Chitral Times

Dec 8, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کاشانہ سکینڈل……تحقیقات ناگزیر………. تحریر: خان فہد خان

    December 2, 2019 at 9:17 pm

    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس میں ایک عورت کہہ رہی تھی”مجھے گرفتار کیا جارہا ہے اور مجھے نہیں معلوم مجھے گرفتاری کے بعدمجھے کہاں منتقل کیا جائے گا۔اب ان بچیوں کی حفاظت آپ کے ذمے ہے“اس عورت کے ساتھ لپٹی چند بچیاں رورہی تھیں اور روتے ہوئے کچھ فریاد کررہیں تھیں جو میں اچھے سے سن نہیں سکا۔اس ویڈیو نے مجھے کافی پریشان کردیاتھا اور میں اب اس ویڈیو سے متعلق حقائق جاننا چاہتا تھا کہ یہ سارا معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے۔جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو سماجی بہبود و بیت المال پنجاب کے فلاحی ادارے کاشانہ لاہور کی سپریڈنٹ افشاں لطیف صاحبہ کی ہے۔ مگرابھی صورت حال واضح نہ ہوئی کہ معاملہ کیا ہے اور ان کو گرفتار کیوں کیاجارہا ہے یہ تجسس لیے میں ابھی سوشل میڈیا پر ہی وقت برباد کررہا تھا کہ فیس بک پر ان محترمہ کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ ایک دفتر میں بیٹھی کہہ رہی تھیں کہ ا ن پر کاشانہ کی ڈی جی کا پریشر ہے کہ کاشانہ لاہور کے زیر کفالت بچیوں کی کم عمری میں شادی کی جائے جسکا اہم مقصد کسی وزیر اور کچھ منظور نظر افراد کو نوازنا ہے۔میں نے اس کی کمپلین وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم کو کی جسکی انکوائری کے پہلے دن ہی مجھے معطل کردیا گیا لیکن وزیر اعلیٰ کے نوٹس لینے اور مزید تحقیقات کے بعد ادارے کی ڈی جی افشاں کرن امتیاز صاحبہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا لیکن وزیر اعلی انسپیکشن ٹیم کے افسران نے مجھ پر یہ دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ میں کمپلین میں بیان کیا گیا موقف واپس لوں مگر میرے ایسا نہ کرنے پر کاشانہ لاہور کا بجٹ بند کردیا گیا اور مجھے معطل کرنے کے بعد گھر بھی خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔جب سپریڈنٹ کی طرف سے ان احکامات کی تعمیل نہ ہوئی تو محکمہ نے پولیس کے ذریعے چارج چھڑوایا۔اس سارے معاملے کو دیکھنے کے بعد مجھے کافی غصہ آرہا تھا اورجلد ہی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا نے کیلئے کالم لکھنا چاہتا تھا کہ کیسی تحریک انصاف کی حکومت ہے کہ جس میں ایسی غریب و یتیم بیٹیاں بھی محفوظ نہیں جن کی کفیل ریاست خود ہے۔اس معاملے کو لیکر کافی سوچ بچار میں تھا اور کچھ لکھنے کیلئے تیار ہی تھا کہ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کاشانہ لاہور سے مزید حقائق جانے اور ان وزیر صاحب کا موقف سنے بغیر کبھی میں اندھے جذبات میں حقائق کے برخلاف ہی تحریر لکھ ڈالوں اورمیری طرف سے زیادتی نہ ہوجائے۔میں نے وزیر موصوف اجمل چیمہ کا موقف ایک ٹی وی چینل پر سنا جس میں وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد کہہ رہے تھے۔مزید یہ کہ تحقیقات کا عمل جاری ہے مجھ پر لگے الزام درست ثابت ہوئے تو میں وزارت کے ساتھ ساتھ اسمبلی سے بھی استعفیٰ دونگا۔ پھرجب کاشانہ لاہور کی بچیوں سے بات ہوئی جو کہ ایک چینل پر رپورٹ میں پیش کی گئی اس میں ان بچیوں کا کہنا تھا کہ ہمیں شادی کیلئے مجبور کیا جاتاہے۔ہمیں شادی کیلئے ادھیڑ عمر مرد دیکھائے جاتے ہیں۔ہم یہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور یہ ہمیں روز لڑکے پسند کرواتے ہیں۔مس صائمہ کے بھائی یہاں آتے ہیں اور ہمیں چھیڑتے ہیں۔ان تہلکہ خیز انکشافات کے بعد کسی بھی قسم کی محکمانہ تحقیقات کی کوئی اہمیت رہ نہیں جاتی جب متاثرہ بچیاں خودآن ریکاڈ یہ بات کہہ رہی ہیں کہ ان پر شادی کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے اور کسی افسر کے بھائی ہمیں چھیڑتے ہیں تو پھروہ ہی افسران دفاتر میں بیٹھ کرکیا تحقیقات کرینگے وہ سب جانتے ہیں۔ میرے خیال میں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی اس بہادر سپریڈنٹ افشاں لطیف پر جو انتظامی اور مالی بے ضابطگی کے الزامات لگائے گئے ہیں وہ بھی افسران کی انکوائری کا انتقام ہے۔سپریڈنٹ افشاں لطیف پر کرپشن کے الزامات لگا کرصرف پریشر ڈالا جارہا ہے کہ وہ موقف سے دستبردار ہوجائیں لیکن میں اس خاتون سپریڈنٹ کو سلیوٹ کرتا ہوں جنہوں نے اس پریشر کے بعد بھی اپنا موقف تبدیل نہیں کیا اور اپنے پر لگے چارجز کا جواب دینے کے باوجود معطل ہونا بہتر سمجھا۔لیکن اب ڈر ہے کہ کبھی اس سپریڈنٹ پر کوئی نیا الزام نہ لگ جا ئے یا ویسے ہی کہیں تحقیقات کے دوران ہی عین غین نہ کردیا جائے کیونکہ ان کے سارے الزامات ڈی جی سے شروع ہوکر وزیر اجمل چیمہ پر ختم ہوتے ہیں۔اس واقعے کے میڈیا پر آنے کے بعد ایک بار پھر وزیر اعلیٰ نے نوٹس لیا ہے لیکن تحقیقات کا حکم وزیر اعلیٰ انسپیکشن ٹیم کودیا ہے۔یادرہے کہ اجمل چیمہ اس ہی محکمہ کے وزیر ہیں جس محکمہ کو وزیر اعلیٰ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اب اس سکینڈل کی تحقیقات کے نتائج میں سب اچھا کی رپورٹ کے علاوہ کچھ خاص پیش رفت ہونے کی توقع نہیں بلکہ مٹی پاؤ کے مترادف جواب آئے گا۔میری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ سپریڈنٹ افشاں لطیف کوجلد از جلد بحال کر کے اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے تاکہ معلوم ہو کہ ریاست کی کفالت میں پلنے والی کتنی بچیاں ان وزراء اور افسران کو نوازی گئی ہیں۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو شاید دوبارہ کوئی افشاں لطیف جیسی ہمت کا مظاہرہ نہ کرسکے اوریہ لاوارث،یتیم بچیوں کے حق میں اٹھنے والی آواز ہمیشہ کیلئے دب جائے گی۔پھر ناجانے کتنی یتیم بچیاں ان منظور نظر افراد کی جنسی تسکین کا سبب بنیں۔

  • error: Content is protected !!