Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیا سال…………تحریر:میر سیما امان

Posted on
شیئر کریں:

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ سال تو ہر بار بدلتا ہے بدلنا ہے تو خود کو بدلیں۔۔انسانی زندگی کا المیہ ہی یہ ہے کہ خود کو بدلنا ناممکن نظر آتا ہے۔ہمارے گھروں میں موجود سینکڑوں آئینے ہماری آنکھیں حتی کہ ہماری نظر کے چشمے ہمیں دوسروں میں موجود ہر عیب دکھادیتے ہیں مگر مجال ہے جو کبھی اپنی کوئی خامی کوئی غلطی کوئی قصور ” غلطی ” سے بھی د ِکھتا ہو.

ہم ہر نئے سال نئے دن نئے گھر ، نئےکپڑے حتی کہ نئے ہر چیز کے لیے بچوں کی طرح خوش ہوجاتے ہیں اور ان نئی چیزوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں ” سکون و راحت ” پہنچائیں گی لیکن کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ ان نئی چیزوں کو ہم خود کیا دے رہے ہیں وہی ” پُرانے اور بوسیدہ ” خاکے ، چہرے اور رویے؟
.
۲۰۲۰ کیلنڈر پر درج محض ایک تاریخ ہے اگر اسے کوئی ” نیا ” کا عنوان دیتا ہے تو یقینا اُسے خود بھی ” نیا ” ہونا پڑےگا،،ورنہ یقین مانیں ہر تاریخ ہر سال اور ہر دن پرانا ہی ہے۔۔ ان سے نئے کی اُمید رکھنا خود کو بے وقوف بنانے کے مُترادف ہے۔ میں ۲۰۲۰ شروع ہونے سے ایک لمحہ پہلے یہ سوچنا چاہتی ہوں کہ میرے گڈ بک میں کون لوگ کس حثیت سے شامل ہیں۔میں نے کس کو کس ”’بِنا” پر عزت دی ہے،،میرے لیے لوگوں کو احترام دینے کا معیار کیا رہا ہے؟پتہ نہیں کیوں لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ رواں سال کے ختم ہونے سے ایک لمحہ پہلے ہم اپنے اب تک کی ”حاصل ” پر غور کرلیں۔
.
انسان ساری زندگی اس غرور میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ باقیوں سے بہتر ہے،،وہ عظیم ہے لیکن جب موت کی آہٹ سنائی دیتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوبیاں اپنی اُنگلیوں پر گِن سکتے ہیں جبکہ خامیاں بے شمار ہیں۔تعجب اس بات پر ہے کہ ہم اپنی گریبان میں جھانکنے کے لیے ہمیشہ موت کی آہٹ کا ہی انتظار کیوں کرتے ہیں؟ کیا ہر نئی صبح تبدیلی کا احساس نہیں دلاتی؟ ہم بحثیت قوم تبدیلی کے اسقدر شوقین ہیں کہ ماضی میں ایک پارٹی کو ہم نے صرف اسلیے ووٹ دی کیونکہ اسکا ”منشور ” ہی ملک میں تبدیلی لانے کا تھا،،
.
آج جب نئے سال کی بات ہورہی ہے تو مجھے خیال آتا ہے کیا ۲۰۲۰ میں تبدیلی کے یہ شوقین عوام اپنے اندر بھی تبدیلی کے جراثیم پیدا کر سکیں گے؟،اگر کبھی مجبورا یا اتفاقا خواتین کی محفلوں میں بیٹھنے کا موقع ملے تو آپکو اندزہ ہوگا کہ انکی گفتگو اور بالخصوص ” طرز ِ گفتگو ” غیبت چُغلی اور بہتان سے ہرگز خالی نہیں ہوتیں تب ہی تو جہنم میں خواتین کی ذیادہ تعداد ہے ۔۔مجھے نیا سال شروع ہونے سے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا ۲۰۲۰ میں خواتین کی یہ محفلیں ”اِن بُرائیوں” سے پاک ہونگی۔۔؟اور شائد ایسا سوچنا بھی کس قدر مضحکہ خیز ہے۔
.
۲۰۲۰ شروع ہونے سے لمحہ پہلے ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری عمریں کیا ہیں ۲۰،۳۰ ۴۰، ۵۰، اتنے سالوں میں ہم نہیں بدلے تو کچھ نہیں بدلہ۔۔اکیسوِیں صدی کے شروع ہوتے ہی آج تک ہم نے تبدیلی کا بڑا شور سُنا۔لیکن ہمارے لیے یہ تبدیلی پریشر کُکر میں کیک بننے سے اوون میں کیک بننے تک ہی رہ گیا ، یہ تبدیلی شلوار قمیض سے پینٹ شرٹس اور دسترخوان میں بیٹھ کر کھانا کھانے سے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر چُھری کانٹے سے کھانے تک کا ہی سفر طے کر سکا۔۔یہ تلخ حقیقت ہی تو ہے کہ ہماری ساری تبدیلیاں محض ” وضح قطع ” تک ہی قید ہوکر رہ گئیں ہیں۔۔۔
.
ذہنی طور پر ہم آج بھی کنویں کے مینڈک ہیں۔۔ جب ذکر نئے سال کا ہو تو سوچنا تو پڑتا ہے کہ نئے سال میں نیا کیا ہوگا؟کیا ۲۰۲۰ میں ہم تبدیل ہوجائیں گے؟؟ ہم نے تبدیلی کے نام پر ذیادہ سے ذیادہ یہ دیکھا کہ دنیا داری نے رشتہ داریوں کی جگہ لے لی ہے۔ہم نے لالچ اور مادہ پرستی کے رجحان کو بڑھتے دیکھا۔۔کیا واقعی نیا سورج ہمارے رشتوں میں موجود تعصب کو ختم کردے گا؟کیا واقعی ہم تبدیل ہو جائینگے؟ ہمارا ظرف بڑا ہوجائے گا؟ہم دوسروں کے قصور معاف کرسکیں گے؟اور اپنے قصور جان پائیں گے؟ کیا ہم دوسروں کو عزت دینا شروع کردیں گے؟کیا ہماری طرز گفتگو تبدیل ہو جائیگی؟کیا ۲۰۲۰ میں ہمارے رشتوں اور تعلقات میں موجود بغض ، حسد اور منا فقت ختم ہو جائیں گی؟ کیا ہماری زندگیوں سے جھوٹ کا خاتمہ ہوگا؟ رشوت خوری ختم ہوگی ؟کیا دوسروں کی نا شکریوں پر کُرھنے والے اپنی زندگیوں میں شُکر ادا کرنے کا شعور حاصل کر سکیں گے؟کیا خاندانی اور مذہبی تعصبات ختم ہونگے؟کیا حریصوں کا پیٹ بھرے گا؟ بد دیانتوں کو دیانتداری کا سبق یاد آجائے گا؟ کیا واقعی ۲۰۲۰ میں لوگوں کا ایک دوسرے کو عزت دینے کا ”’ معیار ”’ تبدیل ہوگا؟کیا ۲۰۲۰ میں انسان واقعی ” انسان ”’ ہونے کا ” شرف ” حاصل کر سکے گا؟
.
کیلنڈر میں درج ” ۲۰۲۰” کے یہ الفاظ ہم سے سوال پوچھتے ہیں کہ نئے سال میں ”’ نیا ” کیا ہوگا؟ کیا واقعی نئے سال کا سورج سب کچھ تبدیل کردے گا؟ چلیں اس بار نیا ہونے کی کوشش کرلیں اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ اتنے سالوں سے ”’ ہم ”’ نہیں بدلے تو کچھ نہیں بدلا کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ دنیا کی تبدیلی ہماری ذات کی تبدیلی سے مشروط ہے، اگر ہم بذات خود تبدیل نہیں ہوتے دُنیا بے شک چاند پر پہنچ جائے ہمارے لیے زندگی کچرے کا ڈھیر ہی رہے گی لہذا نیا چاہتے ہیں تو اسکا آغاز اپنی ذات سے کرلیں۔۔اور ”نیا ”ہونے سے پہلے ماضی کے تمام منفی لوگوں ،رشتوں تعلقات اور واقعات کو فراموش کردیں،،اور جان لیں کہ ماضی ایک ” سبق ” ہے ” حاصل ” نہیں۔دُنیا میں ہر شخص ، ہر واقعہ اور ہر کہانی ہر دوسرے بندے کے لیے ایک ”سبق ” ہوتا ہے۔۔مگر انسان کا المیہ ہے کہ وہ خود سبق بنننا ذیادہ پسند کرتا ہے۔۔

اُمید ہے کہ ۲۰۲۰ کا سورج جہاں تبدیلی کی روشنی پھیلائے گا وہیں ہم عوام کو سبق بننے کے بجائے دوسروں سے سبق لینے کا شعور بھی دے گا۔۔


شیئر کریں: