Chitral Times

Dec 8, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پاکستان کے محسن ……………محمد شریف شکیب

    November 30, 2019 at 9:23 pm

    حکومت نے قومی معیشت کے استحکام میں مدد کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا ہے۔ اوور سیز پاکستانیوں کی وزارت کے مطابق گذشتہ دو سالوں کے اندر ایک لاکھ ڈالر یا اس سے زائد رقم پاکستان بھیجنے والوں کو تین ہزار سی سی ہائی برڈ گاڑی ڈیوٹی فری لانے کی اجازت ہوگی۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وزارت رقم بھیجنے والے پاکستانیوں کی فہرست تیار کررہی ہے اور اس پیکج کے حوالے سے وزارت صنعت وپیداوار اور کامرس ڈویژن سے بھی تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کا بنیادی مقصد قومی معیشت کو سہارا دینے میں ان کے کردار کا اعتراف کرنا اور ہنڈی حوالہ کے غیر قانونی کاروبار کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دی جائے گی۔ اور ان کے لئے خصوصی مراعات دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ملک سے باہر پاکستان کی خدمت کرنے والوں کا قومی معیشت میں غیر معمولی کردار ہے۔ یہ لوگ نہ صرف مختلف ملکوں میں محنت مزدوری اور کاروبار کرکے پاکستان میں مقیم اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ ان کی بھیجی ہوئی رقوم سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھتے ہیں اور ملک کو معاشی طور پر استحکام ملتا ہے۔ پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی میں سے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 76لاکھ شہری دنیا کے مختلف ملکوں میں رہتے ہیں۔یہ لوگ نہ صرف وہاں محنت مزدوری کرکے اپنے ملک رقم بھیج کر قومی خدمت سرانجام دیتے ہیں بلکہ جن ممالک میں وہ رہائش پذیر ہیں وہاں بھی گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ کر رہے ہیں۔پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب میں رہائش پذیر ہے جن کی تعداد 19لاکھ سے زائد ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ پاکستانی برطانیہ میں مقیم ہیں جن کی تعداد 15لاکھ 10ہزار 836ہے، متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد 12لاکھ، امریکہ میں 9لاکھ اٹھارہ ہزار سات سو انہتر، اومان میں دولاکھ 35ہزار اور فرانس میں ایک لاکھ 65ہزار ہے۔ایک لاکھ 55ہزار تین سو دس پاکستانی کینیڈا اور ایک لاکھ سترہ ہزار پانچ سو چوالیس کویت میں مقیم ہیں۔قطر میں پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ پندرہ ہزار اور بحرین میں ایک لاکھ بارہ ہزار ہے۔ملائشیا میں ایک لاکھ دس ہزار، اٹلی میں بھی ایک لاکھ دس ہزار، جنوبی افریقہ میں ایک لاکھ اور یونان میں 90ہزار پاکستانی مقیم ہیں،81ہزار چارسو تیرہ پاکستانی سپین، 72ہزار جرمنی،70ہزار افغانستان اور 65ہزار پانچ سو تھائی لینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔آسٹریلیا میں بسنے والے پاکستانیوں کی تعداد 60ہزار، ناروے میں 42ہزار، نیدر لینڈ میں 40ہزار اور ڈنمارک میں 35ہزار ہے،ایران میں 18ہزار پانچ سو، بلجیم میں چودہ ہزار پانچ سو،چین میں چودہ ہزار، اردن میں بارہ ہزار،جنوبی کوریا میں دس ہزار چار سو اور جاپان میں دس ہزار تین سو پاکستانی مقیم ہیں۔نیوزی لینڈ میں پاکستانیوں کی تعداد 9ہزار، سوئزرلینڈ میں چار ہزار پانچ سو پچھتر،روس میں دو ہزار آٹھ سو اور بھارت میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد 761ہے،ترکی میں 400، برازیل میں 200 اور میکسیکو میں بھی 200پاکستانی مقیم ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پاکستانیوں کی کافی تعداد رہتی ہے۔ جن میں عراق، شام، مصر، لیبیا، آسٹریا، تنزانیہ، مراکش، تیونس وغیرہ شامل ہیں۔یہ تعداد ان پاکستانیوں کی ہے جو باقاعدہ دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک گئے ہیں اور وہاں سے سال دو سال بعد وطن واپس آتے رہتے ہیں، بغیر دستاویزات کے چوری چھپے بیرون ملک جانے اور سیر کے لئے جاکر دوسرے ملکوں میں غائب ہونے والے پاکستانیوں کی تعدادبھی لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں سے زیادہ تر روزگار کے لئے وہاں گئے ہیں اور کچھ تعلیم اور کاروبار کے لئے جانے کے بعد وہیں کے ہوکر رہ گئے تاہم یہاں اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے ساتھ ان کا رابطہ اور تعلق قائم ہے۔ان کی معاشی کفالت اور تعلیم و تربیت میں وہ بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیرون ملک سے سرمایہ لاکر پاکستان میں کاروبار کرنے والے شہریوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ بلاشبہ بیرون ملک محنت مزدوری کے لئے جانے والے پاکستانی اس ملک کا اثاثہ ہیں وطن کی مٹی کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش اور قابل تحسین ہیں حکومت نے ان کی قومی خدمات کا پہلی بار انعام دے کر اعتراف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو قابل اطمینان ہے۔

  • error: Content is protected !!