Chitral Times

Jul 4, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوانے ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا نے صوبے میں آبپاشی کے نظام کو مضبوط بنانے، وسیع پیمانے پر بنجر اراضی کو زیر کاشت لانے اور زیر کاشت زمینوں کو وافر مقدار میں پانی کی فراہمی کے لئے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے گزشتہ ایک سال کی کار کردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔کار کردگی رپورٹ کے مطابق محکمہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران آبپاشی کے کل 44 منصوبے مکمل کیئے ہیں جن میں گل ڈھیری ڈیم، جلوزئی ڈیم، اور کنڈل ڈیم شامل ہیں ان ڈیموں سے ضلع نوشہرہ اور صوابی کی تقریباً 7000 ایکڑ زمین کو آبپاشی کے لئے پانی فراہم کیا۔ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی پانی کو ذخیرہ کرنے اور بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے جن میں پیزو ڈیم لکی مروت کی تعمیر جس کی تخمینہ لاگت 758.462 ملین روپے، چپرا ڈیم ہری پور کی لاگت 888.873 ملین روپے، چمک مائرا ڈیم ایبٹ آباد کی لاگت 1130.538 ملین روپے، اور 2885.644ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر ہونے والے اچرہ اور منچورا ڈیم شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے محکمہ نے وسیع پیمانے پر اراضی کو زیر کاشت لانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے حصول کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے پیہور ہائی لیول کنال ایکسٹینشن کے منصوبے پر تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا ہے جس کی تکمیل سے تقریباً 30500 ایکڑ اراضی کو زیر آبپاشی لایا جائے گا، منصوبے کی کل تخمینہ لاگت 10.156 بلین روپے ہے۔علاوہ ازیں،بارانی ڈیم کی استعداد بڑھانے کے لیے منصوبے پر عملی کام شروع ہو گیا ہے جس کی کل تخمینہ لاگت 5 بلین روپے ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل سے ضلع بنوں اور لکی مروت کی ایک لاکھ ایکڑ زمین کو پانی فراہم کیا جائے گا۔سرن رائٹ بینک کنال کے منصوبے پر بھی عملدرامد شروع ہے جس پر 2850.522 ملین روپے لاگت آئے گی اور منصوبے سے ضلع مانسہرہ کی 12000 ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا۔ موجودہ صوبائی حکومت نے نیشنل واٹر پالیسی کے موثر نفاذ اور پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختص رقم کو 7.40 فیصد سے بڑھا کر 11 فیصد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ نے انتظامی امور کو موثر انداز میں چلانے کے لیے ڈپٹی سیکرٹری سمیت دیگر انتظامی افسران کی نئی پوسٹیں قائم کیں۔ صوبائی حکومت کی اصلاحات کے قامیاب نفاذ اور ای ٹینڈرنگ کے لیے کمپیوٹر سیل قائم کیا گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ آبپاشی نے آئندہ سال کا ہدف بھی مقرر کیا ہے جس میں ضم شدہ اضلاع سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر،مختلف ڈیموں استعداد بڑھانے اور نہروں کی بحالی کے منصوبے شامل ہیں۔آئندہ سال کے ہدف میں باڑہ ڈیم، جبہ ڈیم ضلع خیبر، چشمہ اخور خیل ڈیم، مکھ بانڈہ ڈیم کرک اور خٹک بانڈہ ڈیم کوھاٹ کی تعمیرکا آغاز شامل ہے۔ چشمہ رائٹ بینک کنال کی منظوری اور منصوبے پر عملی کام کا آغاز بھی ہدف کا حصہ ہے منصوبے کی تکمیل سے 2لاکھ 86 ہزار ایکڑ زمین کو قابل کاشت بنایا جائے گا۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں تمام ترقیاتی منصوبوں پر موثر انداز میں عملدرامد کے لیے چیف انجینئر، سپرانٹنڈنگ انجینئرز اور اور ہر ضلع میں 7 ایگزیکٹیو انجینئرز پر مشتمل ایک نیا ونگ قائم کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: