Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سچ بولنے کی سیاست …………….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعتراف کیا ہے کہ 1971کے بعد ملک میں جتنے انتخابات ہوئے ہیں۔ سب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ تاہم 2013اور2018کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا۔ گویا بلاول نے اعتراف کیا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ، میاں نواز شریف تین مرتبہ اور آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی ایک مرتبہ اقتدار میں آئی تھی وہ تمام دھاندلی کی پیداوار حکومتیں تھیں۔اگر ایسا ہے تو عمران خان کو سلیکٹیڈ وزیراعظم قرار دینا بلاجواز ہے۔اسی دوران وفاقی وزیر شیخ رشید کا تازہ بیان آیا کہ پاکستان کے تمام سیاست دان جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔لفظ تمام میں شیخ صاحب خود بھی آتے ہیں۔ گویا ہمارے سیاست دانوں نے سچ اگلنا شروع کردیا ہے۔جو آگے جاکر ملک میں جمہوریت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ سیاست دان جھوٹ بولنے، وعدہ خلافی کرنے، عوام کو سبز باغ دکھا کر اپنا مطلب نکالنے اور اقتدار میں آکر عوام سے فاصلہ رکھنے کے حوالے سے کافی بدنام ہیں۔اصولوں کی سیاست کرنے کے دعوے کرنے والے بیشتر سیاست دان پارٹیاں بدلنے اور اپنے سیاسی مفادات کے لئے اپنے رائے دہندگان کو بیچنے کے حوالے سے بھی کافی شہرت رکھتے ہیں جب سے پانامہ سکینڈل سامنے آیا ہے سیاست دان کرپشن کے حوالے سے بھی بہت بدنام ہوگئے ہیں۔وہ آج بھی عوام کو بھولے بادشاہ سمجھ کر انہیں لولی پاپ دے کر بہلانے کے اپنے طریقوں پر کاربند ہیں حالانکہ یہ اکیسویں صدی ہے۔عوام سیاسی لحاظ سے کافی باشعور ہوچکے ہیں۔انہیں لالی پاپ دے کر بہلانا بہت مشکل ہے۔ تعلیم کے ساتھ پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور سماجی رابطوں کے دیگر ذرائع نے عوام خصوصا نوجوانوں کو اپنے ملک کے نظام اور حالات و واقعات سے بخوبی آگاہ کردیا ہے۔وہ سیاست دانوں کے بیانات کو مضحکہ خیز سمجھتے ہیں۔مسلم لیگ کے مرکزی رہنما احسن اقبال کا تازہ بیان آیا ہے کہ رہبر کمیٹی نے حکومت کی اتحادی جماعتوں سمیت تمام پارٹیوں سے رابطے شروع کردیئے ہیں تاکہ ان ہاوس تبدیلی کا راستہ ہموار کیا جاسکے اور موجودہ حکومت کی چھٹی کرائی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپوزیشن کا ساتھ نہ دیا تو عمران خان کے جرائم میں ان کو بھی حصہ دار سمجھا جائے گا۔ احسن اقبال نے انکشاف کیا کہ ملک میں عام انتخابات کے لئے حالات ساز گار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس بات کو بھی یقینی بنانے پر اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں کہ انتخابات میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔ اور ملک کا وزیراعظم کسی چھوٹی جماعت سے ہو۔ان نکتے پر یوں محسوس ہورہا ہے کہ احسن اقبال نے اپنی پارٹی قیادت سے مشاورت کے بغیر بات کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کا ووٹ بینک موجود ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے تصور کرلیتے ہیں کہ انتخابات میں اگر پی ٹی آئی کا پتہ صاف ہوجائے تو لامحالہ پی پی پی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی اور اے این پی کو زیادہ نشستیں مل سکتی ہیں۔کیا وہ وزرات عظمیٰ سے کسی ایک دو منتخب اراکین والی پارٹی کے حق میں دستبردار ہوں گے؟تمام پارٹیوں کے قائدین اپنے دل پر یا اپنے بچوں کے سرپر ہاتھ رکھ کر اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی۔ کبھی جھوٹ نہیں بولے، کبھی کرپشن نہیں کی۔ اقتدار میں آکر کبھی اقرباپروری نہیں کی۔انتخابات میں اپنی شکست کو سازش سے تعبیر نہیں کیا اور عوام کا فیصلہ اور اپنی شکست کو دل سے قبول کرلیا؟ہر الیکشن میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جیتنے والی پارٹی انتخابات کو تاریخ میں سب سے زیادہ شفاف اور اپنی کامیابی کو حق کی فتح قرار دیتی ہے اور ہارنے والی پارٹی عوامی فیصلے کو قبول کرنے کے بجائے انتخابی نتائج کو بدترین دھاندلی کا نتیجہ قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔ اس کے باوجود اس پارٹی کے منتخب ہونے والے ممبران پاوں پھیلاکر اسمبلی کی کرسیوں پر براجمان ہوتے ہیں۔اقتدار میں آنے والی ہر پارٹی سابقہ حکومت کو معیشت کی تباہی، کرپشن، غربت اور مہنگائی کی ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ ملک سدھارنے اور قومی معیشت کو بیچ منجدھار سے نکال کر ساحل مراد سے لگانے کی ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہے۔یہ سب گذشتہ ستر سالوں سے عوام سن سن کر تھک چکے ہیں۔ملک میں لنگڑی لولی جمہوریت چل رہی ہے جو مثالی آمریت سے بہتر ہے۔ جمہوریت کو چلنے دیں۔ پی ٹی آئی کو بھی تبدیلی لانے کے لئے پانچ سال کی مدت ملنی چاہئے اسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ اگر 2023تک عوام کو اپنی زندگی، معاشرے اور ملک میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی تو یقین جانئے کہ پی ٹی آئی بھی سیاسی منظر نامے پر نظر نہیں آئے گی۔


شیئر کریں: