Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

متبادل توانائی ایک انقلابی پالیسی ہے،2030تک زیادہ ترکلین اورگرین انرجی ہوگی، عمر ایوب

Posted on
شیئر کریں:

پچھلی حکومت نے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ متبادل توانائی کے منصوبے ختم کئے جو ہم نے بحال کئے، حکومت سستی اور ماحول دوست بجلی پر ترجیح دے رہی ہے، متبادل ذرائع سے 2025تک 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہمارا ہدف ہے، 2030تک زیادہ تر کلین اور گرین انرجی ہوگی، وفاقی وزیرتوانائی و پٹرولیم عمر ایوب خان
.
اسلام آباد (آئی آئی پی) وفاقی وزیرتوانائی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہاہے کہ متبادل توانائی ایک انقلابی پالیسی ہے، پچھلی حکومت نے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ متبادل توانائی کے منصوبے ختم کئے جو ہم نے بحال کئے، حکومت سستی اور ماحول دوست بجلی پر ترجیح دے رہی ہے، متبادل ذرائع سے 2025تک 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہمارا ہدف ہے، 2030تک زیادہ تر کلین اور گرین انرجی ہوگی، متبادل توانائی کے شعبہ میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، سستی بجلی پیدا ہونے سے صنعتی سرگرمیوں اور برآمدات کو فروغ حاصل ہو گا، نیلم جہلم سرچارج بھی جلد ختم ہو گا، 80 فیصد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کر دی ہے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ متبادل توانائی ایک انقلابی پالیسی ہے، پالیسی کے نفاذ سے مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی، مسلم لیگ (ن) کے دور میں 17 روپے یونٹ مہنگی بجلی بنائی گئی، ہمارا ہدف ہے کہ 2025تک 8 ہزار میگاواٹ بجلی متبادل ذرائع سے پیدا ہو گی جبکہ 2030تک 20 ہزار میگاواٹ بجلی کلین اور گرین انرجی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سستی بجلی پیدا ہونے سے صنعتی سرگرمیوں اور برآمدات کو فروغ حاصل ہو گا، متبادل توانائی کے شعبہ میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، سولر کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے سولر پینلز تیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، گزشتہ سال کے مقابلہ میں ریونیو میں 229 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، بجلی کی چوری روکنے اور کارکردگی بہتر بنانے سے 111 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سستی اور صاف بجلی ہے، ماحول دوست توانائی ہے، اس میں پن بجلی اور ہائیڈل شامل نہیں ہے، 2030تک 65 فیصد تک توانائی ماحول دوست ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سستی توانائی سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا، برآمدات بڑھیں گی، اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 700 ملین ڈالر 12 ونڈ پاور میں آ گئے ہیں، سولر پینلز اور ونڈ پاور کی ٹربائنز کی تیاری کے پلانٹ پاکستان میں لگیں گے، 80 فیصد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کر دی ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ فنانس بل میں مینوفیکچرنگ کیلئے مراعات دی ہیں، اس پالیسی میں مستقبل میں بجلی کی قیمت نیچے آئے گی، ماحول دوست بجلی مہیا ہو گی، کاروبار بڑھے گا، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، روزگار پیدا ہو گا اور برآمدات بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ متبادل توانائی کے منصوبے ختم کئے ہم نے ان کو بحال کیا، وزیراعظم کی قیادت میں حکومت سستی اور ماحول دوست بجلی پر ترجیح دے رہی ہے، متبادل توانائی کی پالیسی متفقہ مفادات کی کونسل میں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں اس حوالہ سے پہلے سے مکمل اتفاق رائے ہے، ہمارا مقصد لوگوں کے بجلی بلوں میں کمی ہے، 8800 میں سے 7200 سے زائد فیڈرز لوڈ شیڈنگ فری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت ملک میں مہنگی ایل این جی کے منصوبے لانا چاہتی تھی، متبادل توانائی کی یہ پالیسی مشترکہ مفادات کونسل میں لے کر جائیں گے، وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ توانائی کے شعبے میں انقلاب آنا چاہئے، کارکے پر حکومت نے پیسے نہیں دیئے اس پر خوشخبری دیں گے، پالیسی سے مستقبل میں بجلی کی قیمتیں نیچے آئیں گی۔
………………..
.
سولر پینلز کی تیاری کے لیے3 کمپنیوں جبکہ ڈنمارک نے ونڈ پاور ٹربائن کی پاکستان میں تیاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، متبادل توانائی کی پالیسی کی تیاری کیلئے تمام فریقین اور شراکت داروں سے مشاورت کی گئی ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر
.
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ سولر پینلز کی تیاری کے لیے3 کمپنیوں جبکہ ڈنمارک نے ونڈ پاور ٹربائن کی پاکستان میں تیاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، متبادل توانائی کی پالیسی کی تیاری کیلئے تمام فریقین اور شراکت داروں سے مشاورت کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ متبادل توانائی کی پالیسی 2019 جو کابینہ سے منظور کی گئی ہے بارے 6 ماہ تمام فریقین اور شراکت داروں سے مشاورت کی، اس میں صوبائی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس پالیسی میں اپ فرنٹ ٹیرف کا طریقہ کار ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا کم ترین ٹیرف ہوگا اس کو معاہدہ ملے گا، پہلی مرتبہ 25 سال کا جنریشن پلان بنایا ہے اس پر مبنی ہر سال آکشن کریں گے، اس پالیسی میں توانائی سمیت توانائی کے آلات کی تیاری پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 3 کمپنیوں نے سولر پینلز کی تیاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جبکہ ڈنمارک نے ونڈ پاور ٹربائن کی پاکستان میں تیاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں بے شمار چیزیں ہیں کہ آنے والے وقت میں بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کے ساتھ ماحول دوست توانائی کی پیداوار بڑھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پالیسی سازی بند کمروں کے بجائے اوپن ہو گی،انھوں نے توقع ظاہر کی کہ ہائیڈل اور متبادل ذرائع سے 2030 تک 52 فیصد متبادل توانائی دستیاب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مشینری کی پیداوار کے حوالہ سے اقدامات کو پالیسی میں شامل کیا گیا ہے، بجلی کی ترسیل کیلئے انٹر کنکشنز پوائنٹس کی نشاندہی اور بڈنگ کی جائے گی اس کے علاوہ بجلی کی پیداواری لاگت کو مستقبل میں کم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پالیسیاں مرتب کرنے میں مشاورتی عمل محدود تھا، متبادل توانائی منصوبوں میں کپیسٹی پیمنٹ نہیں دینی پڑے گی۔


شیئر کریں: