Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سنگین غداری -قانون کی بالادستی یا انتقام‎………تحریر: خالد محمود ساحر

شیئر کریں:

پاکستان میں سیاسی ہلچل ملکی مفاد پر ہمیشہ بازی لے جاتی ہے جس کی مثالیں تاریخ کے ہر شاخ و برگ میں موجود ہیں. سیاسی پیچیدگیاں جو ماضی میں رونما ہوئی ہیں اور جو ہورہے ہیں ان کو اس ملک کی بقا کا سوال بنا دیا جاتا ہے لیکن مورخ حقیقت ہی لکھے گا.
24 مارچ 1981 کو جنرل ضیاءالحق نے آئین معطل کیا اور پی سی او (عارضی آئینی حکم) جاری کردیا.ضیاءالحق نے آئین میں من مطابق ترامیم کیں اور ہر اٹھنے والے سوال کو ختم کیا.ضیاءالحق کے نقش قدم پر چل کر تاریخ دھراتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین معطل کیا اور ضیاء الحق کے جاری کردہ پی سی او کو ملک میں دوبارہ نافذ کیا.
جنرل ضیاء الحق اب تک ہیرو,رول ماڈل اور سپہ سلار ہیں لیکن پرویز مشرف غدار قرار پائے.
اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا پرویز مشرف کو سیاسی بصیرت نہیں تھی؟
کیا اسے اٹھنے والے ان سوالوں کا اندیشہ نہیں تھا؟
کس وجہ سے پرویز مشرف کے خلاف یہ کیس چلی,کیوں چلی اور کس نے چلائی؟
قانون کے بالادستی کے نام پر ہونے والا یہ فیصلہ قانون دان کی بالادستی اور ماضی کا انتقام تو نہیں.
.
تاریخ کیا کہتی ہے…
اکتوبر 2007 کے صدارتی انتخابات میں پرویز مشرف کی امیدواری کے خلاف جسٹس ریٹائرڈ وحیدالدین نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی.
پرویز مشرف بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر پاکستان تھے جس کی وجہ سے صدارتی انتخابات کے شفاف نہ ہونے کا اندیشہ تھا.
سپریم کورٹ نے 28 ستمبر کو بطور صدارتی امیدوار پرویز مشرف کی درخواہست قبول کرلی.
وکلاء کی طرف سے جسٹس ریٹائرڈ وحید الدیں احمد صدارتی انتخابات میں پرویز مشرف کے مقابلے میں کھڑے ہوئے.اکتوبر 6 کو انتخابات کرائے گئے اور جنرل مشرف بھاری اکثریت کے ساتھ دوسری مرتبہ صدر پاکستان منتخب ہوئے.
عدالت میں ان کی وردی میں لڑی جانے والی انتخابات کا کیس زیر سماعت تھا.
الیکشن کمیشن نے انتخابات کے فیصلے کے اعلان کو کیس کی سماعت تک ملتوی کیا تھا.
پرویز مشرف کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے خطرہ تھا.ججز اور حکومت میں کشیدگی بڑھ گئی تھی اور ملک میں مارشل لاء لگنے کے قوی امکانات نظر آرہے تھے.
.
صورتحال کے پیش نظر حکومت کو مارشل لاء نافذ کرنے سے روکنے کیلئیے بیرسٹر اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواہست دائر کی.
نومبر 2 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پرویز مشرف کے صدارتی اہلیت کیس پر نظر ثانی کرنے اور حتمی سماعت کے لئے نومبر 5 کو پرویز مشرف کو طلب کرلیا.
چیف جسٹس نے اسٹے آرڈر نکالا لیکن اس خطرے کے پیش نظر آرمی چیف جنرل مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کیا.
آئین پاکستان کو جزوی طور پر ( آرٹیکل 9,10,15,16,17,19,25) معطل کرکے ملک میں پی سی او جاری کردیا.

جنرل مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پندرہ ججز کو پی سی او کے مطابق حلف سے انکار پر معطل کردیا اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا.
نومبر 24 کو سپریم کورٹ کی سات رکنی لارجر بنچ نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں پرویز مشرف اہلیت کیس کا مختصر فیصلہ سنایا.
اس فیصلے میں پرویز مشرف کو بری قرار دیتے ہوئے صدارتی انتخابات کا اہل قرار دیا گیا.
سپر کورٹ نے اپنے فیصلے میں صدارتی انتخابات,پی سی او اور ایمرجنسی کو توثیق دے کر انتخابی نتائج کے عبوری قیام کو منسوخ کرکے پرویز مشرف کو بطور سویلین صدر حلف اٹھانے کے احکامات جاری کردئیے.
.
ان کے خلاف کیس کو در کرتے ہوئے انھیں صدارتی انتخابات کا اہل قرار دیا اور انتخابات کے نتائج کو برقرار رکھا.
جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے مستعفی ہوکر یکم دسمبر کو بطور سویلین صدر حلف اٹھایا.
15 فروری 2008 کو سپریم کورٹ نے ایمرجنسی اور پی سی او کے توثیق کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ دیا.
چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے یہ تفصیلی فیصلہ پیش کیا جس میں کہا گیا کہ جس صورتحال میں ایمرجنسی نافذ کیا گیا وہ 5جولائی 1977 کے عین مشابہ ہے جس کو سپریم کورٹ اف پاکستان نے توثیق دی تھی.
.
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کو جزوی طور پر معطل کرکے پرویشنل کانسٹٹیوشن آرڈر جاری کیا گیا جو ماضی میں کیا گیا تھا جسکو سپریم کورٹ نے درست قرار دیا تھا.
ملکی حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے پرویز مشرف صدر پاکستان کے عہدے سے مستعفی ہوگئے نئے انتخابات کرائے گئے اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق میں حکومت بنالی.آصف علی زرداری پاکستان کے نئے صدر منتخب ہوئے.
جولائی 2009 کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے پی سی او ججز کے خلاف کیس دائر کی کہ انھوں نے سپریم کورٹ کے
3 نومبر 2007 کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے اور توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں.

صدر آصف علی زرداری نے فیصلہ آنے تک 76 ججز کو عارضی طور پر معطل کردیا.
31جولائی 2009 کو سپریم کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پی سی او ججز کیس کا فیصلہ سنایا.
فیصلے میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے نافذ کردہ ایمرجنسی کو آرٹیکل 279 کے تحت غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا.
فیصلے میں ایمرجنسی,ججز کی معطلی,نئے ججز کی تعیناتی اور پی سی او کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیا گیا.
.
24جون 2013 کو اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں درخواہست دائر کی.

سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کے لئے تین رکنی بنچ تشکیل دی.
پرویز مشرف نے کیس ملٹری کورٹ کے حوالے کرنے کی درخواست کیں لیکن کورٹ نے درخواہست مسترد کردی.
مارچ 2016 کو پرویز مشرف علاج کے لئے دبئی چلے گئے.
اسپیشل کورٹ پرویز مشرف کو سماعت کے لئے مسلسل طلب کرتا رہا وہ غیر حاضر رہے. 17 دسمبر 2019 کو اسپیشل کورٹ نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں مشرف غداری کیس کاسنا کیا.فیصلے میں پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے اسے موت کی سزا سنائی گئی.
پرویز مشرف کو آئین سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور اسے معطل کرنے کی سزا آئین ہی کے آرٹیکل کے مطابق دی گئی.
آئین میں اس کی واضح وعید ہونے کے باوجود پرویز مشرف نے کسے ڈھال بنا کر آئین کی خلاف ورزی کی کیا آئین کو معطل جاسکتا ہے؟

بین الاقوامی قوانین کے تحت جمہوری ریاستوں میں حالات کے مطابق قانونی جواز کا تعین کرکے ہنگامی صورتحال نافذ کیا جاتا ہے جس میں ریاست کے آئین کو عام لوگوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر معطل یا نظر انداز کیا جاتا ہے.
آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر پاکستان ہنگامی صورتحال نافذ کرسکتا ہے اگر ملک کے حالات درست نہ ہو اور امن امان کو خطرہ لاحق ہو.
.
اگر پرویز مشرف بطور صدر ایمرجنسی نافذ کرتے تو کیا آئین آرٹیکل 232 کے تحت اسے اجازت دیتی؟ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جسکا اپنا دستور ہے اور اس دستور کے مطابق ہر فیصلے کا ہونا لازم ہے. پرویز مشرف کیس کو اگر دیکھا جائے تو اس سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو فیصلے سنائے.
پہلا فیصلہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں ہوا جس میں پرویز مشرف کو بری کیا گیا لیکن اسی کیس پر دوبارہ فیصلے میں پرویز مشرف کو مجرم قرار دیا گیا.
پہلے فیصلے کے تناظر میں اس فیصلے کو دیکھا جائے تو یہ قانون کی بالادستی نہیں بلکہ سراسر انتقام ہے.
وہ انتقام جو ججز کی مغزولی پر مشرف سے لیا گیا. وہ انتقام جو انتقام جو نواز شریف کی حکومت گرانے پر لیا گیا. یہ اس جنگ کا انتقام ہے جو پرویز مشرف اور چند ججز کے درمیاں چھڑی تھی.
یہاں ہمیشہ قانون کی بالادستی کے نام پر اختیارات کے بالادستی کی جنگ لڑی گئی ہے اور جو بھی ان اختیارات کے راستے میں آتا ہے ہٹا دیا جاتا ہے.
ہنگامی اعلان کے متن میں پرویز مشرف نے جس جنگ کا اعلان کیا تھا یہ اسکا انتقام ہے.
بالاخر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے یوٹرن لیکر دوسرا فیصلہ کیا گیا اور انتقام چکایا گیا.
اگر یہ فیصلہ ہی قانون کی بالادستی ہے تو اس کا دوسرا پہلو سامنے آتا ہے جس پر میں بات کرنے سے قاصر ہوں.


شیئر کریں: