Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پولیس، جرائم اور قانون ……….محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

پشاور پولیس نے سال 2019کی اپنی کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے۔ پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق ایک سال کے دوران صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 376افراد کو موت کی نیند سلادیا گیا۔ لین دین، جائیداد، خواتین کے تنازعے اور غیرت کے نام پر پچاس افراد قتل کئے گئے۔قتل کے سب سے زیادہ واقعات تھانہ چمکنی کے علاقوں میں ہوئے جن کی تعداد نصف سینچری تک پہنچ گئی،تھانہ انقلاب 33واقعات کے ساتھ دوسرے اور تھانہ بڈھ بیر 30تعداد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔تھانہ خزانہ اور داودزئی میں چوبیس چوبیس، متنی میں 23، متھرا میں 29، ارمڑ میں 15افراد قتل ہوئے۔ تھانہ خان رازق کی حدود میں دو، یکہ توت میں تیرہ، پہاڑی پورہ میں اٹھائیس، کوتوالی میں ایک، فقیر آباد میں بارہ، تھانہ گلفت حسین کے علاقے میں پانچ، پھندو میں گیارہ، گل بہار میں سات، ٹاون میں تین، تاتارا میں ایک، سربند میں آٹھ، حیات آباد میں سات، پشتہ خرہ میں پچیس، ناصر باغ ایک، ریگی ایک، شرقی چھ، مچنی گیٹ دو اور تھانہ گلبرگ کی حدود میں دو افرادکو قتل کیا گیا،376افراد کے قاتلوں میں سے صرف 80گرفتار کئے گئے جبکہ 296افراد کے قاتلوں کا ایک سال گذرنے کے باوجود پولیس سراغ نہیں لگا سکی۔یہ صرف قتل کے واقعات کے اعداد و شمار ہیں اقدام قتل کے واقعات کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ڈکیتی، چوری، رہزنی، آتشزنی، دہشت گردی اور دیگر جرائم کی تفصیل پولیس نے شاید اس وجہ سے نہیں بتائی کہ کہیں پشاور کی مثالی پولیس کی بدنامی نہ ہو۔بہت سے جرائم پولیس کی دسترس سے بھی باہر ہیں۔ لوگ تھانے میں اس کی رپورٹ نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پولیس کے پاس جانے کا فائدہ کچھ نہیں، نقصانات بے اندازہ ہیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چرائے جانے کے واقعات کا اگر پولیس تذکرہ کرے تو شہری کانوں کو ہاتھ لگائیں۔ معاشرے اور جرائم کا باہمی تعلق ازل سے ہے اور ابد تک یہ تعلق رہے گا۔کیونکہ معاشرے میں تعمیری سوچ رکھنے والوں کے ساتھ تخریبی انداز فکر کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ جرائم کا خاتمہ کسی بھی معاشرے میں تقریبا ناممکن ہے۔ امریکہ جیسے ترقیافتہ ممالک میں بھی قتل، رہزنی، ڈکیتی، چوری، گاڑیاں چھیننے کے واقعات ہوتے ہیں۔تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اگر بہترین تربیت اور سازوسامان سے آراستہ ہوں تو جرائم کی شرح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ تفتیش کا نظام بہتر بناکر جرائم پیشہ لوگوں کے گرد دائرہ تنگ کیا جاسکتا ہے اور گرفتار مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوا کر جرم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاسکتی ہے۔خیبر پختونخوا پولیس کو مثالی قرار دینے سے وہ مثالی نہیں بن سکتی۔تفتیش کا نظام وہی دقیانوسی ہے۔ جس کی وجہ سے مجرم پکڑے بھی جائیں تو عدالتوں میں انہیں مجرم ثابت نہیں کیا جاسکتا اور وہ چند دنوں میں چھوٹ کر پھر اپنا دھندہ شروع کرتے ہیں۔سرکاری حکام عدالتوں کو مورد الزام ٹھہراکر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں حالانکہ عدالت ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر مقدمات کا فیصلہ کرتی ہے۔ کسی شخص کو مشتبہ قرار دینا اسے مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باگ نہیں کہ خیبر پختونخوا پولیس دوسرے صوبوں کی پولیس سے کہیں زیادہ فعال، متحرک اور کارکردگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ چادر اور چاردیواری کے تقدس کا ہماری پولیس خیال رکھتی ہے۔ خواتین کا احترام کرتی ہے۔کسی کی پگڑی سربازارنہیں اچھالتی، لیکن یہ سب ہماری روایات، اقدار، رسم و رواج اور گھریلو تربیت کے ثمرات ہیں۔کسی حکومت نے قانون میں اصلاحات لانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پچاس ساٹھ سال پہلے وضع کئے گئے قوانین موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتے۔ وقت کے ساتھ انسان کے بنائے ہوئے قاعدے قانون بدلتے رہتے ہیں۔ صرف خدائی حکم ازل سے ابد تک اٹل اور ناقابل تنسیخ ہوتا ہے۔ضلع پشاور میں ایک سال کے اندر376قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور کروڑوں اربوں کا مالی نقصان نہ صرف پولیس ڈپارٹمنٹ بلکہ صوبائی حکومت کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت جہاں دیگر اداروں کے قواعد و ضوابط میں اصلاحات لارہی ہے پولیس کے محکمے اور مروجہ قوانین میں بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات ناگزیر ہیں۔تاکہ جرائم کی شرح کو کنٹرول کیا جاسکے۔


شیئر کریں: