Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اف یہ دسمبر………….حنا ناہید طالبہ کلاس دہم ایف سی پی ایس مستوج

Posted on
شیئر کریں:

ماہ دسمبر کے ساتھ اُف لگانے سے قارئین شاید سمجھ رہے ہونگے میں ماہ دسمبر اور مستوج کی خنک ہواؤں سے تنگ آچکی ہوں مستوج کی سردی جس میں انسانی خون بھی جم جانے کا خطرہ ہے بھی اتنی تکلیف دہ نہیں اس سے بھی تکلیف دی بات یہاں کچھ اور ہے۔ دکھوں کی کہانی مختلف ہے۔ آئندہ سال ہم ایف سی پی ایس مستوج سے میٹرک کا امتحان دے کر فارغ ہونے والے ہیں اب چونکہ طویل چھٹیوں کا سلسلہ شروع ہونے جارہا ہے۔ اس لیے پچھلے دنوں ہمیں 9th کلاس کے طلبہ کی طرف سے پرخلوص الوداعی پارٹی دی گئی۔ زندگی کے حسین لمحات ایک ادارے میں گزارنے کے بعد دیرینہ دوستوں اور مشفق اساتذہ سے جدائی یقنا بہت دکھ دینے والی تھی۔ اس دکھ کو دل میں لیے تھوڑی دیر تک میں سوچتی رہی سوچتی سوچتی خیالوں کی دنیا میں اتنی دور چلی گئی کہ ماہ دسمبر کو ہی کوسنے لگی اور دوستوں کی جدائی کے دکھ تاریخ کے اوراق کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی رہی تو دل سے بے اختیار یہ آواز نکلی کہ ” اف یہ دسمبر ” کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں دکھ دینے والی تمام باتیں اور تمام واقعات دسمبر میں وقوع پزیر ہوئی ہیں۔
.
1971 کا واقعہ جس میں مملکت خداداد کو دو لخت کیا گیا ۔ پاکستان کو جو سب سے بڑا نقصان پہنچایا گیا وہ بھی دسمبر ہی کے مہینے میں تھا۔ یعنی 16 دسمبر کو مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوا۔ جس کا دکھ اہالیان پاکستان کے سینوں میں ابھی تک زندہ ہے۔
یہ دلخراش واقعہ بیسویں صدی کا تھا۔ مگر اکیسویں صدی میں بھی ماہ دسمبر کی تلخیاں کچھ کم نہیں ہوئی ۔ دسمبر 2007 میں مسلم دنیا کی پہلی اور پاکستان کی دوبار وزیر اعظم رہنے والی خاتون محترمہ بینظیر بھٹو کو سفاک دہشت گردوں نے بے دردی سے قتل کیا ۔ دہشت گردوں نے ایک بیٹی اور ایک ماں کو بھی نہیں چھوڑا ۔ عموماََ مرد عورت کو ایک کمزور مخلوق سمجھتے ہیں مگر شہید بینظیر ایک نڈر اور بہادر خاتون تھی جسکی بہادری ہی اس کے شہادت کی وجہ بنی۔
.
یہ زخم ابھی ہرے ہی تھے کہ ایک بار پھر ماہ دسمبر میں آرمی پبلک سکول پشاور کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ معصوم کلیوں کو کھِلنے سے پہلے ہی مسل کر راکھ کیا گیا۔ انسان نما درندوں کا یہ عمل اتنا سفاکانہ تھا کہ اسے دیکھ کر درندے بھی شرمانے لگے۔ یہ سب انسان نما درندوں کے لگائے گیے زخم تھے۔ مگر قدرت کے امتحانات کیلیے بھی اس ملک میں دسمبر کے مہینے کو چنا گیا۔ 2017 میں ایک بار پھر دسمبر کے مہینے میں چترال کی فضاء سوگوار بنی۔ چترال سے اسلام آباد جانے والا طیارہ حادثے کی شکار ہوا۔ جس میں معروف نعت خواں جنید جمشید ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ سمیت چالیس سے زائد چترالی شہید ہوے۔ چترال کے ہر گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔
ان تاریخی واقعات کو دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی کہ ماہ دسمبر کو دکھوں کا مہینہ کہے تو بےجا نہ ہوگا۔ مجھے بھی دوستوں سے جدائی کا یہ دکھ ماہ دسمبر نے ہی دی۔ جب ہم جدا ہورہے تھے تو میری ساری سہیلیاں رو رہی تھی مگر میں انھیں تسلی دیکر اپنا غم چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کیونکہ مجھے یقین ہے میرا اپنی سہیلیوں سے تعلق ختم نہیں ہوا یہ انشاءاللہ آئندہ اور مضبوط ہوگا۔ اور میرے اساتذہ جنکی شفقت اور محبت نے مجھے اس قابل بنادیا ہے کہ میں دل کی باتیں دنیا سے تحریری صورت میں شیر کرسکتی ہوں ان کی محبتیں شاملِ حال رہینگی۔ اور انکی شفقت کا ہاتھ ہمیشہ میرے سر پہ رہے گا۔
میرے اللہ میرے تمام دوستوں اور اساتذہ کو سلامت اور خوش رکھے۔ آمین


شیئر کریں: