Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہمیں داغ مفارقت دینے وہ لاکھوں میں ایک تھے……… تحریر: شمس الحق قمرؔ

Posted on
شیئر کریں:

( میری ڈائری کے اوراق سے )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں داغ مفارقت دینے وہ لاکھوں میں ایک تھے…..تحریر: شمس الحق قمرؔ
.

حاجی عبد الرحیم بابا معروف بہ اسم عبد الرحیم ڈکٹھار 93 سال اور تین ہفتے یعنی کل 33989 دن کی زندگی گزار نے کے بعد ہم سب کو داغ مفارقت دے کر پچھلے دنوں راہی عدم ہوئے ۔ انہوں نے مجھے خود بتایا تھا کہ 22 دسمبر 1926 کو وہ اس دنیا میں آئے تھے ۔ ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے سیڈول قد کاٹھ ، بھرا ہوا سینہ ، موٹے مگر سیاہی مائل ہونٹ، چاروں اطراف سے سورج کی ہلکی سی بنفشی شعاعوں جیسے حلقوں سے مزئین لیکروں میں گھری انگوری اکھیاں ، اور ابھرے گالوں پر قدرے لمبی ناک آپ کی شخصیت کو اور بھی چار چاند لگاتی تھی۔ میں نے جب آپ کی رحلت کی خبر سنی تو مجھے اقبال کا یہ شعر یاد آیا ۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے

مرحوم جب تک حیات رہے انسانوں کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ۔ عبد الرحیم ڈکٹھار کے پاس کسی میڈیکل یونیورسٹی کی کوئی بڑی سند نہیں تھی لیکن اللہ نے آپ کو شفا کی وہ سند مرحمت فرائی تھی جو اور کسی کے پاس نہیں تھی – علاوقے کے تمام مریض آپ کے علاج سے روبہ صحت ہوا کرتے اور آپ کو دعائیں دیتے ۔ بونی موجودہ جامع مسجد سے ملحق گورنمنٹ کی ایک ڈسپنسری ہسپتال ہوا کرتا تھا ۔جو مریض اپنی عمر یا شدت ِ مرض کی وجہ سے یہاں تک رسائی سے محروم ہوتے تو موصوف تمام تر دوائیاں لیکر اُن کے گھر وں تک جاتے اور اُ ن کے علاج کو اپنا فرض سمجھتے ۔ اگرچہ یہی پیشہ اُن کا ذریعہ معاش بھی تھا لیکن آپ کی اپنے پیشے سے محبت نے ملازمت کو عبادت کی شان عطا کی ہوئی تھی ۔ وہ عمر بھر یہی عبادت کرتے رہے ۔ وہ ہم سب کا مسیحا اور ہم سب کا حوصلہ تھے ۔ مجھے یقین ہے اُسے موت نہیں آئی ہوگی ۔ دوسروں کےلئے زندگی کا سبب بنے ولا کیسے مر سکتا ہے ۔ اقبا ل نے ایسے فرشتہ خصلت انسانوں کو موت سے نہ مرنے والوں کی صف میں استادہ دیکھا ہے ۔ ؎
.
ہو اگر خود نگرو خود گرو خود گیر خودی بہت ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
اُن کی خودی اُن تمام خصائل کی حامل تھی کہ جن کو دوام حاصل ہے – اُن کی اپنے پیشے سے محبت اور خوداری نے اُنہیں سدا امر کر دیا ہے ۔ مرحوم پروغیل سے لیکر ارندو تک مختلف جگہوں میں ڈسپنسر رہے اور جہاں بھی گئے وہاں کے باسیوں کے دلوں پر راج کرتے رہے ۔ آج کی ہماری نئی نسل کی نظر میں میری خامہ فرسائی محض ایک مہمل کہانی ہے کیوں میری گفتگوایک ایسی نابغۂ روزگار شخصیت پر ہے کہ جن کی خدمات کو دیکھنے کی ہماری نئی نسل کو کبھی سعادت حاصل نہیں ہوئی ۔ سماجی خدمت کی دنیا میں اُس قد آور آدمی کی ایک جھلک دیکھنے کےلئے آپ ایک پل کے لئے اپنی آنکھیں مُند لیجئے اور تصور کیجئے کہ آپ کے گاؤں میں صحت کی کوئی سہولت موجود نہیں ایسے میں ایک جان لیوا متعدی وبأ پھیلی جاتی ہے ۔ اللہ نہ کرے ، آپ کے گھر میں کئی ایک بچے اُسی مرض میں مبتلأ ہوتے ہیں اور آپ کو یہ خبر بھی آتی ہے کہ آس پاس کے گاؤں میں اِسی وبا ٔکی وجہ سے کئی ایک بچے لقمہ اجل بن گئے ہیں تو آپ کی کیا ذہنی کیفیت ہوگی ؟ زندگی کے ایسے موڑ پر کوئی آپ کی مدد کے لئے آئے ، علاج کرے اور آپ کو تسلی بھی دے کہ آپ کا بچہ / بچی ابھی ٹھیک ہوگا / ہوگی ۔ عبد الرحیم ڈاکھٹار ( معفور ) کو اللہ رب العزت نے تنگ دستی کے اُس زمانے کا ایک مہربان مسیحا بنا کر بھیجا تھا ۔ موصوف اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ گھر ہستی کی مصروفیات بھی رکھتے تھے لیکن اُن کی اولین توجہ ہمیشہ سے اُ ن کے پیشے پر اٹکی اور جمی ہوئی ہوتی تھی ۔ دور دراز علاقوں سے ہر قسم کے مریض آتے اور شفایاب ہو کے چلے جاتے ۔ عبد الرحٰیم ڈاکھٹار کو قدرت نے گویا اسی کام کے واسطے تخلیق فرمایا تھا ۔ اُن کے یہاں دن کوئی معنی رکھتا تھا نہ رات، اپنے بال بچوں کی پروا تھی نہ گھرہستی کی خبر ، نہ اُن سے وقت لینا پڑتاتھا نہ فیس دینے کی فکر تھی ہر قبیل اور ہر قسم کے مریض بلا تفریقِ نسل، عمر، جنس، علاقہ اور زبان کے کسی بھی موسم میں اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت آپ کے پاس آتے اور شفایاب ہوکے چلے جاتے ۔
.
آج سے چار سال قبل مجھے اُ ن کے دوبدو بیٹھ کے اُنہیں سننے کا شرف حاصل رہا۔جب میں نے شادی کی تاریخ پوچھی تو فرمانے لگے کہ میری عمر شاید 10 سال ہوگی جب میری شادی کوشٹ کے محمد بیگے خاندان میں ہوئی تھی اور یہ سن 1936 کے اوائل کا دور تھا ۔بنیادی تعلیم اپنے گھر ہی سے حاصل کی تھی تاہم گاؤں میں تعلیم کا خاطر خواہ انتظام کے عدم وجود کی وجہ سے موصوف کو چترال شہر جانا پڑا 1942 ؁ ء میں پرائمری سکول چترال کو مڈل کا درجہ دیا گیا تھا اور موصوف کا داخلہ اُسی سکول میں جماعت ششم میں ہوا یوں آپ نے 1944 کو مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔ اُس زمانے میں مڈل پاس ایک پہلو دار بات ہوا کرتی تھی ۔ موصوف نے مجھے بتایا تھا کہ اُن کے آباو اجداد کی کل جائیداد بلا وجہ بحق سرکار ضبط تھی ۔ موصوف ( معفور) نے اُس زمانے کے طور طریقوں کے مطابق مہتر چترال مظفر الملک کے نام جائیداد کی وا گزاری کے لئے درخواست لکھی اور شکایتی صندوق میں ڈال دی جوکہ قلعے کے باہر اویزاں رہتا تھا۔شنوائی نہ ہونے پر (معفور ) نے کئی مرتبہ درخواستیں لکھیں اور اُسی شکایت بکس میں ڈلے اور انتظار کرتے رہے ۔ اُن کا یہ انتظار انتظار ہی رہا اور اُن کے لحد میں اترنے تک جواب نہ آیا البتہ اُن درخواستوں سے گزر گزر کے مہتر چترال کے سکریٹری کو یہ ضرور علم ہوا تھا کہ چترال میں ایک ایسا آدمی بھی رہتا ہے جس کے قلم میں اور تحریر میں بلا کی زبر دستی ہے ۔ پاکستان بننے کے ایک سال بعد چترال کی ریاست کےلئے ڈسپنسر کی ایک آسامی آئی تو مہتر چترال کے اُس وقت کے سکریٹری نے زمین کی واگزاری کےلئے لکھی گئیں درخواستوں میں عبد الرحیم کی قوت تحریر سے متاثر ہوکر اُنہیں اس آسامی کےلئے بہترین امیدار قرار دیتے ہوئے ریاستی ہسپتال کے ڈاکٹر جناب قریشی ( مرحوم) کو اُن سے انٹر ویو لینےکو کہا ۔ قریشی نے صرف حال احوال پوچھا اور سن 1948 کے اوائل میں اُن کی ملازمت شروع ہوئی ۔ 1951 میں آپ کی خدمات چترال سکاؤٹ میں منتقل ہوئیں اور سن 1966 کو چترال سکاؤٹ سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ نے ڈسپنسری ہسپتال بونی میں اپنی خدمات انجام دینا شروع کیں ۔ اُس وقت اُن کی ماہانہ خدمات کی اُجرت مبلغ 50 روپے رائج الوقت پاکستانی تھی ۔ میں نے جب اُن سے پوچھا کہ آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ یاد رہنے والاکوئی واقعہ ہے ؟ فرمانے لگے کہ سن 1958 میں یارخون لشٹ میں گورنمنٹ کی جانب سے ڈسپنسری کا قیام ایک تاریخ ساز واقعہ تھا ۔یہاں کےعوام نے جس خوشی و مسرت اور جذبات کا اظہار کیا وہ منظر دیکھنےکے قابل تھا ۔ اس کے بعد دو اور واقعات تاریخ میں گزرے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ جن میں سے پہلا واقعہ چترال سے مستوج تک جیب گاڑی کا راستہ اور دوسرا اہم واقعہ جیب گاڑی کی چترال میں آمد کا تھا یہ وہ واقعات تھے جن کی وجہ سے علاقے میں تہلکہ مچ گیا تھا ۔ مرحوم و معفور حاجی صاحب( عبد الرحیم ڈکھٹار) انتہا درجے کا سیدھا سادہ ، پرخلوض اور بلا کے خود دار آدمی تھے ۔ اُن کی کہی ہوئی ہر بات سند ہوا کرتی تھی اُن کی شخصیت کے دو پہلو تھے جوکہ آپ کی شخصیت میں مداومت عمل کے بہت بڑے سبب تھے پہلا پہلو یہ کہ وہ اپنے کام کو عبادت کے طور پر انجام دیتے تھے اور دوسری اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ منہ پہ سچ بولتے تھے چاہے اُس سچ کی وجہ سے کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے ۔دنیا کے تمام نشیب و فراز اور زیرو بم سے گزرنے کے بعد 12 جنوری 2020 کی صبح گیارہ بج کر تیس منٹ پر رہی ِ عدم ہوئے ۔ ہزاروں اشک بار آنکھوں نے آپ کو لحد کے حوالہ کیا ۔اللہ مرحوم کو جنت فردوست میں جگہ عطا فرمائے ۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
31171