈ اٹھاتے ہیں اور یہ زندگی کی مسرتیں سمیٹتے ہیں ۔یہ بات ٹھیک تو ہے مگر ایک حد تک،کیونکہ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ایسا بوجھ ان کے ناتواں کندھوں پہ پڑا ہے جسے اٹھاتے اٹھاتے یہ اردو کے حرف و کی طرح ہو گئے ہیں ۔یہ بوجھ ہے ان کے بستے اور کتابوں کا ،جو پلے گروپ کے بچے سے لے کر دسویں جماعت کے طالبعلم سبہی اٹھائے پھرتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں کتابیں بمشکل سات آٹھ ہوتی تھی مگر اب نرسری کی کتابیں دیکھ کر سرچکرا جاتا ہے۔بنیادی مضامین اپنی جگہ مگر ان کے علاوہ ورک بک ورک شیٹ کے نام پر ہر مضمون کے ساتھ تین تین ذائد کتابیں دی گئی ہیں اوپر سے ہر مضمون کی کاپی الگ،ڈائری لازمی طور پر ہوتی ہے۔ ناظرہ پڑھایا جاتا تھا اب عربی کی کتاب بھی شامل کی گئی ہے۔ کہانی کی دو کتابین اور اخلاق سنوارنے کے لیے الگ سے کتاب متعارف کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ کتابیں اور کاپیاں ۳۵تک پہنچ جاتی ہیں ۔اب ارباب علم ودانش ہی فیصلہ کریں کہ ایک بچہ روزانہ ۳۵ کتابوں کا بوجھ اٹھا کرروزانہ تین چار کلو میٹر یا اس سے زیادہ کی مسافت طے کر کے پیدل سکول جائے واپس گھر پہنچ کر مدرسے جائے وہاں سے پانچ بجے فارغ ہواور ہوم ورک کرنے بیٹھ جائے تو کیا اس کی جسمانی صحت اور دماغی توازن درست رہ سکتا ہے؟ اگر اتنی کتابیں ضروری ہیں تو سکول میں ایسی جگہ مخصوص کیوں نہیں ہے جہاں بچے ایکسٹرا کتابیں اور کاپیاں رکھ سکیں تاکہ ان کا بوجھ تھوڑا کم ہو۔ مجھے صرف یہ پوچھنا ہے کہ کیا اخلاقیات سکھانے کے لیے الگ سے کتاب کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر اخلاق نہیں سکھایا جا سکتا۔کیا اس سے پہلے کے لوگ اخلاق سے عاری تھے، یا تہذیب و شائستگی کی دولت سے محروم تھے۔ کتابیں انسان کا کچھ نہیں کر سکتیں اگر صحیح تربیت نہ کی جائے۔ کردار میں ٹیڑھ ہو تو مستقیم نام رکھنے سے وہ سیدھا نہیں ہوتا ، نہ ہی مقدس مقامات کا فیض انسان کی خباثت دور کر سکتا ہے جب تک اوپر سے ہدایت نصیب نہ ہو۔ صرف سائنس اور میتھس پڑھا کر بھی بچے کی کردار سازی کی جاسکتی ہے اس کے لیے صرف اسلامیات اور اخلاقیات ہی لازمی نہیں ہوتے پڑھانے والے کو وہ طریقے آنے چاہیے جو بچوں کو اعلا کردار کا مالک بنانے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ بچوں کی کردار سازی کے لیے پہلے اپنا اخلاق سنوارنا ہو گا۔ ان کے سامنے عملی نمونہ بننا پڑے گا تاکہ وہ ہمیں دیکھ کر ہی اخلاق سیکھیں ۔ان کی تربیت تعلیم سے زیادہ ضروری ہے صرف کتابی تعلیم سے ہم پڑھے لکھے جاہل تو پیدا کر سکتے ہیں معزز انسان نہیں ۔ ہم ہر بات میں مغرب کی طرف دیکھنے کو لازمی سمجھتے ہیں لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ مغرب مین رٹو طوطے پیدا نہیں کیے جاتے، وہاں ایک خاص عمر تک بچوں کو کتابیں ہی نہیں دی جاتی بلکہ کھیل ہی کھیل میں پڑھایا جاتا ہے۔اس کے بعد پریکٹیکل کے ذریعے ان کی عملی زندگی کی تعلیم دی جاتی ہے جو بچے عملا اپنا کر کامیاب انسان بن جاتے ہیں۔ اسلام بھی تھیوری سے زیادہ پریکٹیکل پر زور دیتا ہے صرف ٓاگے پیچھے جھومتے ہوئے احکام ِ الہی یا تعلیمات نبوی ترنم سے یاد کرنے کے بجائے عملی زندگی میں ان کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے حضورﷺ جب تک کسی چیز کو خود نہ اپناتے دوسروں کو اس کا حکم نہ دیتے لیکن ہمارا طریقہ کار اس کے بر خلاف ہے دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔
.
ہم زبانی کلامی قلعے فتح کرنے والے لوگ ہیں عمل کی بات ہو تو ہمارے نمبر صفرہیں۔ ہم وہ سبجکٹ بھی رٹواتے ہیں جو صرف عمل کیے زریعے ہی پڑھائے جا سکتے ہیں مثلا سوشل سٹیڈی پڑھانے کی چیز ہی ہیں بلکہ سکھانے کا کام ہے ۔ہم پہلی جماعت سے دسویں تک سوشل سٹیڈی رٹواتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے سوشل ہونے کا نمونہ دنیا روز دیکھتی ہے۔سائنس تجربے کی چیز ہے اسے بھی رٹا جاتا ہے جبھی تو ہمارے ملک میں سائنس دان پیدا نہیں ہوتے ۔ اسی طرح اخلاق و اداب بھی عملی اپنانے کی چیز ہے۔ ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا ہے تو اپنا تعلیمی نظام درست کرنا ہو گاان ممالک کو دیکھنا ہو گا جہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ یے۔فن لینڈ میں تعلیم سو فیصد ہے وہاں سات سال سے پہلے بچوں کے لیے سکول ہی نہیں ہیں اور پندرہ سال پہلے کوئی باقاعدہ امتحان بھی نئ ہوتا۔وہان ریاضی کے استاد سے پوچھا گیاکہ اپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں انہین خوش رہنا سکھاتا ہوں اسی طرح وہ زندگی کے ہر سوال کو با ٓاسانی حل کر سکتے ہیں ۔ہم نے اپنے تعلیمی نظام اور کتابوں کے بوجھ سے بچوں کے چہرے سے مسکراہٹ اور دلوں سے سکون چھین رہے ہیں ۔یہ انتہائی گھمبیر مسلہ ہے تمام ذمہ داران کو مل بیٹھ کرکوئی حل نکالنا ہو گا اس نظام کو دور کرنا ہو گا ورنہ ترقی کا خواب صرف خواب ہی بن کر رہے گا۔


شیئر کریں: