Chitral Times

Feb 2, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لیڈر کون ہوتا ہے۔۔۔؟…….. تحریر: مشاہد ظفر(طالب علم)

Posted on
شیئر کریں:

خودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا
وہی ہے ملک صبح و شام سے آگاہ
.
تاریخ ہمیں دو قسم کے مشاہیر (نامور لوگوں) سے روشناسی کراتی ہے، ایک وہ جو ابتدا ہی سے کوئی خاص اور واضح نصب العین نہیں رکتے بلکہ حالات انہیں حسب موقع اپنا راستہ متعین کرنے کی جانب مائل کردیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف اپنی ذات پات تک ہی محدود رہنا ہے۔دوسروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔چاہے جو بھی ہوجائے ان کا دوسروں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔
.
دوسری قسم ایسے مشاہیر(نامور لوگوں) کی ہے جو ایسے فطرت اور جبلت لے کر اس خاکدانِ عالم میں آتے ہیں جو ابتدا سے ہی اپنا ایک کردار اور نقطہئ نظر رکھتے ہیں۔حالات ان کے کردار کے جوہر کو اور بھی نکھارتے ہیں اور سنوارتے ہیں۔ان کا شمار ایسے مشاہیروں میں ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں میں بھی ترقی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔معاشرے میں ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کمزور طبقے کے لوگوں کی مدد کرنے میں مگن رہتے ہیں اور یہ لوگوں سے رشتہ اور محبت کو مضبوط کرتے ہیں۔
.
سب سے پہلے، ایک بہترین لیڈر میں یہ تین خصوصیات ضرور دیکھنے کو ملتے ہیں۔وہ یہ کہ سیاست خاصہ، سیاست حامہ اور سیاست عامہ سیاست خاصہ سے انسان کے اپنے نفس کی سیاست مراد ہے، سیاست حامہ سے آدمی کے اپنے اہلِ خانہ کی سیاست مراد ہے، اور سیاست عامہ سے مراد شہروں اور ممالک کی سیاست ہے۔لیڈر ہی نہیں بلکہ انسان کے اندر اپنے نفس کی سیاست کے لئے لازم ہے کہ اسے تمام بُرے کام، بُرے اخلاق، حیوانی عادات اور مذموم خواہشات سے روکے، نفس کو باندھ کر اس کی تادیب کرے، اگر برا کام کریں تو مذمت اور ندامت کے ذریعے اسے سزا دے اور اچھا کرے تو تعریف، مسرت اور آئندہ بھی ایسے کام کرنے کی ترغیب کے ذریعے اسے جزا دے۔سیاست حامہ یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر والوں اور اہل و عیال کی ان کی اصلاح کی نگہداشت کے ذریعے سیاست کرے، اور انہیں فضائل جمع کرنے اور اچھے اخلاق اپنانے کی ترغیب دے، اور ان میں سے جو برا کام کرے اس کی سرزنش وغیرہ کے ذریعے اسے سزا دے، اور جو اچھا کرے اسے تعریف وغیرہ کے ذریعے حوصلہ افزائی کرکے انعام دے۔سیاست عامہ شہروں اور ممالک کی سیاست ہے، اور شہروں کی سیاست ان کی اصلاح اور زندگی کی حفاظت کے لئے کی جاتی ہے۔نیز انہیں برے اخلاق، ان کی گھٹیا افعال سے روکا جاتا ہے تاکہ ہر شخص کا مرتبہ اور مقام محفوظ رہے۔جس نے برا کام کیا اسے سزا دی جاتی ہے اور جس نے اچھ اکام کیا تعریف اور ستائش کے ذریعے اسے جزا دی جاتی ہے، اور ان کے دین اور معاد کے امور کے اصلاح اور حفاظت کی جاتی ہے، اور لیڈربھی اسی کا نام اور صفت ہے۔یہ ایک سچی مگر کڑوی بات ہے کہ جو شخص اپنے نفس کی سیاست نہیں کرسکتا وہ اپنے اہل و عیال کی سیاست نہیں کرسکتا، اور جو اپنے اہل و عیال کی نہیں کرسکتا وہ کسی صورت میں سیاست عامہ یعنی شہروں اور ممالک میں سیاست کرنے کا کبھی بھی اہل اور قابل نہیں ہوسکتا ہے۔
.
دوسرا نمایاں اور بہترین لیڈر وہ ہوتا ہے جو پڑھا لکھا یعنی تعلیم یافتہ ہو۔کیونکہ تعلیم اور تبدیلی کا باہم گہرا رشتہ ہے کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کے لئے تعلیم ایک مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔تبدیلی کے اس سفر میں معلم کا کردار بہت ضروری اورہر اول دستے کا ہے۔یہ تعلیم یافتہ ہی ہوتے ہیں جو نوجوان ذہنوں کی آبیاری اور نشونما کرسکتے ہیں،جہان تازہ نمود کے لئے افکارِ تازہ کی تشکیل کا کام تعلیم یافتہ لوگوں کی اولین ذمہ داری ہے۔کسی بھی معاشرے میں سوچ کی تشکیل پڑھے لکھوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ “Readers are the leaders”جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلی وہی کو سرورِ کائنات آنحضرت محمدؐ پر نازل کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ترجمہ”پڑھو اپنے رب کے پاک نام سے جس نے پیدا کیا۔آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے کریم ہے۔جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا“۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خداوند جب آپؐ کو دنیا کا سب سے عظیم اور بڑا لیڈر بنانے سے پہلے اُسے پڑھنے کو کہا۔کیوں کہ آپؐ اپنے علم، سچائی، ایمانداری، دیانتداری اور محبت و شفقت سے دنیا والوں میں بس جائے۔اسی طرح آپؐ کی زندگی تمام انسانوں کے لئے مشعلِ راہ بن گئی۔جس کے تعلیمات پر عمل کرکے کوئی بھی شخص دنیا میں نام پیدا کرسکتا ہے۔یاد رکھنا کوئی منشیات فروش لیڈر کسی کا تقدیر نہیں بدل سکتا۔
.
تیسری اہم خصوصیات یہ ہیں کہ لیڈر سچا، صادق و امین ہوتا ہے۔لیڈر کے لئے یہ نہایت ہی لازمی ہے کہ وہ جھوٹ نہ بولے، وعدہ خلافی نہ کرے اور امانت میں خیانت نہ کرے۔کیوں کہ کوئی بندہ جھوٹ بول کر، وعدہ خلافی کرکے اور امانتوں میں خیانت کرکے لیڈر شپ کے حقدار نہیں ہوتا۔کوئی بندہ ان تین شیطانی عادتوں کو اپنا کر لیڈر بن بھی جائے تو بحیثیت مسلمان بارگاہِ خداوندی میں بھی جواب دہ ہونا ہے۔جس دن نہ کوئی غریب، نہ کوئی امیر، نہ کوئی محتاج، نہ کوئی لاچار اور نہ کوئی (اپر، مڈل اور لاور)کلاس بنا کر لوگوں کو تقسیم کی اجائے گا۔بلکہ بارگاہِ خداوندی میں سب کے سب برابر درجے پر ہونگے۔جس میں کسی کو فوقیت حاصل نہیں ہوتا ہے۔بہترین لیڈر وہ ہوتا ہے جو سچ، وعدوں کی پاسداری اور لوگوں کے بھروسوں کو اپنا مقصد بناتا ہے۔
.
چوتھی بڑی خوبی لیڈر میں کسی قسم کا تعصب نہیں ہوتا ہے۔یہ کہ وہ بغیر کسی فرقہ پرستی، نسل پرستی اور علاقائی تعصب کے اپنے لوگوں کی مثائل کو مل بیٹھ کر حل کرتا ہے۔سفارش اور رشوت جیسی گندی بیماری سے دور رہتا ہے۔ایک سرخرو لیڈر اپنے پچھلے حکمرانوں کے غلطیوں سے سیکھتا ہے اور انہیں دوبارہ نہیں دہراتا۔اپنے مخالفین کو ساتھ لے کر ترقی میں مگن رہتا ہے۔ایماندار اور دلیر لیڈر اپنے حقوق کی پامالی کو کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔اپنے حقوق کی بھیک نہیں مانگتا ہے بلکہ اپنے حقوق کو چھین کر لاتا ہے۔سچا لیڈر لوگوں کے زندگی کے ہر شعبے کو بہتر بنانے کے لئے ہر کوشش کو اپنا راستہ بناتا ہے جس میں تعلیم، صحت، ثقافت، خوراک، سیاحت اور کھیل سب سے ضروری ہیں۔ان تمام پر کام کرکے اپنے ترقی کی راہ ہموار کردیتا ہے۔وفادار لیڈر ہونے کی ثبوت دیتے ہوئے وہ اپنے ملک کی قانون، آئین، چاردیواری اور عزت و آبرو کا خیال رکھتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ خوشی اور غم میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے۔مشکل وقت میں عوام کا ساتھ نہیں چھوڑتا بلکہ مشکلوں کو ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے لوگوں میں جوش، جذبہ، جنون اور غیرت اجاگر کردیتا ہے۔نمایہ لیڈر ہجوم دیکھا کر راستہ نہیں بدلتا کسی کے ڈر سے تقاضہ نہیں بدلتا، دوسروں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ ہمیشہ اور بھی اچھے اچھے لیڈر بنانے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔نہ کہ اور بھی چمچا بنانے میں اچھا لیڈر کسی کے اشارے پر نہیں چلتا بلکہ دوسروں کو اچھے کام کرنے کی تاکید کرتا ہے۔میں یہ یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر ہمیں اپنے اس گوشہ جنت کو ترقی کی راہوں میں گامزن کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ اور حضور پاکﷺ کے تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔آپؐ کی حیات کو پروردگار نے تمام لوگوں کے لئے بہترین نمونہ قراردیا تاکہ ہم رحمت اللعالمینؐ کو اپنا بہترین لیڈر اور اسے اپنی زندگی میں مشعلِ راہ بنائے رکھیں۔کیوں کہ پوری انسانی تاریخ میں صرف وہی ایک انسان تھے جو دینی اور دنیاوی اعتبار سے دونوں جہاں میں کامیاب و کامران ٹھہرے۔آپؐ ایک ایسا عظیم ہستی تھا جس کی حیاتِ طیبہ آج بھی ہمارے لئے زندہ ہے۔جو سادگی، مکمل انکساری، وعدوں کی پاسداری، اپنے دوستوں اور پیروی کرنے والوں کے لئے شدید محبت اور اللہ پاک اور اپنے مشن پر پختہ یقین رکھتا تھا۔آپ ؐ کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے خود تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیا ہے دنیا کے بے شمار مسلم اور غیر مسلم محققین، دانشوروں اور اصحاب لیاقت و فراست نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں آپؐ کی عظیم مرتبت کو تہذیب، دیانت، امانت داری، غریب پروری، بین الاقوامی مساوات، سیاسیات اور انسانی صفات کا مکمل نمونہ مان لیا ہے۔اور آپؐ کی حیات و تعلیمات کو دورِ حاضر کے مسائل کا حل اور انسانی نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
آخر میں اللہ پاک کے حضور دعا ہے کہ، پروردگار عالم! ہمارے سیاسی لیڈروں میں وہ جذبہ، ایمان اور توفیق عطاء فرمائے کہ وہ سیاست کو عبادت سمجھ کر کریں۔۔۔۔(آمین)
.
بقول شاعر مشرق علامہ اقبال
اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


شیئر کریں: