Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار 165 افراد کو خارج کر رہے ہیں..ڈاکٹرثانیہ

Posted on
شیئر کریں:

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے 8 لاکھ 20 ہزار 165 ایسے افراد کو خارج کر رہے ہیں جو مستحق نہیں ہیں،وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر
.
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے 8 لاکھ 20 ہزار 165 ایسے افراد کو خارج کر رہے ہیں جو مستحق نہیں ہیں، کابینہ اور بورڈ کی منظوری کے بعد ان افراد کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان کی جگہ مستحق اور نادار افراد کو شامل کیا جائے گا۔ نادرا کے تعاون سے ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو غیر مستحق ہیں، ان کا فرانزک آڈٹ بھی کیا جا سکتا ہے، ایسے افراد کو نکالنے سے سالانہ 16 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ لائن آف کنٹرول کے مکینوں کے لئے غربت کی لکیر کی حد کو ختم کر کے قومی شناختی کارڈ کی حامل تمام خواتین کو اس پروگرام میں شامل کیا جا رہا ہے جس کی منظوری کابینہ نے دے دی ہے، نیا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروا رہے ہیں جس سے یہ پروگرام مزید شفاف اور آسان ہو جائے گا۔ مستحقین کو 100 فیصد ادائیگی بائیو میٹرک طریقے سے کی جا رہی ہے، ملک کے 66 اضلاع میں کفالت پروگرام شروع کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ہم نے ایک پالیسی بنائی جس کی بورڈ نے منظوری دی۔ اس کے بعد کابینہ سے منظوری لی گئی۔ پوری جانچ پڑتال اور ذمہ داری کے ساتھ ایسے افراد کو نکالا گیا ہے جو غیر مستحق ہیں۔ کوئی بھی فرد چاہے تو اس کا فرانزک آڈٹ کیا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں ہمیں نادرا کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔ قومی شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے نادرا سے کسی بھی شہری کا تمام ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے کہ وہ کون سی سہولیات حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نادرا اور مستحق افراد کے لئے قائم کیا گیا تھا، اس پروگرام سے 8 لاکھ سے زائد افراد کو خارج کر رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے ماہانہ فون یا پی ٹی سی ایل بل ہزاروں روپے سے زائد ہیں۔ اس میں وہ لوگ بھی نکالے جا رہے ہیں جنہوں نے بیرون ملک زیادہ سفر کئے، غیر مستحق افراد کو 2011سے ادائیگیاں کی جا رہی تھیں، غیر مستحق افراد کے نام نکالنے سے سالانہ 16 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ غیر مستحق افراد کو نکالنے سے پہلے ایک طریقہ کار اپنایا گیا ہے تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال قبل ایک سروے کے تحت ضرورت مندوں کا اندراج کیا گیا تھا، اب زیادہ موثر طریقے سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیا طریقہ کار نادرا کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اہل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرا رہے ہیں، مستحق افراد کو 100 فیصد ادائیگیاں بائیو میٹرک طریقے سے کی جا رہی ہیں، بائیو میٹرک اے ٹی ایم کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ خواتین کے بینک اکانٹ بھی کھولے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے افراط زر کے ساتھ وظیفے کو لنک کر کے 500 روپے اضافے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے مکینوں کے لئے غربت کی لکیر کی شرط کو ختم کر کے قومی شناختی کارڈ کی حامل تمام خواتین کو اس پروگرام کا حصہ بنایا جا رہا ہے جس کی منظوری کابینہ نے دے دی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے شہریوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان کی مالی معاونت کو یقینی بنایا جا سکے۔ لائن آف کنٹرول پر 2000 سے زائد ایسے گاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کو یہ سہولت دی جائے گی۔ اس پروگرام کو مزید بہتر بنانے کے لئے میڈیا ہمارا ساتھ دے تاکہ ہم مستحق افراد کو اس نیٹ میں لا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے تعاون سے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ جو غلطیاں ماضی میں کی گئی ہیں ان کا سدباب کر کے آئندہ کے لئے صاف شفاف نظام لایا جائے۔


شیئر کریں: