Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فلاح کی منزل……………ندیم آحمد

Posted on
شیئر کریں:

جب کبھی مجھے درد ہوتا ہے، میں کسی ذہنی، جسمانی یا روحانی تکلیف میں ہوتا ہوں تو میں اپنے رب کو پکارتا ہوں۔ میرا رب سنتا ہے، میری تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ اور پھر میں ناشکری کرنے لگتا ہوں۔ جب کبھی بھی میری دنیاوی کشتی زندگی کے اس وسیع و عریض سمندر میں کسی بھنور کا شکار ہوتی ہے، میں اپنے واحد لاشریک مالک کو پکارتا ہوں۔ وہ سنتا ہے اور مجھے بے رحم موجوں سے نکال لیتا ہے۔ میری نائو کنارے آلگتی ہے اور میں خشکی پر آتے ہی اپنے رب کا ناشکرا بن جاتا ہوں۔ اس کی دی ہوئی نعمتوں کو معمولی جانتے ہوئے ان سے ہر وقت فائدہ بھی اٹھاتا ہوں، جبکہ پالنے والے مالک کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
.
میں پیدا ہوا تو والدین ملے، جنہوں نے میری عمر کے ابتدائی لمحوں میں مجھے اذان سنا کر سلامتی کا راستہ دکھا دیا۔ بعد کی مدت عمر میں میرے والدین نے مجھے تربیت دی، پڑھایا لکھایا، ہنر دیا، مجھے بیماری سے بچایا، ہر آفت سے پناہ دی۔ آج میں زندہ ہوں تو رب کی دی ہوئی نعمتوں کے بعد اپنے والدین کی وجہ سے۔ اور والدین بھی رب کی عنایت سے ملے۔
اعضا سلامت ہیں۔ تین وقت کھانا کھاتا ہوں۔ وہ کھانا باقاعدہ ہضم ہوکر مجھے قو ت دیتا ہے۔ سوچنے اور چلنے پھرنے کی ہمت دیتا ہے۔ کتنے ہی لوگ اس وقت موجود ہیں، جن کو ایسی عیاشی میسر نہیں ہوگی۔ رب تعالیٰ رزق دیتا ہے۔ اولاد دیتا ہے۔ کھانا دیتا ہے۔ امن دیتا ہے۔ پھر بھی میں شکر نہ کروں تو ظالم کون ہوا؟
.
کتنے ہی لوگ ہیں اس دنیا میں، جو پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتے۔ علاج معالجہ نہیں کروا سکتے۔ کتنے ہی علاقے اسی زمین پر موجود ہیں جہاں جنگوں سے اسپتال اور بچے بھی محفوظ نہیں۔ تو میں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائوں؟
.
ہمارے ہی ملک میں کتنے بچے ہیں، جنہیں تعلیم میسر نہیں۔ اچھا کھانا اور پہننا مہیا نہیں۔ ان کا کیا؟ کیا یہ ساری باتیں مجھے اللہ کی طرف نہیں لے کر جاتی ہیں؟ کیا یہ خوش بختی نہیں کہ میں امن کی نیند سوتا ہوں اور اگلے دن کا سورج میری کھڑکی سے جھانکتا ہوا مجھے ایک نئی صبح کا پیغام دیتا ہے؟ کیا میرا نفس میرے لیے ایک نشانی نہیں ہے؟ کیا میں اللہ کی نعمت کو جانتے ہوئے اس کا انکار تو نہیں کررہا؟
.
رب تعالیٰ کے اتنے ڈھیر سارے انعامات کے باوجود کیا میں اپنا حق ادا کررہا ہوں؟ کیا میں ایک بہتر انسان اور صالح وصابر مسلمان بن پارہا ہوں؟ کیا میری ہر نئی صبح مجھے میرے رب سے قریب تر کررہی ہے؟ کیا میں دنیا کے میلے میں کہیں کھو تو نہیں گیا؟ کیا میں اپنے رب کی طرف سے آنے والی کسی آزمائش کو مصیبت سمجھ کر اپنے آپ کو کوس تو نہیں رہا؟
.
جس دن میں پیدا ہوا، میرا سارا ریکارڈ بھی بن گیا تھا۔ میں کتنا اس دنیا میں رہوں گا، کتنا مجھے ملے گا؟ اور کیا کچھ مجھے ملے گا؟ یہ سب لکھا ہوا ہے تو میں پریشان کیوں ہوں؟ کیا مجھے کے ٹو پہاڑ جتنا سونا مل جائے تو میں راضی ہوجاؤں گا؟ جواب نہیں میں ہے۔ کیونکہ مجھے تو ماؤنٹ ایورسٹ جتنا سونا چاہیے تھا۔ تو پھر کیا اس کے برابر بھی سونا پا لوں تو کیا میں خوش ہوسکوں گا؟
.
جب میرا مالک کہہ رہا ہے کہ عسر کے ساتھ یسر ہے، تو میں کیوں نہ مصیبت اور تکالیف میں بھی اپنے رب کا شکر ادا کروں۔ جس نے مجھے ایک موقع دیا کہ میں اپنے پاسنگ مارکس بڑھاؤں اور اپنی حالت بدلوں۔ نبی کریمؐ کو جب مدینہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے ریاست مدینہ قائم کرکے دکھا دی۔ جس پر آج بھی دنیا حیران ہے۔ میں یہ کیوں بھول جاتا ہوں کہ صحرا میں ہی نخلستان بھی پیدا ہوتا ہے۔ خوف کے بعد امن آتا ہے۔ رات کے بعد دن آتا ہے اور طوفان کے بعد بارش جیسی نعمت آتی ہے، جو زمین کو باغ بنادیتی ہے۔ زمین پر کوئی بھی نفس ایسا نہیں جو کسی نہ کسی طرح آزمایا نہ گیا ہو، چاہے ایک درخت ہی کیوں نہ ہو۔ تو پھر میں کیوں چھوٹی چھوٹی مشکلات پر گھبرا جاتا ہوں؟ اور کیوں اپنے رب سے دور ہوجاتا ہوں؟ کیا میں ہر مشکل پر بھی اپنے مالک کا شکر ادا نہ کروں؟ کیا میں اپنی محفلوں اور اپنی تنہائیوں میں اسی کا ذکر نہ کروں؟ کیا میں اپنے نفس کو اسی کے تابع نہ کروں جس نے مجھے اب تک بے بہا نعمتیں دی ہیں اور آگے بھی دے رہا ہے۔
.
میرے مالک نے تو مجھے بتادیا ہے کہ ’’جو کوئی بھی میری یاد سے غافل ہوگا اس کےلیے زندگی تنگ کردی جائے گی‘‘ القرآن (20;124)
.
کیا میں دنیا کے تمام بتوں اور تمام طاغوتوں سے اپنا رخ موڑ نہ لوں؟ اور اپنے رب کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اپنے مالک سے اچھا بدلہ نہ پالوں، جس کا اس نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے ’’جو بھی مومن مرد یا عورت نیک کام کرے گا (گی) ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور ان کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیں گے‘‘ القرآن (16;97)
.
یہ اچھی زندگی دل کے سکون، قرار اور ایمان کا ہی نام ہے۔ رب کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ہے۔ کیونکہ جس سے رب راضی ہوا، اس نے اپنی فلاح کی منزل کو پالیا۔


شیئر کریں: