Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاک فوج ہم شرمندہ ہیں………..عبدالکریم کریمی

Posted on
شیئر کریں:

جب سے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف صاحب کو سزائے موت سنائی گئی ہے تب سے دل بہت افسردہ ہے۔ خود کو انسان کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہو رہی ہے۔ نہیں معلوم ہم کس بے حسی کا شکار ہیں کہ اپنے محسنوں کو غدارِ وطن کہتے ہوئے تھوڑی سی بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ جو بندہ پاک فوج کا سالار رہا ہو، جس نے چالیس سال پاک دھرتی کی مٹی کی حفاظت کی ہو، جس نے بفسِ نفیس کئی جنگیں لڑی ہوں اور ہاں جو پاکستان کا ایک عرصے سے آئینی سربراہ رہ چکا ہو، وہ غدار کیسے ہوسکتا ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان دُنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ہم تو اس نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت ہیں کہ وہ بیماری کی حالت میں اپنے دشمن کی بھی عیادت کیا کرتے تھے۔ نہیں معلوم ہمیں کس پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ ایک بیمار شخص کو سزائے موت بھی سناتے ہیں، اور شرم و حیا کی حدوں کو پار کرتے ہوئے یہ ریمارکس بھی دیتے ہیں کہ وہ بیماری کی حالت میں مر گیا تو اس کی لاش ڈی چوک پر تین دن تک لٹکایا جائے۔ مجھے معاف کر دیجئیے گا کہ ہم اس نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امتی ہیں کہ جس نے دشمن کی لاش کی بھی توہین کی اجازت نہیں دی تھی۔ مشرف کے لیے توقع تو یہ تھی کہ پوری قوم نماز جمعہ کے بعد ان کی صحت یابی کے لیے دعا کرتی، دنیا کو یہ بتاتی کہ ہمارے اندرونی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہم بقول قرآن نفسِ واحدہ کی تفسیر ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ بھلا ایسا کیوں کر ہو انہوں نے آئین جو تھوڈا۔ کاش! ہم تاریخ اسلام ہی پڑھتے۔ جہاں شریعت محمدیؐ میں تبدیلی یا ترمیم ہوسکتی ہے تو وہاں آئین میں ترمیم کونسا جرم ہے۔ دوسرا خلیفہ راشد کا دور ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریعتِ محمدیؐ کے اندر کئی ترمیمات کرتے نظر آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تھا اور آپؐ کا ارشاد پاک ہے کہ اگر فاطمہؑ بھی چوری کی مرتکب ہو تو اس کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ لیکن حضرت عمرؓ یہ کہتے ہوئے اس سزا میں ترمیم کرتے ہیں کہ اگر کوئی مجبور ہوکر ایک روٹی چوری کرتا ہے تو اس چور کے ہاتھ کاٹنے کے بجائے حکمرانِ وقت کا ہاتھ کاٹا جائے۔ پھر فرماتے ہیں کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کا ذمہ دار حکمرانِ وقت ہے۔ دوسری مثال یہ کہ نبی کریمؐ کے دور میں خواتین بھی مسجد نبوی آیا کرتی تھیں۔ آگے مرد ہوتے تھے پیچھے خواتین نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ اس میں بھی ترمیم خلیفہ ثانی نے جو وجہ بتا کے کیا وہ لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں۔ (دیکھئیے کتاب ’’اولیاتِ عمرؓ) یہ تو سر دست میں نے دو مثالیں پیش کیں اس کے علاوہ کئی اور مثالیں موجود ہیں کہ خلیفہ ثانی نے کس طرح شریعت محمدیؐ میں بیاسی ترمیمات کی تھیں۔
Mushraf general at gb

یہاں ایک ہی سوال اٹھتا ہوا نظر آتا ہے کہ ایسی ترمیمات کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے کیونکہ وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، انسان ایک سا نہیں رہتے۔ شریعہ، آئین یا اصول انسانوں کی سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں انسان اصولوں کے لیے نہیں ہوتا۔

میری اور آپ کی بدقسمتی کہ ہمارا تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں مولوی سے سوال پوچھو تو مرتد، امجد شعیب جیسے کسی کم فہم انسان سے سوال پوچھو تو غدار اور جج سے سوال پوچھنے کی گستاخی کرو تو توہینِ عدالت۔۔۔۔۔۔ یا اللہ! ہم جائے تو کہاں جائیں۔۔۔۔۔۔

ایسے میں رانا سعید دوشی کا شعر حسبِ حال لگتا ہے؎

میں چُپ رہوں تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

مشرف کو غدار کہنا ایک فردِ واحد کی توہین نہیں بلکہ پاک فوج کی عظمت پر سوال ہے۔ محسن پاکستان اور پاک فوج ہم شرمندہ ہیں۔ عدلیہ تو رہی ایک طرف کہ جس کے خلاف بولنا توہین عدالت سہی۔ لیکن اس بے حس قوم کو کیا ہوا کہ اس ظلم پر وہ پھولے نہیں سما رہی۔ یہاں تک سنا گیا کہ یار لوگوں نے اس خوشی میں مٹھائیاں تک بانٹیں۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے پوچھے کہ مشرف کے دور میں پاکستان کا امیج کیا تھا، ترقی کی جس شاہراہ پر انہوں نے پاکستان کو چڑھایا تھا وہ این سعادت بزور بازو نیست کہ ایسے کاموں میں رب کی تائید شامل ہوتی ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں جس طرح قوم کا ساتھ دیا ہے لفظوں میں اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ یہ تو ہماری بدقسمتی تھی کہ بینظر بھٹو کے قتل کے بعد بینکوں تک کو جلا کے پاکستان کی معیشت کو خاک میں ملا دیا گیا۔ کیا کریں ہم ذرا جذباتی قوم جو ٹھہریں۔ اپنی املاک تباہ کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ خیر لگے ہاتھوں ایک واقعہ پڑھئے ممکن ہے آپ کو میرا مدعا سمجھ آجائے۔

محمد کریم مصر کا حکمران تھا اچانک فرانس نے مصر پہ حملہ کر دیا، نپولین فرانس کا بادشاہ تھا، محمد کریم اپنے ملک کے لیے جتنا لڑ سکتا تھا لڑا لیکن بدقسمتی سے فرانس نے اس کو ہرا دیا اور مصر پر قبضہ کر لیا نپولین بونا پارٹ کے فوجیوں نے محمد کریم کو زنجیروں میں جکڑ کر اس کے سامنے پیش کر دیا۔ نپولین نے کہا تم نے میرے بہت سے فوجی مار دیئے لیکن جس دلیری اور بہادری سے تم نے اپنا ملک بچانے کی کوشش کی ہے میں تمہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں تم نے جتنے میرے فوجی مارے ہیں ان کا فدیہ دے دو، میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ فرانس کے فوجی محمد کریم کو زنجیروں میں جکڑ کر مصر کے بڑے بڑے تاجروں کے پاس لے جایا گیا۔ محمد کریم کا خیال تھا کہ وہ اس کی بھرپور مدد کریں گے کیونکہ اس نے ان کی آزادی کے لیے ایک طویل جنگ لڑی تھی لیکن مصر کے تاجروں نے اس سے منہ پھیر لیا اور فدیہ کے لیے رقم دینے سے انکار کر دیا۔ شام کو جب محمد کریم کو نپولین کے سامنے پیش کیا گیا تو اس کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا نپولین نے کہا میں تمہیں سزائے موت اس لیے نہیں دے رہا کہ تم نے میرے بہت سے فوجی مارے ہیں تمہیں سزائے موت اس لیے دے رہا ہوں کہ تم ایک غلام اور مطلبی قوم کے لیے لڑتے رہے۔

آپ فرانس کے محمد کریم کی جگہ پرویز مشرف صاحب کو رکھ دیجئے ممکن ہے کچھ افاقہ ہو۔ پھر بھی مسلہ ہے تو ایک اور واقعہ سن لیجئے۔ آپا نور الہدیٰ شاہ اپنی ایک تحریر میں لکھتی ہیں:

’’بوڑھے ملزم کے آگے زیر کا پیالا رکھا گیا۔ جج نے کہا پیو اگر تم حق پر ہو۔ بوڑھے نے کہا تم بھی پیو اگر تم منصف ہو۔ جج نے کہا آدھا آدھا پیتے ہیں جو حق پر ہوگا وہ زندہ رہے گا ناحق مر جائے گا۔ دونوں نے آدھا آدھا زہر پیا۔ جج مر گیا بوڑھا زندہ رہا۔ پیالے میں زہر نہیں پانی تھا ناحق خود زہر ہوتا ہے یہ جج بھی نہیں جانتا تھا۔‘‘

آپ حیران ہوں گے پھر مشرف صاحب کے خلاف فیصلہ سنانے والا جج کیسے زندہ رہا۔ بس یہاں تھوڑی تبدیلی یہ ہوئی کہ جج تو زندہ رہا لیکن انصاف ہمیشہ کے لیے مر گیا۔
.
یکے از تحاریر کریم کریمی
گلگت شہر
بیس دسمبر دوہزار اُنیس


شیئر کریں: