Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاش تہوارچوموس اخری مراحل میں داخل، سیاحوں‌کی بڑی تعداد علاقے کا رُخ کرنے لگے

Posted on
شیئر کریں:

چترال (محکم الدین) کالاش قبیلے کے سال کا آخری معروف سرمائی تہوار چترمس ( چوموس ) جوں جوں اپنے عروج کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ رسومات کی ادائیگی میں بھی تیزی آرہی ہے ۔ سرازاری ، چوناری اور ساویلیکھاری رسومات کی ادئیگی کے بعد بتدریج سوگ کے خاتمے ، بچوں کا تہوار پچ انجیک ، دیوتا کی قربانی ،( چنجا) الاءو جلانے کی رسم اور عبادت خانے سجانے و نذرو نیاز تقسیم کرنے کی رسومات ادا کی جارہی ہیں ۔ رمبور ویلی میں پچ انجیک کی رسم ادا کی گئی ہے ۔ اور کئی بچوں کو کالاش روایتی لباس پہناکر انہیں باقاعدہ طور پر قبیلے میں شامل کیا گیا ۔ جس کے بعد معروف دیوتا سجی گور کے سامنے کئی بکروں کی قربانی دی گئی ۔ اور دُعا کے ساتھ گوشت تقسیم کئے گئے ۔ یہ اہم مذہبی رسم ہے ۔ جہاں قبیلے کے مرد اور بچے جمع ہوتے ہیں ۔ اور دیوتا سجی گور کے سامنے کالاش قبیلے کے روشن مستقبل، امن امان اور باہمی اتفاق و اتحاد کیلئے دُعائیں مانگی جاتی ہیں ۔ کالاش قبیلے کا ایک معروف رسم مویشی خانوں میں تین دن تک مراقبہ کرنا بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور علاقے کے بزرگ و نوجوان مویشی خانوں کے احاطے میں موجود مکان میں رہتے ہیں ۔ اور بکرے ذبح کرکے اُس کا گوشت بھون کر کھاتے ہیں ۔ خواتین کیلئے اس موقع پر گھروں میں بکریاں ذبح کی جاتی ہیں ، کیونکہ خواتین کیلئے بکرے کا گوشت کھانا اور شہد استعمال کرنا مذہبی طور پر ممنوع ہے ۔ سوگ ختم کرنے کی رسم بھی تہوار کا اہم جُز ہے ۔ جس کا اعلان گاءوں کے بزرگ اور مذہبی پیشواسوگوار خاندان میں جا کر کرتے ہیں ۔ سوگوار خاندان کے مرد جوسوگ کے دوران کسی بھی قسم کے بال نہیں کاٹتے ، اور خواتین سر پر روایتی ٹوپی کوپیسی نہیں پہنتیں ۔ سوگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد مرد شیو اور خواتین ٹوپی پہننا شروع کردیتی ہیں ۔ شرابیریک کی رسم راتوں کو ہوتی ہے ۔ جس میں گندم کے آٹے کی خمیر سے مختلف جانوروں کے شبہیں بنائی جاتی ہیں ۔ اور اُن کو آگ میں پکایا جاتا ہے ۔ کالاش مذہب میں سوری جاجک انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ یونیسکو نے اس کی اہمیت کے پیش نظر سوری جاجک (سورج کے دیکھنے) کے عمل کو ورلڈ ہیرٹیج قرار دیاہے ۔ یہ رسم فلکیات سے تعلق رکھنے والے کالاش بزرگ افراد انجام دیتے ہیں ۔ اور گزرے سال کے دورانئے اور نئے سال کے بارے میں پیشن گوئی کرتے ہیں ۔ امسال چوموس تہوار کی رنگینوں میں ٹورسٹ کارپوریشن خیبر پختونخوا نے اضافہ کیا ہے ۔ اور مختلف مقامات پر لاءٹس لگا کر راتوں کو تہوار کی خوبصورتی کو چار چند لگا دیے ہیں ۔ ٹی سی کے پی کی طرف سے بمبوریت میں تعمیر ہونے والے کیمپنگ پاڈ کی تکمیل کے بعد سیاحت میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے ۔ تاہم کام زور و شور سے جاری ہے اور چلم جوشٹ فیسٹول میں میں ہی استعمال ہو سکتے ہیں ۔ اس کے باوجود کالاش ویلی میں سیاحوں کیلئے رہائش کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد غیر ملکی اور ملکی سیاح کالاش ویلی پہنچ چکے ہیں۔ اور فیسٹول کے مختلف رسومات کا لطف اُٹھا رہے ہیں ۔ سیاحوں کی بہت بڑی تعداد گیسٹ ہاءوسز میں رہائش پذیر ہیں ۔ کیونکہ یہ گیسٹ ہاءوسز کالاش گاءوں کے اند ر موجود ہیں جس کی وجہ سے سیاحوں کو کالاش ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ اور روایتی کھانوں کا بھی لطف اُٹھایا جا تا ہے ۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے فواد اعوان ، حسان لطیف مسعودی ایڈ منسٹریٹیو آفیسر جموں کشمیر میڈیکل کالج اور روح الامین صلیب الحمر نے بمبوریت میوزیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ وہ کشمیر سے خصوصی طور پر فیسٹول میں شرکت کیلئے کالاش ویلی آئے ہیں ۔ اور یہاں کے کلچر اور ماحول سے جتنے محظوظ ہوئے ۔ اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نےماہ مئی میں فیملیز کے ساتھ دوبارہ کالاش فیسٹول چلم جوشٹ میں شرکت کرنے کی دلچسپی کا اظہار کیا ۔ بمبوریت میوزیم کے اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر اکرام حسین نے بتایا ۔ کہ حکومت کی طرف سے فروغ سیاحت کیلئے کئے جانے والے اقدامات نے رنگ لانا شروع کر دیا ہے ۔ اور امسال سیاحت نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ سال 2019 میں پچیس ہزار سیاحوں نے میوزیم کی وزٹ کی ۔ جس میں تقریبا دو ہزار غیر ملکی سیاح شامل ہیں ۔ جبکہ وادی میں آنے والے سیاحوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے ۔ غیر ملکی سیاحوں میں زیادہ تعداد فرانس ، اٹلی ، یونان اور دیگر ممالک کی ہے ۔ جو میوزیم کی وزٹ کر چکے ہیں ۔ جبکہ چائنیز ، جاپان وغیرہ کے سیاح میوزیم کی وزٹ میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ۔ چوموس تہوار علاقے میں ہلکی برفباری کی وجہ سے اور بھی خوبصورت ہو گیا ہے ۔ تاہم خراب سڑکوں کی وجہ سے سیاحوں کو وادیوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ سیاحوں نےچترال ٹائمزڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ حکومت اگر واقعی سیاحت کی ترقی چاہتی ہے ۔ تو اس کیلئے ویلیز روڈز کو ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہیے ۔
kalash festival chitirmas chomas chitral 1

kalash festival chitirmas chomas chitral 6

kalash festival chitirmas chomas chitral 5

kalash festival chitirmas chomas chitral 4

kalash festival chitirmas chomas chitral 3

kalash festival chitirmas chomas chitral 2


شیئر کریں: