Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم کا فارمولہ …….تحریر: محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کے وزیراعلیٰ ہاوس کے باہرترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر احتجاجی دھرنے کے بعد صوبائی حکومت نے مسئلے کا افہام و تفہیم کے ساتھ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعلیٰ سے اپوزیشن رہنماوں کی ملاقات میں یہ طے پایا کہ حکومت اور حزب اختلاف کی طرف سے پارلیمانی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو مل بیٹھ کر ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا فارمولہ اور طریقہ کار طے کریں گی۔ حکومتی کمیٹی میں صوبائی وزراء شوکت یوسف زئی، اکبر ایوب، قلندر لودھی اور سلطان خان شامل ہیں جبکہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی سردار حسین بابک، میاں نثار گل، شیر اعظم وزیر، اورنگزیب نلوٹھا اور عنایت اللہ پر مشتمل ہے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن نگہت اورکزئی کمیٹی میں خواتین کی نمائندگی کریں گی۔اپوزیشن اراکین اسمبلی اس سے قبل دو مرتبہ وزیراعلیٰ ہاوس کے باہر ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کرچکے ہیں۔ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مفاہمت خوش آئند ہے۔یہ ہمارا قومی المیہ رہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر جس پارٹی کی حکومت بنتی ہے۔ وہ قومی خزانے پر صرف اپنا حق جتاتی ہے۔ یہ الزام تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت پر ہی نہیں، سندھ میں پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ،بلوچستان میں قوم پرست علاقائی جماعتوں اور خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کی حکومتوں پر بھی ایسے الزامات لگائے جاتے رہے۔پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں اراکین اسمبلی کے ترقیاتی اور صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جس پر چھ سال گذرنے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اقتدار میں آنے والی ہر پارٹی ترقیاتی فنڈز کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرتی رہی ہے۔ یہ ایک سیاسی روایت بن گئی ہے کہ ووٹ لینے اور حکومت میں آنے کے بعد عوامی نمائندے عوام کی نظروں سے اچانک اوجھل ہوجاتے ہیں جب انتخابات کا موسم قریب آتا ہے تو وہ پھر نمودار ہوتے ہیں۔عوام سے رابطے شروع کرتے ہیں۔غمی خوشی کی تقاریب میں نظر آتے ہیں۔دل کھول کر ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کرتے ہیں اپنے سپورٹرز اور ووٹرز کو انفرادی طور پر بھی نوازتے رہتے ہیں۔ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا کوئی جامع نظام نہ ہونے کی وجہ سے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز اور ایم این ایز ایوان میں ترقیاتی فنڈز نہ ملنے اور امتیازی سلوک کا رونا روتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں قومی مالیاتی کمیشن نے وسائل کی وفاق اور صوبوں میں تقسیم اور مختلف محکموں کو ترقیاتی فنڈز کے اجراء کا ایک قابل عمل نظام وضع کیا تھا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت وفاق سے بعض محکمے صوبوں کے اختیار میں دیئے گئے تھے۔ اور یہ طے پایا تھا کہ ان محکموں کے تمام وسائل بھی صوبوں کو منتقل کئے جائیں گے۔ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کے فارمولے کے تحت صوبوں کو پابند بنایاگیا تھا کہ وہ صوبائی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان کریں اور ترقیاتی فنڈز آبادی کے ساتھ علاقے کی پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم کریں۔ مگر اٹھارویں ترمیم پر اس کی اصل روح کے ساتھ عمل درآمد اب تک نہیں ہوسکا۔مالیاتی کمیشن کا اجلاس بلانے سے وفاقی حکومتیں کتراتی رہی ہیں اور وسائل کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی میں بھی دانستہ تاخیری حربے استعمال کرتی رہی ہیں۔ مرکز سے مالی حقوق نہ ملنے کی وجہ سے صوبے بھی اپنا مالیاتی ایوارڈ اضلاع کو نہیں دے سکے۔ایک خوش آئند امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا ہمیشہ تعمیری تبدیلیوں میں پیش پیش رہا ہے۔ اس بار بھی مالیاتی وسائل کی تمام اضلاع میں منصفانہ تقسیم پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے دیگر صوبوں کے لئے بھی قابل تقلید ہے۔ توقع ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مذاکراتی ٹیموں کے طے کردہ فارمولے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کرے گی۔ تاکہ دور افتادہ اور پسماندہ اضلاع اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین کے ووٹرز کو بھی صوبائی وسائل میں ان کے حصے کے حقوق مل سکیں کیونکہ وہ بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور ان کا قومی وسائل پر اتنا ہی حق ہے جتنا دوسروں کو ہے۔۔ ساتھ ہی ایسا جامع اور مربوط نظام وضع کیا جائے کہ آئندہ کی حکومتیں بھی اس فارمولے سے روگردانی نہ کرسکیں۔ قومی وسائل پوری قوم پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق تقسیم کرنے کا جامع طریقہ کار وضع کیا گیا تو اس کا سہرا بھی بلاشبہ موجودہ حکومت اور وزیراعلیٰ محمود خان کے سر ہوگا۔


شیئر کریں: