Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غدار کون (گزشتہ سے پیوستہ) …تقدیرہ خان رضاخیل

Posted on
شیئر کریں:

ریاست کا وجود افراد اور خط زمین کامرہون منت ہے۔ آئین اور قانون افراد کی باہمی مشاورت سے بنائے جاتے ہیں اور روایات انسانی معاشرتی افعال اور اخلاقی اقدار کی امین ہوتی ہیں۔ دنیا میں جب آئین سازی کا کوئی ادارہ نہ یھا تب بھی قوانین تھے جو اخلاقی، ثقافی اور مذہبی اقدار روایات کی روشنی میں ترتیب دیے جاتے تھے اور اُن پر ہر شخص پوری دیانتداری سے عمل کرتاتھا۔ آج ہمارے پاس آئین کی کتاب اور قوانین تو ہیں مگر معاشرے میں قانون شکنی کا رجحان بھی ہے اورآئین کاعام آدمی کو پتہ ہی نہیں کہ اس مقد س کتاب میں کیا لکھا ہے۔
.
پٹواری، تھانیدار، چوہدری، جاگیردار، وڈیرہ، سردار اور پیر ہماری روایات، ثقافت اور اقدار سے جڑے ہوئے افراد ہی نہیں بلکہ ایسے دارے ہیں جن پر آئین اور قانون کی کوئی گرفت نہیں۔ ہمارے معاشرے اور ریاست میں جتنی توہمات، فرسودہ روایات اور اخلاقی گراوٹ ہے اس کی بنیاد بھی یہی ادارے ہیں اور معاشرہ و ریاست ان کے غلام ہیں۔
.
زندگی، موت، عزت وذلت اور رسوائی پٹواری اور تھانیدار کے قلم سے لکھی جاتی ہے اور چوہدری اور جاگیردار اُن کے قلم کے محافظ ہیں۔ 1973ء کے آئین کے خالق مرحوم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ بھٹو صاحب نے آئین پاس ہوتے ہی اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ہی منظور کردہ آئین سے بہت سی شقوں کو چلتا کیا۔ ضیاء الحق نے آرٹیکل 62اور63کا اضافہ کیا اور زرداری نے 18ویں آئینی ترمیم نواز لیگ کی بھرپور مدد سے پاس کی اور اس ترمیم کا مسودہ تیار کرنیوالوں کو ہلال امتیاز سے نوازا۔
.
نوازشریف نے صدر لغاری کی مدد سے مطلق العنانی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور اسمبلی برخواست کرنے کے صدارتی اختیار کی شق ختم کر کے فوج اور عدلیہ ہی نہیں بلکہ عوام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ بغور جائز ہ لیا جائے تو اگر جناب بھٹو آئین سازی کے بعد اصلاھات پر بھی توجہ دیتے تو وہ تھانیدار کی لکھی ہوئی ایف۔ آئی آر اور وڈیرہ شاہی کی زد میں آکر شہید نہ ہوتے۔
.
اگر نوا زشریف صدراتی اختیارات کے خاتمے کے بعد فوج پر حملہ آور نہ ہوتے تو اپنی وزارت عظمیٰ کی دوسری مدت عزت سے گزارتے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے دیگر آئینی ترامیم کی طرح آرٹیکل چھ کے طرف کوئی دھیان نہ دیا اور نہ ہی آرمی چیف کی مدت ملازمت بڑھانے کے لیے آئین کی کسی شق میں ردو بدل کیا۔
.
دیکھا جائے تو دینا کا کوئی بھی آئین سوائے خدا کے آئین قرآن اور شریعت کے قانون کے ایسا نہیں جو فلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے اصلاحات کی طرف توجہ دے۔ سیاست میں بھی اصلاح معاشرہ، فلاح انسانی اور علم کی ترویج کا مقام ہے اور جو شخص ان خصوصیات کا حامل ہو وہی قابل قدر و تقلید ہے ورنہ محض ووٹ کے چکمے اور دولت کی چمک سے وجود پذیر ہونے والی اسمبلی دھوکہ اور اسمبلی میں بیٹھے والا سیاستدان دھوکہ باز ہے۔ اسلامی قانون وآئین کی رو سے ایسی اسمبلی اور ادارے کی تعظیم انسانوں پر واجب نہیں اور نہ ہی اُن سے روگردانی جرم و غداری ہے۔
ہمیں بحیثیت انسان احتجاج کا حق ہے اور دھوکہ دہی کرنے والی سیاسی جماعتوں اور اُن سے وابستہ اشخاص کی تنظیم و احترام کسی بھی صورت لازم نہیں۔ ہمارے ملک کے اعلیٰ ترین اداروں کو صد ر زرداری، نواز شریف اور افتخار چوہدری کے کردار وعمل اور اُن کے خاندانوں کی حکومتی امور میں مداخلت کو مد نظر رکھ کر پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات پر غور کرنا ہوگا ورنہ محض جنرل پرویز مشرف کو بستر مرگ پر سزا دینے سے کسی بھی شخص یا ادارے کی سربلندی نہ ہوگی۔
.
جنرل پرویز مشرف کی آئین شکنی اور ایمرجنسی کا نفاذ کتابی لحاظ سے تو درست نہیں مگرفلاح انسانیت اور ریاست کی بقا کے لیے ضروری تھا۔ میاں نواز شریف نے اپنے آئینی اختیارات کے غلط اورمتکبرانہ استعمال سے فوج کو تقسیم کرنے اور ملک کے محافظ ادارے میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ ریاست کا نظام تباہ ہو جائے اور ملک دشمن عناصر ہماری عزت وآزادی کو پامال کر دیں۔ اسی طرح جسٹس ریٹائر ڈ افتخار چوہدری نے اپنے اختیارات میں اپنے بیٹے کو بھی شامل کر لیا اور اُن کے کچھ فیصلوں کی وجہ سے ملکی نظام میں خلل پید اہوا۔ ریکوڈیک کے فیصلے سے ملک کی معیشت پر بھاری بوجھ پڑا اور پاکستان کے بیرونی دنیا سے تعلقات و معائدات کی ساکھ بڑی طرح متاثر ہوئی۔ افتخار چوہدری نے ملک کے اندر متوازی حکومت قائم کر لی اور اپنی آئینی اور عدالتی سرگرمیوں کا دائرہ از خود وسیع کر لیا۔
.
اگرآئین کے لحاظ سے ایمرجنسی کا نفاذ قابل گرفت جرم ہے تو افتخار چوہدری کی سرگرمیاں بھی قابل تقلید نہیں۔ اگر ایک شخص آئین کی آڑ میں جرم کرتا ہے تو دوسرا اسے آئین کی حد سے نکل کر روکتا ہے تو دونوں ہی مجر م ہیں اگرایک پر قانون لاگو ہوتا ہے تو دوسرے پر کیوں نہیں۔یہ محض آئینی اور قانونی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی، انسانی اور ملکی سلامتی اور تحفظ کا بھی مسئلہ ہے۔ ارضی ریاست خدائی ریاست کا نمونہ ہے جس پر اعلیٰ ترین علمی اور عقلی ذہنوں کو ملکر سوچنا ہوگا اور ایک ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جس کی وجہ سے معاشرے اور نظام ریاست میں اعتدال پیداہو۔ عشرہ العقول نے خالق کل کے حکم سے کائنات کی تعمیر کی اور اُسی کے حکم سے اسکا نظا م جاری ہے۔ ستارے، سیارے، کہکشائیں، جن اور فرشتے، پہاڑ، دریا، سمندر اور دیگر مخلوق ارضی و سماوی اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح عقل مند قوموں نے خدائی ریاست کی تقلید میں ایسے قانون و اصول مرتب کیے ہیں جن میں کوئی جبر نہیں اور عوام اُن کی عزت و تکریم کو واجب سمجھتے ہیں جب تک سیاستدان، حکمران اور قاضی و منصف اپنے اختیارات کی حدیں مقر ر نہیں کرینگے اور معاشرے میں اصلاح، فلاح اور اعلیٰ اخلاقی، تمدنی اور عملی روایات کا احترام نہ ہوگا محض آئین کی کتاب اور قانون کی تلوار سے جنرل پرویز مشرف کو شہید کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت شہادت میں بدل چکی ہے اور ساری دنیا کے جیورسٹ بشمول ہمارے قانون دانوں کے اسے عدالتی قتل قرار دے چکے ہیں۔ آئین اور عدلیہ کا احترام اپنی جگہ مگر قانون شکنی کی بنیادی وجہ پر توجہ دیے بغیر محافظ کو غدار قرار دینا بھی درست نہیں۔
.
جنرل پرویز مشرف ڈکیٹٹر تھامگر اُس کا دور حکمرانی قابل تعریف ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء کو مُینٹرنگ سسٹم میں بدل کر بیوروکریسی کوکام پر لگا اور اصلاح معاشرے کے لیے بہترین کا م کیے۔ پٹواریوں، تھانیداروں، جاگیرداروں، چوہدریوں، پیروں اور وڈیروں کو نکیل ڈالی مگر جلد ہی گجرات کے چوہدریوں اور ایم کیو ایم والوں نے لگا میں اپنے ہاتھ لیکر اقتدار کے گھوڑے کو سست رفتاری پر مجبور کر دیا۔ رہی سہی کسر ق لیگ نے نکال دی اور پھر این آراو نے جبری جمہوریت اور چور بازاری کا نظام بحال کر دیا۔
.
جنرل پرویز مشرف کا دور عزت، آزادی، خوشحالی اور معاشی استحکام کا دور تھا۔ حکمران جیسا بھی ہو وہ اپنے اقدامات کے فٹ پر نٹ چھوڑجاتا ہے۔جنرل مشرف مجر م بن کر بھی ہیرو ہے اور مرکر بھی ہیرو ہی رہیگار۔ مشرف کی حکمرانی کے فٹ پر نٹ تاریخ کا حصہ ہیں اور اُس کے اقدامات وطن کی حفاظ اور قوم کی عزت کا باعث تھے۔ جنرل میکار تھرنے سچ کہا تھاکہ “سپاہی کبھی مرتا نہیں “۔


شیئر کریں: