Chitral Times

Dec 8, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عوامی حقوق کے نام پر اذیت………… محمد شریف شکیب

    December 2, 2019 at 6:09 pm

    متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف احتجاج کے پلان سی کے تحت پشاور میں زور دار قسم کا مظاہرہ کیا۔جنرل بس سٹینڈ سے اپوزیشن پارٹیوں کی ریلی شروع ہوئی۔ رنگ برنگے جھنڈوں سے مزین اس ریلی کے شرکاء ارباب سکندر خلیل فلائی اوور، ہشت نگری بازار اورفردوس چوک سے ہوتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے باہر جمع ہوئے اورحکومت وقت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ریلی کی وجہ سے جنرل بس اسٹینڈ سے صدر کی طرف جانے والی ٹریفک تقریبا ڈیڑھ گھنٹے معطل رہی۔ تین چار ایمبولینس گاڑیاں اور ریسکیو کی گاڑیاں بھی ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی تھیں۔لیڈی ریڈنگ اسپتال جانے والے بہت سے مریض بھی ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے تھے۔ ریلی کے پیچھے پجیرو، لینڈ کروزر اوروی ایٹ، ٹی زیڈ، ویگو، سرف اورپراڈو گاڑیوں میں سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین اپنی اپنی پارٹیوں کی جھنڈیاں تھامے خراماں خراماں جارہے تھے۔مظاہرے میں شریک غریب کارکن پیدل گلے پھاڑ پھاڑ کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔یہ منظر دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے خیال آیا کہ ہمارے ہاں کا سیاسی کلچر وہی پچاس سال پرانا ہے۔دنیا بدل گئی مگر ہمارے سیاست دانوں نے اپنا کلچر نہیں بدلا۔یہ تو خیر ہوگئی کہ مظاہرین نے اشتعال کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ورنہ ڈنڈا بردار پولیس والے اپنی لاٹھیوں کی مضبوطی آزمانے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوتا تو جھنڈے لہرا کر نعرے مارتے ہوئے پیدل کارکن ہی نشانہ بنتے۔ بڑی گاڑی والوں پر پولیس بھی ہمیشہ مہربان رہی ہے۔ وہ ہنگامہ آرائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نو دو گیارہ ہوجاتے۔ جس طرح اسلحہ، منشیات اور نان کسٹم پیڈ سامان سمگل کرنے والے گاڑی چھوڑ کر دن کی روشنی میں فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور پولیس بعد میں بیان جاری کرتی ہے کہ ملزمان رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے اور ان کی تلاش سرگرمی سے جاری ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جی ٹی روڈ جیسی مصروف ترین شاہراہ کو ڈیڑھ گھنٹے تک بند رکھنے سے حکومت کو کیا نقصان ہوا؟ ٹریفک جام سے غریب عوام ہی متاثر ہوئے۔ بچے سکولوں اور کالجوں سے گھر آرہے تھے، کوئی دفتر جارہا تھا۔ کوئی دفتر یا کام سے فارع ہوکر گھر آرہا تھا۔ کوئی مریض ہسپتال جارہا تھا۔ کسی کو جان بچانے کے لئے ایمبولنس میں طبی امداد کی فراہمی کے لئے لے جایا جارہا تھا۔ کہیں آگ بجھانے یا حادثے کا شکار ہونے والوں کو مدد فراہم کرنے کے لئے رضاکار جارہے تھے۔ ٹریفک جام کی وجہ سے سڑک پر سفر کرنے والوں کو ذہنی کوفت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالتوں نے بھی ہڑتالوں، ریلیوں، سیاسی جلسوں کو بازاروں، شاہراہوں اور تجارتی مراکز سے دور رکھنے کے احکامات بارہا جاری کئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ بھی صدر بازار، خیبر بازار، ہشت نگری چوک، یونیورسٹی روڈ، چارسدہ روڈ اور دیگر مصروف ترین مقامات پر جلسے کی ممانعت کے احکامات کئی بار جاری کئے ہیں۔ لیکن ان پر عمل درآمد نہ انتظامیہ کراسکتی ہیں نہ ہی عدالتوں کے پاس اپنے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی فورس موجود ہے۔ سیاسی اور انتخابی جلسے اور احتجاجی مظاہرے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتے ہیں۔ مگر ان کے لئے جگہ مخصوص ہوتی ہے جہاں میڈیا والے ان کی کوریج بھی کرتے ہیں۔ معمول کی معاشرتی زندگی ان کے جلوس، جلسوں اور ہڑتالوں سے متاثر نہیں ہوتی۔ریلیوں اور جلوسوں کے مشتعل ہونے، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار نہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ پشاور میں چند سال قبل ڈنمارک میں توہین رسالت پر مبنی کارٹون کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران جی ٹی روڈ کے آر پار سرکاری اور
    پرائیویٹ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایاگیا، کئی پٹرول پمپ لوٹ لئے گئے، کچھ لوگ ایک بینک کی اے ٹی ایم مشین اکھاڑ کر چلتے بنے۔اس واقعے کے بعد شاہراہ کے قرب و جوار میں واقع ہوٹلوں اور شاپنگ سینٹروں اور دیگر عمارتوں پر جلی حروف میں کلمہ طیبہ لکھ دیئے گئے تاکہ کوئی جنونی ان پر سنگ باری نہ کرے۔عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر عوام کو پریشان کرنے والی سرگرمیوں پر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو نظر ثانی کرنی چاہئے۔ کیونکہ اس سے احتجاج کرنے والوں کی ساکھ عوام کی نظروں میں خراب ہوتی ہے خواہ اس کا مقصد عوامی حقوق کے لئے جدوجہد ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے سیاست دانوں کو خود اپنے عظیم تر مفاد میں احتجاج، دھرنوں اور مظاہروں کے طریقہ کار کا ازسرنو تعین کرنا چاہئے۔تاکہ سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور عوامی زندگی بھی متاثر نہ ہو۔

  • error: Content is protected !!