Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں بڑی تعداد میں خودکشیاں تشویشناک اورحکمرانوں‌کیلئے لمحہ فکریہ ہے..نیازی

Posted on
شیئر کریں:

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) انسانی حقوق کے عالمی دن 10دسمبر کے موقع پر انسانی حقوق چترال کے چیئرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس سال 2019کے دوران چترال میں مبینہ طور پر 23 افراد نے خودکشیاں کیں جس میں‌اکثریت نوجوان خواتین کی ہے.۔ جبکہ 2018ً میں تقریبا چالیس افرد نے اپنی زندگیوں کا چراغ گل کردئے. انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں خودکشیاں ضلع چترال جیسے کم آبادی کے علاقے میں تشویش ناک بات ہے۔ ایک اخباری بیان میں نیاز اے نیازی نے کہاکہ چترال کی کل آبادی تقریبا4لاکھ 50ہزار ہے۔اتنی کم آبادی میں اتنی بڑی تعداد میں خودکشیاں کسی انسانی المیہ سے کم نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ2019کا سال کئی خاندانوں کے لئے بہت ہی تکلیف دہ تھا۔انسانی حقوق کے علمبردار نے کہا کہ معاشرے کے ہرفرد کو اس انسانی مسئلے کا ادراک ہونا چاہیئے۔بحیثیت باپ، ماں،ساس،بہن،بھائی اورشوہر کو کسی بھی انسان کی اپنی زندگی کا چراغ گل کرنے سے روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اُنہوں نے کہاکہ اُن کے سروے کے مطابق خواتین میں اکثریت شادی شدہ خواتین کا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ اُن کے سسرالیوں کا رویہ ایسے انتہائی اقدام کا باعث بنتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جب بھی بچی یا بچہ غصے میں آکر خودکشی کی دھمکی دیتا ہے تو ایسی حالت میں اُس دھمکی کو دھمکی برائے دھمکی کے طورپر نہیں لینا چاہیئے بلکہ معمولی دھمکی کو بھی سنجیدہ لینا چاہیئے۔اُنہوں نے کہا کہ امتحان کے دنوں میں خصوصاً والدین کو اپنے حساس زہنیت کے مالک بچوں اور بچیوں کی طرف زیادہ سے زیادہ فکرمند رہنا چاہیے۔ نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا کہ گذشتہ نو سالوں کے دوران چترال میں 250سے زیادہ خواتین نے خودکشیوں کا ارتکاب کیا ہے جوکہ معاشرہ اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔


شیئر کریں: