Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں گلگت سے چترال سمیت 1270 کلومیٹر شاہراہیں تعمیرکئے جائینگے

Posted on
شیئر کریں:

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں 1270 کلومیٹر طویل شاہراہیں تعمیر کی جائیں گی،سی پیک اتھارٹی حکام
اسلام آباد (آئی آئی پی) چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں 1270 کلومیٹر طویل شاہراہیں تعمیر کی جائیں گی۔ سی پیک اتھارٹی حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیزکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شاہراہوں کا یہ ڈھانچہ گلگت سے چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب تک تعمیر کیاجائے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو فروغ ملے گا۔ چین اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے حوالے سے ایک عملی نمونہ ہے۔
………………………..
موجودہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سازگارپالیسیوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کررہی ہے، ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبہ موجودہ صدی کی تقدیر بدل دے گا،حکام سی پیک اتھارٹی
اسلام آباد (چترال ٹائمزرپورٹ) موجودہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سازگارپالیسیوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کررہی ہے، ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبہ موجودہ صدی کی تقدیر بدل دے گا جس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اہم منصوبہ ہے۔ سی پیک اتھارٹی کے حکام کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری سے ملک میں توانائی کے شدید بحران پرقابو پانے میں مددملی ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لئے بجلی کی بلاتعطل فراہمی ضروری ہے۔ رشکئی خصوصی اقصادی زون سی پیک کے تحت قائم کیاجانے والا اقتصادی زون ہوگا جس کاآئندہ چھ ہفتوں میں سنگ بنیاد رکھاجائے گا۔
….
سی پیک پاکستان اور چین کی اولین ترجیح ہے، حقیقت پر مبنی معلومات سے منفی پراپیگنڈے کا ازالہ کرنا ہے،سی پیک کا اگلا مرحلہ صنعتی تعاون کو فروغ دے گا،پاکستان میں چین کے سفیر یا جنگ
اسلام آباد (چترال ٹائمزرپورٹ) پاکستان میں چین کے سفیر یا جنگ نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اور چین کی اولین ترجیح ہے، حقیقت پر مبنی معلومات سے منفی پراپیگنڈے کا ازالہ کرنا ہے،سی پیک کا اگلا مرحلہ صنعتی تعاون کو فروغ دے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کوپاک چائنا انسٹیٹیوٹ کے 5 ویں میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی زونز کے قیام، تعلیم اور زراعت سمیت دیگر شعبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اورتوانائی سمیت شاہراہوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی۔ چینی سفیر نے کہاکہ دونوں ممالک کے تعاون سے یہ منصوبہ کامیابی کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت چینی اور پاکستانی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک خصوصی طور پر اقتصادی تعاون کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پر پیشرفت کے بارے میں دونوں ملکوں میں مکمل اتفاق رائے ہے۔ سی پیک کا مقصد پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ سی پیک کا اگلا مرحلہ صنعتی تعاون کو فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایمیسیڈر ایلس ویلز کے بجلی ٹیرف کے زیادہ ہونے کے بیان کو سن کر حیرت ہوئی، سی پیک کے بارے میں کرپشن کی بات کرنا آسان ہے جب آپ کے پاس درست معلومات نہ ہوں، سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے نیب سمیت تمام نے چیک کیا ہے، کوئی کرپشن سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ تمام منصوبوں میں مکمل شفافیت پائی گئی۔ ایلس ویلز نے ایم ایل ون پر بھی بات کی،ایم ایل ون ریلوے منصوبہ کی لاگت 9 ارب ڈالر ہے، یہ صرف ایک تخمینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلی حکام کو ایم ایل ون کے تخمینے پر بات نہیں کرنی چاہئے تھی، یہ ان کے دفتر کے آداب کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں، جاری 20 منصوبوں میں 75ہزار سے زائد پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک مشترکہ فائدے کا منصوبہ ہے، 170 ممالک اس کا حصہ ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ سی پیک چین کی حکومت کی اولین ترجیح ہے، میڈیا حقیقت دیکھے، اس کے فوائد دیکھے اور منفی پراپیگنڈے کو نظر انداز کرے۔
دریں اثنا چینی سفیر نے وفاقی وزیر اسد عمر سے ملاقات کی اورسی پیک کے تمام منصوبوں‌کو بروقت مکمل کرنے کی عزم کا اظہارکیا.

chinese ambasider
Federal Minister for Planning, Development & Reform Asad Umar talking to Ambassador of China to Pakistan, Yao Ying, who called on him in Islamabad on November 22, 2019.


شیئر کریں: