Chitral Times

Jan 27, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال میں‌برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع، لواری کے مقام پرمسافروں‌کومشکلات کاسامنا

    January 13, 2020 at 12:47 am

    چترال ( محکم الدین ) چترال میں اتوار کی رات سے نشیبی علاقوں میں ہلکی اور بالائی علاقوں میں تیز برفباری کا سلسلہ جاری ہے ۔ لواری ٹنل پر رات کو پڑنے والی برف کے باوجود ٹریفک بحال رکھنے کی کوشش کی گئی ۔ تاہم ٹنل روڈ پر پھسلن کی وجہ سے گاڑیوں کو آر پار جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ زیادہ تر گاڑیاں موڑ کاٹتے ہوئے پھسل کر راستے سے رخ تبدیل کرتے رہے ۔ جنہیں دھکے دے کر دوبارہ روڈ پر لانے کی کو ششیں ہوتی رہیں ۔ اس وجہ سے اکثر مسافر ڈر اور خوف کے باعث گاڑی سے نیچے اتر کر اپنے سفر پر ہی نالاں رہے ۔ خاص کر بچے اور خواتین بہت زیادہ خوف کا شکار ہوتی رہیں ۔ اکثر گاڑیوں کے ٹائروں پر پھسلن سے بچنے کیلئے چین چڑھایا گیا ۔ اور لواری کرا س کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن وہ بھی بے سود رہے ۔ اور کئی گاڑیاں لواری کے دونوں طرف پھنسی رہیں ۔ تاہم کسی قسم کے حادثے کی اطلاع نہیں ملی ۔ چترال کے دوسرے مقامات کالاش ویلیز ، مڈکلشٹ ، گبور ، بگوشٹ ، گولین وادی میں برف زیادہ رہی ۔ تاہم کہیں بھی راستہ بند ہونے کی اطلاع نہیں ہے ۔ اتوار کے دن برفباری کی وجہ سے چترال شہر اکے اندر اور مضافات میں آمدورفت نہ ہونے کے برابر رہی ۔ اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے ۔ کہ کئی سیاح اس کے باوجود برفباری سے لطف اندوز ہونے کیلئے چترال کا رخ کر چکے ہیں ۔ یہ ایڈونچر ٹورسٹ ہیں ۔ جو مہماتی سیاحت میں انتہائی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ذراءع کے مطابق یہ سیاح چترال میں کالاش ویلی میں رہیں گے ۔ اور برف پر کھیلی جانے والی اُن کی معروف کھیل کریک گال میں حصہ لیں گے ۔ جو برفباری کے دوران کالاش ویلیز میں گاءوں کی سطح اس کے مقابلے ہوں گے ۔ برفباری سے اُن علاقوں کے لوگوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ جو پانی کی قلت کا شکار ہیں ۔ تاہم موسم کی خرابی کے ساتھ ہی جلانے کی لکڑی کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے ۔ اور زیادہ تر لکڑی کے ٹل والے منہ مانگی قیمت وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جن کی گرفت کرنے والاکوئی نظر نہیں آرہا ۔ انتظامیہ کے سامنے تو یہ لوگ سرکاری ریٹ پر فروخت کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ لیکن یہ انتظامیہ کے آفیسران کی موجودگی میں صرف دیکھانے کی حد تک ہے ۔ چترال شہر میں جلانے کے لئے شاہ بلوط کی لکڑی 600روپے سے زیادہ میں فروخت ہوتی ہے ۔ جبکہ گرم چشمہ میں 740مستوج اور موڑ کہو میں 780 روپے فی من فروخت ہوتی ہے ۔ لیکن یہ تو وہی لوگ خرید لیتے ہیں جو مالی طور پر استطاعت رکھتے ہیں ۔ غریب لوگوں کی حالت انتہائی طور پر قابل رحم ہے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے ۔ کہ ایک طرف اشیاء خوردونوش کی ہو شرباء قیمتوں نے زندگی مشکل بنا دی ہے ۔ تو دوسری طرف بجلی بلوں میں حکومت کی طرف سے آئے دن اضافے نے سانس ہی چھیننے کی راہ ہموار کردی ہے ۔

  • error: Content is protected !!