Chitral Times

Dec 8, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مکھی کی 86 آنکھیں ، لیکن ۔۔۔۔۔ قادر خان یوسف زئی

    November 29, 2019 at 6:19 pm

    کمال یہ نہیں کہ نکتہ نگاہ کیا ہے، بلکہ اہمیت اس کی ہے کہ نکتہ نظر کیساہے۔ اس حوالے سے کئی معاملات ایسے ہیں جس پر سیر حاصل بحث کی جا سکتی ہے اور ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی بے سود کوشش بھی کرسکتے ہیں، لیکن پھر اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ سمندر کو کوزے میں بند کرنے اور ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا کیا فائدہ۔ انہی خیالوں میں غلطاں تھا کہ گل خان نے دوڑے دوڑے میرے پاس آنے کے بجائے مِس کال دے ماری، یہ گل خان کی بڑی خطرناک عادت ہے کہ مِس کال بھی ایک بار ہی دیتا ہے، اگر اس پرریپلائی نہیں ملے تو غصہ ہوجاتا ہے اور فون پر قبضہ کرلیتا ہے کیونکہ اسے میری کمزوری معلوم ہے،میں بڑا سادہ سا انسان ہوں، بس اللہ میاں کی گائے سمجھ لیں، جھٹ سے پہنچ کر سلام کے بعد خیریت درریافت کی توانہوں نے پٹ سے کہاکہ وہ کون سا شعر ہے جس میں نسیم کا ذکر ہے، میں نے عاجزی سے کہا کہ شعر و شاعری چھوڑیں، نسیم حجازی کے ناول کہیں تو ایک ایک کرکے لا بھی سکتا ہوں، کہنے لگے نہیں، تم نسیم کے بارے میں بتاؤ، اس موقع پر یہ خیال آیا کہ اب نسیم نے کیا کردیا،پتہ نہیں مسئلہ کیا ہے۔ بالاآخر میں نے پالش شدہ بوٹ ایک طرف کرتے ہوئے عرض کی کہ۔۔
    جرأت تو دیکھئے گا نسیم بہار کی
    یہ بھی بلائیں لینے لگی زلف یار کی
    .
    گل خان کے ردعمل پر مکمل توجہ تھی، لیکن وہ گم صم اور خاموش تھا، میں نے کھانس کر شوشہ چھوڑا، تب چونکے اور بہت دل گرفتہ ہوکر بولے، یارا، تم نے نسیم کے ساتھ بہار کا ذکر کیوں کیا، یہ اچھا نہیں لگا۔ میرے تو سر کے اوپر سے سب کچھ گزر رہا تھا کہ آج گل خان کو کیا ہوگیا ہے، کچھ کہنے سے گھبرارہاتھا،لیکن ڈرتا ورتا کسی سے نہیں۔ گل خان نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا وقت بھی ہم پر آنا تھا، میں نے خاموشی کو ترجیح دی،”ایک چپ سو سکھ والی ٰ“ضرب المثل اس وقت بہت کام آرہی تھی۔ تھوڑے توقف کے بعد گویا ہوا۔ تمھیں پتاہے کہ آج کیا ہوا ہے اور کل اورپھر پرسوں کیا ہوگا، میں نے نفی یں سر ہلادیا، لیکن وہ نہ جانے کیوں غصہ ہوگیاکہ خانہ خراب جواب دو، اس طرح کام نہیں چلے گا، خاموشی اب نیم رضا مندی نہیں سیدھی ساد ی’ہاں“ بھی ہوتی ہے۔ میں نے فوراََ جواب دیا کہ جی۔ نہیں۔۔ معلوم۔۔۔، گل خان نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگے، تم کیسے لوگ ہو، جو چیز تمھیں معلوم ہونا چاہیے اس کا تمھیں علم نہیں، اور جس کی تمھیں خبرنہیں ہوتی، وہاں ”ذرائع باجی“ کو آگے کردیتے ہو،میں نے مسکان سے لی گئی مسکراہٹ کوقابو کیا، گالوں پر لالی آئی یا نہیں مجھے نہیں معلوم، کیونکہ مجھے علم تھا کہ میرا چہرہ قوس و قزح کا منظر پیش کررہا ہوگا، کیونکہ گل خان کو کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔انہوں نے میرا فون واپس کیا کہ جاؤ، ٹک ٹاک دیکھو، تمھیں جب کچھ معلوم ہی نہیں بات کرنے کا کیا فائدہ۔ میں نے پہلی فرصت میں اپنا فون واپس لیا، سیکورٹی کے سارے آپشن میرے فون میں تھے، فیس سیکورٹی،فنگر پرنٹ، آئی سیکورٹی اور ڈیجیٹل کوڈ، اطمینان ہوا کہ کچھ گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ گل خان یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا، کہنے لگا کہ تم واقعی اللہ میاں کی گائے ہو، ان تمام سیکورٹیوں کا فائدہ؟۔
    .
    کہا تو سچ تھا کیونکہ جب بھی ضرورت ہوتی تو وہ سیکورٹی کے تمام آپشن آسانی سے استعمال کرالیتا۔ فون کے سامنے میرا بجھا ہوا چہرہ آگے کردیتا، میری چھوٹی انگلی کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں دبوچ کر فنگر اسٹیپ اس طرح استعمال کرتا جیسے، اسٹامپ پیپر پر دائیں بازو کو پکڑ کر انگوٹھا لگوانا، پھر چشمے اُتروا کر میری دور بیں سوچ کی بائیں آنکھ سے کام لیتا اور پھر کہتا کہ چلو شروع ہوجاؤ اور میں الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کا سب کیا دھرا اس کے سامنے رکھ دیتا، گل خان ہمیشہ مجھے لاجواب کردیتا تھاکہ اتنی محنت کس لئے؟۔ گل خان نے ایک پتے کی بات بھی کہی کہ مکھی کی چھیاسی آنکھیں ہوتی ہیں اور ہر آنکھ میں کئی عدسے ہوتے ہیں، لیکن ’ان آنکھوں کا کیا فائدہ کہ پھر بھی گند پر بیٹھے‘۔بات تو میرے سمجھ میں آگئی تھی کہ پھر کوئی اپنی غلطی کودرست کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے بعد گل خان جو شروع ہوا تو مجھے پھر سمجھ میں آیاکہ یہ نسیم اور بہار کا جھگڑا کیا تھا۔ اب نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کے مصداق میری حالت تھی۔
    گلے لگا کے مجھے پوچھ مسئلہ کیا ہے
    میں ڈر رہا ہوں تجھے حال دل سنانے سے
    .
    ان خیالات میں گم تھا کہ اچانک ملک صاحب کا فون آگیا۔ کہنے لگا کہ گل خان کو کہو کہ میرے پاس آجائے، سب آتے ہیں، وہ کب آئے گا، میں نے دانت پیستے ہوئے کہا کہ انتظار کریں، لیکن تم مجھے کیوں فون کرتے ہو، براہ راست بات کرلیا کرو ناں، ملک صاحب ہنسنے لگے، ہنس ہنس کر جب تھک گئے تو کہا کہ گاڑی بغیر ٹائروں کے کبھی نہیں چلتی، تم جیسے نہ جانے کتنے میری فائلوں کے پہیے ہیں، میں نے چھینپ کر گل خان کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے جلدی سے فون بند کردیا۔
    .
    قصہ مختصر کہ مکھی کی 86آنکھیں بے شک ہوں، لیکن انسان ہونے کے ناطے ہمیں مکھی کی طرح گند پر بیٹھنے کی عادت ختم کرنا ہوگی، ہر منفی پہلو میں بھی مثبت خبر کی تلاش پہلے کرنی چاہیے۔ قرآن کریم میں رب کریم کا فرمان ہے کہ ”اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے،(سورہ حج73:74)۔ گل خان نے مکھی کی منفی خصلت یہ تو بتا دی گئی کہ 86آنکھیں رکھنے کے باوجود گند پر پھر بھی بیٹھتی ہے لیکن میں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ مکھی کی آنکھیں چھ ضلعی عدسوں سے بنتی ہیں۔ایک عام عدسے کی نسبت ان سے زیادہ وسیع وعریض علاقے کو دیکھا جاسکتا ہے۔کچھ مکھیوں میں ان عدسوں کی تعداد بعض اوقات 5ہزار بھی ہوتی ہے۔ اس کی آنکھ کی گولائی میں بنی ہوئی ساخت اسے اپنے پیچھے بھی دیکھ لینے میں مدد دیتی ہے۔یہ آنکھ یوں اسے اپنے دشمنوں پر بڑی فوقیت دے دیتی ہے۔ مکھیاں جس مقام پر بھی بیٹھتی ہیں وہاں بیٹھنے سے پہلے ہی کسی حملے کی صورت میں فرار کا راستہ تلاش کر لیتی ہیں۔ گل خان کو جب میں نے مکھی کے دوسرے پہلو سے آگاہ کیا تو اب حیران ہونے کی باری اُس کی تھی، مجھے یقین ہے گل خان دوبارہ86آنکھوں والی مکھی کا طعنہ نہیں مارے گا۔

  • error: Content is protected !!