Chitral Times

Jun 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجور زیست۔۔۔۔۔۔۔۔13دسمبر سالگرہ مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر دلشاد پری بونی

شیئر کریں:

شیعہ امامی اسماعیلی مسلم فرقے کی روحانی پیشواور 49 ویں امام شاہ کریم الحسینی 13دسمبر 1936ء کو سوئٹرزلینڈ کے شہرجینوا میں پیدا ہوے۔ 11 جولائی 1957ء کو اسماعیلی فرقے کے 49 ویں امام کی حیثیت سے منصب سنبھالا۔آپ کے دادا جان سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم تھا۔آپ دو نومبر 1877 ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔سلطان محمد شاہ کے والد آغا علیشاہ آغاخان دوئم تھا۔جبکہ والدہ عالیہ شمس الملک تھی۔جو کہ ایران کے بادشاہ فتح علیشاہ قاچار کی نسل سے تھی۔سر آغاخان سوئم کا تعلق ایران کے ایک اہم مذہبی گھرانے سے تھااورآپ کے دادا حسن علی شاہ اسماعیلی فرقے کے 46ویں امام تھے اور ایران کے صوبے کرمان کے گورنر بھی رہے۔ انہیں شاہ ایران نے آغاخان اول کا خطاب دیا۔۔

سلطان محمد شاہ ایران سے جنوبی اشیاء منتقل ہوا۔آپ کی تعلیم و تربیت میں آپ کی والدہ لیڈی علیشاہ کا اہم کردار رہا ہے۔آپ کواس زمانے میں قابل اساتذہ گھر میں تعلیم دیتے تھے۔آپ نے عربی، فارسی،انگریزی اور فرانسیسی میں مہارت حاصل کی۔آپ کے دو صاحبزادے پرنس علی سلمان اور پرنس صدر دین تھے۔پرنس علی سلمان کے بیٹے شا ہ کریم الحسینی کو آپ کی وصیت کے مطابق اسماعیلیوں کا انچاسویں امام بنا دیا گیا۔آپ کے دادا جان میں جو خوبیاں تھے وہ آپ میں منتقل ہوگئے۔جسطرح آغاخان سوئم06 19ء میں شملہ وفد کی راہنمائی کی ہو یا آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت ہو یا پریوی کونسل کی ممبر شپ یا لیگ آف نیشن کی قیادت ہوہر جہگہ نما یاں نظر آیا۔اور ہر جگہ اپنے سیاسی فراست ،سماجی خدمات اور قیادت کے خلوص سے اپنا لوہا منگوایابلکہ اسی طرح شاہ کریم الحسینی اپنے دادا جان کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے لوگوں کی فلاح بہبود کے لئے اپنی کوشیشں تیز کر دی اور آغاخان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی بنیاد رکھ دیا۔جس کے ذیلی اداروں میں آغاخان فاؤنڈیشن،آغاخان پلاننگ اینڈ بلڈنگ، آغاخان ایجوکیشن سروس آغاخان رورل سپورٹ پروگرام،آغاخان ہیلتھ سروس وغیرہ شامل ہیں جن کی براہ راست نگرانی سر آغاخان خود کرتے ہیں۔امام شاہ کریم الحسینی کا ٹرسٹ پوری دنیا میں مشہور ہے،یہ ٹرسٹ خاص طور پر اسلامی تاریخی مقامات کی حفاظت کا کام کرتا ہے۔مصر میں فاطمی حکمرانوں کی تعمیر اتی تزئین و آ راائیش بھی یہ ٹرسٹ کرتا ہے اور دہلی میں ہمایوں کے مقبرہ کی دیکھ بھال اور سجاوٹ بھی اگرہ اور دوسرے تاریخی مقامات کی مرمت کی زمہ داری اس ٹرسٹ نے لی ہے۔
۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو اگر دیکھا جائے تو امام شاہ کریم الحسینی کا کردار وہاں کے تعمیر و ترقی میں واضح نظر اتا ہے۔ 1960 ء میں پہلی دفعہ جب آپ گلگت بلتستان تشریف لے آئے تو وہاں کے لوگوں کی حالت زندگی دیکھ کر آپ نہایت افسردہ اور مایوس ہوگئے،جس کے بعد آپ نے ان کی زندگی بہتر بنانے کے لئے حکمت عملی تیار کی اور 1980 ء میں آغاخان فاؤنڈیشن نے گلگت بلتستان میں آغاخان رورل سپورٹ پروگرام،آغاخان ہیلتھ سروس اور آغاخان ا یجوکیشن اور دیگر اداروں کی بنیاد رکھی جو آج تک علاقے کے فلاح بہبود کے لئے ہر فرقے اور مذہب سے بالاتر ہو کر خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔آپ کی انہی خدمات کو سراہتے ہوئے دنیا کے بے شمار خطابات،القابات اوراعزازات سے آپ کو نوازا گیاجن میں کنیڈا کی اعزازی شہریت نشان پاکستان،کمانڈر آف لیجنڈآف آنر اور ستارہ امتیاز قابل زکر ہیں۔1977 سے 2019 کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کے 20 ممالک نے آپ کو قومی اعزازات سے نوازا ہے۔دنیا کے 19 بہترین یونیورسٹیوں نے آپ کو اعزازی ڈگریاں دی۔اور دنیا کے 21ممالک نے آپ کو آپ کے شاندار خدمات اور گرانقدر کام کرنے پر 48اعزازات سے نوازا۔آپ نے ہارورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو نے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ میں بھی آنر کی ڈگری لی۔

حاضر امام کے 3بیٹے شہزادہ رحیم،شہزادہ حسین اور شہزادہ علی محمد جبکہ آپ کی ایک بیٹی شہزادی زہرہ ہیں۔آپ کو انگریزی،اطالوی اور فرانسیسی زبانوں میں عبور حاصل ہے جبکہ اردو اور عربی سے بھی کافی اشنا ہیں 1947.ء میں آپ کے دادا جان سلطان محمد شاہ کو پاکستان کی شہریت مل گئی تھی اور آپ نے اس وقت امت مسلمہ کو پاکستان کے قریب تر کرنے کے لئے عربی کو سرکاری زبان قرار دینے کی تجویز دی جس پر بد قسمتی سے عمل نہیں کیا گیا۔امام کے پیروکار شیعہ امامی مسلم جو نذرانہ جماعت خانوں میں دیتے ہیں وہ سب غربت کے خاتمے اور دیگر فلاحی اداروں میں غریب عوام پر خرچ کیا جاتا ہے۔
.
شاہ کریم کو اللہ تبارک و تعالی نے بے شمار دولت سے نوازا ہے مگر آپ نے کبھی عرب بادشاہوں کی طرح اس کا ا ستعمال نمودا نمائش کے لئے نہیں بلکہ عوامی اور فلاحی کاموں پر صرف کرتے ہیں۔آغاخان یونیورسٹی سے لیکر آغاخان ایجوکیشن سروس تک اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔تمام اسماعیلی مسلم براداری کو میری طرف سے امام شاہ کریم الحسینی کا سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔امین


شیئر کریں: