Chitral Times

Jan 27, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • زینب الرٹ بل متفقہ طور پرمنظور، سزائے موت یاعمرقید دوکروڑروپےتک کےجرمانے کی سزامقرر

    January 11, 2020 at 1:35 am

    اسلام آباد (آئی آئی پی) قومی اسمبلی نے 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے اغوا بھگا کر لے جانے قتل یا زخمی کرنے یا اس سے زنا بالجبر یا نفسانی خواہشات پوری کرنے کے ذمہ دار کو سزائے موت یا عمر قید اور ایک کروڑ روپے سے دو کروڑ روپے تک جرمانہ کی سزا کا حامل زینب الرٹ بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ جمعہ کو وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریک پیش کی کہ زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل2019 زیر غور لایا جائے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے بل کی تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریک پیش کی کہ گمشدہ اور اغوا شدہ بچوں کے لئے الرٹ کو بڑھانے جوابی ردعمل اور بازیابی کے لئے احکامات وضع کرنے کا بل زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل 2019 منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے وفاقی وزیر اسد عمر اور پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کا اس بل کے حوالے سے کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ بچی زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد میں نے بل ایوان میں پیش کیا تھا۔ کمیٹی نے سات ماہ کا عرصہ صرف کیا۔ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لئے قانون بنائیں۔ پاکستان کے بچے کسی بھی طاقت ور عہدے سے زیادہ اہم ہیں۔ سینٹ بھی اس بل کو جلد از جلد منظور کرے۔ ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے بل کی منظوری پر پورے ایوان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل اب کافی بہتر شکل میں آگیا ہے۔ زینب کی دوسری برسی کے موقع پر یہ بل منظور ہوا ہے۔ ہر صوبہ کو اس بل کی تقلید میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ اس بل کے تحت ون ونڈو آپریشن کے تحت ریسکیو اور ریکوری ہوگی۔ دو گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج ہوگی اور تین ماہ کے اندر اندر اس قسم کے واقعات کو نمٹانے کی حد مقرر کی گئی ہے۔ زینب الرٹ بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے بچے کے اغوا اسے بھگا کر لے جانے اس کے قتل یا زخمی کرنے یا اس سے زنا بالجبر یا نفسانی خواہشات پوری کرنے کے ذمہ دار کو سزائے موت یا عمر قید اور ایک کروڑ روپے سے دو کروڑ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جائے گی جبکہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو ذاتی، غیر منقولہ جائیداد پر بدنیتی سے قبضہ کرنے کے ارادے سے اغوا کرنے پر بھی عمر قید کی سزا اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ بل میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی ایجنسی برائے گمشدہ و اغوا شدہ اطفال (زارا) ایجنسی قائم کی جائے گی جس کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوگا۔ یہ بل فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اس کا دائرہ اختیار وفاقی دارالحکومت ہوگا۔ اس بل کے مطابق پولیس سٹیشن جہاں پر بچے کی گمشدگی یا اغوا کی اطلاع دی جائے گی وہ فی الفور شکایت کے اندراج کے دو گھنٹے کے اندر زارا کو گمشدہ بچے کے وقوعہ کی اطلاع دے گا۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے کے اغوا یا اسے بھگا کر لے جانے اس کے قتل اسے شدید زخمی کرنے غلام بنا کر رکھنے زنا بالجبر یا کسی بھی شخص کی نفسانی خواہش کے لئے فروخت کرتا ہے تو اسے سزائے موت دی جائے گی یا عمر قید یا اتنی مدت کے لئے قید سخت کی سزا دی جائے گی جو کہ 14 سال ہو سکتی ہے اور سات سال سے کم نہیں ہوگی۔ اسے ایک کروڑ سے دو کروڑ روپے تک جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔ اس قانون کے تحت ایسے مقدمے کی سماعت تین ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی۔ اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی پولیس افسر جو گمشدہ یا اغوا شدہ بچے کی صورت میں مجموعہ قانون کی دفعہ 154 کے احکامات کی تعمیل نہیں کرتا یا کوئی بھی سرکاری افسر دانستہ تاخیر کرتا ہے یا اس ایکٹ کے تحت وضع کردہ قواعد کی مطابقت میں معلومات کی فراہمی یا کارروائی میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو اسے ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔ اس ایکٹ کے تحت جوکوئی بھی ارادتا کسی الرٹ سسٹم میں کسی بچے کا غلط یا جعلی الرٹ جاری کرتا ہے یا جاری کرنے کا سبب بنتا ہے یا اس کا غلط استعمال کرتا ہے جو عوام میں احساسیت کا نتیجہ بنے تو اسے چھ ماہ کے لئے سزا اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکے گی۔

  • error: Content is protected !!