Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی اسمبلی نے فوجی سربراہان کی مدت ملازمت حوالے تینوں بلوں کی منظوری دے دی

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد (چترال ٹائمزرپورٹ) قومی اسمبلی نے فوجی سربراہان کی مدت ملازمت کے حوالے سے کے تینوں بلوں کی منظوری دے دی ہے جس کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف، چئیرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ کے سربراہ اورپاک بحریہ کے سربراہوں کی تقرریوں یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا اور بل کے تحت بری بحری اور پاک فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سال کے لئے دوبارہ تقرری کر سکیں گے۔ بل کے تحت آرمی ایکٹ کی سیکشن 8 اے کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سالوں کے لئے جنرل رینک کے آفیسر کو چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کر سکیں گے۔ بل کے مطابق شق 8 بی کے تحت تعینات آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لئے وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر صدر مملکت مزید تین سالوں کے لئے چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر یا ان کے عہدے کی معیاد میں توسیع کر سکیں گے۔ بل کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ بل کی شق 8 سی کے مطابق آرمی چیف کے عہدے کی ریٹائرمنٹ اور ملازمت کی حدود کا تعین کیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر اور کسی جنرل کی ملازمت کی مدت کی شرائط اور محدودات کا تعین چیف آف آرمی سٹاف یا آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کے ضمن میں نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کی عمر 64 سال سے زیادہ نہ ہو۔ ترمیمی بل کی شق 8 بی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر پاکستان آرمی کے جرنیلوں پاکستان نیوی کے ایڈمرلز یا پاکستان ایئرفورس کے ایئر چیف مارشل میں سے کسی ایک کا تین سال کی مدت کے لئے تقرر کر سکیں گے۔ پاکستان ائیرفورس (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے چیف آف دی ائیرسٹاف کا دوبارہ تقرر تین سال کی اضافی مدت کیلئے کرسکیں گے یا چیف آف ائیرسٹاف کی معیادمیں تین سال کیلئے توسیع کرسکے گا، ایسی قیودوشرائط پر جن کا تعین صدرمملکت، وزیراعظم کے مشورے سے، قومی سلامتی کے مفاد میں یا وقتا فوقتا ہنگامی صورتحال میں کرے۔اس ضمن میں تقرر کرنے والی اتھارٹی کی جانب سے صوابدید کے استعمال پر کسی بھی عدالت کے روبروکسی بھی وجہ سے کوئی بھی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔پاکستان نیوی ایکٹ (ترمیمی) بل 2020 کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے پاک بحریہ کے سربراہ کا دوبارہ تقرر تین سال کیلئے کرسکیں گے۔دوبارہ تعیناتی یا تقرری کیلئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 سال مقرر کی گئی ہے۔منگل کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایوان میں بل پیش کرنے سے قبل پیپلز پارٹی سے درخواست کی کہ ایوان میں یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے وہ اپنی تجاویز واپس لے لیں جس پر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ انہوں نے بل کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دی تھیں تاہم ملک اور خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی ترامیم پر زور نہیں دیں گے جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے بل کی منظوری کے لئے تحریک پیش کی۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے ایوان سے یکے بعد دیگرے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020 کی منظوری کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی تاہم اس دوران متحدہ مجلس عمل کے ارکان بل کی پہلی خواندگی سے قبل ہی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے اور انہوں نے بل پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔بعد ازاں وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020 اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020 کی یکے بعد دیگرے منظوری کے لئے تحاریک ایوان میں پیش کیں ان دونوں بلوں کو بھی قومی اسمبلی سے منظوری حاصل ہوئی۔


شیئر کریں: