Chitral Times

Dec 4, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال بونی روڈ حکومتی عدم توجہی کی بنا پرکھنڈرات میں تبدیل، حکام تماشائی

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال بونی روڈ حکومت کی گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل عدم بے توجہی کی وجہ سے کھنڈر بن کررہ گئی اور چترال سے بونی تک دوگھنٹے کا سفر اب چار سے پانچ گھنٹوں میں طے ہونے لگا اور اس سڑک پر سفر کرنے والے مسافروں کی چیخیں نکلنا شروع ہوگئے جبکہ سڑک کی خرابی کی بنیاد پر ٹرانسپورٹروں نے سامان اور مسافروں کے لئے دگنا کرایہ لینا شروع کردیا اور یہ سڑک پی ٹی آئی حکومت کی انتہائی غیر مقبولیت کی طرف لے جانا شروع کردیا جہاں سفر کرنے والا ہر مسافر اور ڈرائیور حکومت کو کوستے ہوئے دیکھے جارہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے چترال ٹائمز ڈاٹ کام کو بتایاکہ جب بھی گاڑی کھڈوں میں گرکر ہچکولے کھانا شروع کرتی ہے تو مسافر’نیا پاکستا ن’کہہ کر حکومت کو طنزکا نشانہ بناتے ہیں۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ 1994ء میں چترال بونی کی تعمیر ہونے کے بعد ماضی میں اس سڑک کی سالانہ تعمیر ومرمت کرکے اسے درست رکھا جاتارہا ہے لیکن گزشتہ چھ سالوں کے دوران چترال بونی روڈ پر خاطر خواہ کام نہیں ہوا جس کے نتیجے میں اس کا خلیہ ہی بگڑکررہ گئی ہے۔ اس سڑک کے نگران سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے سڑک کی ابتر حالت کا ذمہ دار صوبائی حکومت کوقرار دی ہے جوکہ سالانہ مرمت اور دیکھ بال (اے ایم اینڈ آر) اور ڈیزاسٹر کی بحالی کی مد میں ضروری فنڈ کی فراہمی میں گزشتہ چھ سالوں سے ناکام رہی ہے۔75کلومیٹر طویل اس سڑک کی تعمیر ایک چینی تعمیراتی کمپنی اورنیسپاک کمپنی کے ذریعے انتہائی معیاری طور پر کی گئی تھی جس میں ضلعے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جدید ترین مشینریوں کا استعمال کیا گیا تھا لیکن پہاڑی مقامات سے گزرنے اور گزشتہ چھ سالوں کے دوران فنڈز کی عدم فراہمی اور سی اینڈ ڈیپارٹمنٹ کی مجرمانہ غفلت نے اس سڑک کو موجودہ بدتریں حالت میں پہنچادیا ہے۔ بونی روڈ چترال کے اپر اور لویر اضلاع کو ایک دوسرے ملاتی ہے جس کا لویر چترال میں طوالت 50 کلومیٹر ہے جس کے لئے عوامی حلقے سابق ایم پی اے سلیم خان کو بھی مورد الزام ٹھہرارہے ہیں جوکہ مسلسل دس سال تک ایم پی اے رہنے کے باوجود اس سڑک کی بحالی میں کوئی کردار ادانہیں کیا اور سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سالانہ مرمت کے انتہائی ناقص اور غیر معیاری کام پر خاموشی اختیار کرتا رہا حالانکہ پہلے پانچ سالوں کے دوران وہ صوبائی وزیر بھی رہے۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی غیر معیاری کام کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک ماہ پہلے دو کلومیٹر میں کھڈوں کی بھرائی کے لئے پیچ ورک اب اکھڑ نا شروع ہوگئے ہیں۔ موسم سرما کی برفباری کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد بونی روڈ جب بند ہوگی تو کھولنے والا کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہوگا کیونکہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ روڈ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو منتقل ہوا ہے تو دوسری طرف اس وفاقی محکمے کاکوئی دفتر ملاکنڈ ڈویژن میں بھی نہیں ہے۔ یہاں‌یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چترال بونی روڈ کی رہی سہی کسر پی ٹی سی ایل فائبرآپٹک کے نام پر کھودائی نے نکال دی . مذکورہ کھودائی کی وجہ سے روڈ مذید کھنڈرات میں‌تبدیل ہوگئی مگر متعلقہ حکام تماشائی کا کردار اداکیاجس کیوجہ آئے روز چھوٹے موٹے حادثات روز کامعمول بن گئے ہیں.
chitral booni road 14
chitral booni road condition


شیئر کریں: